گلوبل وارمنگ کے عالمی اسباب

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان کے دورہ پر ہیں، انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی تباہی تصور سے زیادہ ہے، گلوبل وارمنگ دوسروں کی غلطی جبکہ سزا پاکستان بھگت رہا ہے، سیکرٹری جنرل نے کہا کہ سیلاب زدگان کی بحالی میں مدد کی جائے، قدرتی آفات سے لڑنا ممکن نہیں مگر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات ہو سکتے ہیں۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے باعث انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، پاکستان میں سیلاب سے جو تباہی دیکھی ہے دنیا میں کسی بھی آفت کے دوران اتنی تباہی نہیں دیکھی، اس صورتحال کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، انتونیو گوتریس کے مطابق کاربن کے پھیلائو میں جی20ممالک کا حصہ80فیصد ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آگے آنا چاہئے اور صنعتی ممالک کو بدترین کاربن کے اخراج میں کمی کرنی چاہئے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ1982ء سے موسمیاتی تغیرات کے خطرات پر کانفرنسیں اور سیمینار ہو رہے ہیں، ماہرین ارضیات اور سائنسدان نامیاتی ایندھن کو موسمیاتی تبدیلی کی اہم وجوہات قرار دیتے ہیں،اس نامیاتی ایندھن میں تیل،گیس اور کوئلہ شامل ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں چونکہ صنعتیں اور فیکٹریاں و کارخانے زیادہ ہیں، اس لئے وہاں پر نامیاتی ایندھن کا استعمال بھی زیادہ ہوتا ہے، جس سے فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے جو بعد ازاں موسمیاتی تبدیلی کا باعث بنتی ہے، امریکہ اور یورپی ممالک میں صنعتی ترقی کی دوڑ لگی ہوئی ہے، اس کے برعکس ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک صنعتی ترقی میں بہت پیچھے ہیں، ترقی پذیر ممالک میں کاربن کا اخراج بیس فیصد سے کم ہے، اگر پاکستان کی بات کی جائے تو کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ بنتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک توانائی کے متبادل ذرائع پر منتقل ہو رہے ہیں، شمسی توانائی اور پن بجلی کے متبادل ذرائع پر بھاری اخراجات آتے ہیں، ترقی پذیر ممالک ان اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے ترقی پذیر ممالک کا مطالبہ ہے کہ جس طرح گزشتہ دو سو برسوں میں ترقی یافتہ ممالک نے نامیاتی ایندھن استعمال کر کے ترقی کی منازل حاصل کی ہیں ویسے ہی انہیں بھی نامیاتی ایندھن استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہئے، دوسری اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ چالیس برسوں سے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات پر آگاہی کے باوجود عالمی برادری کسی متفقہ حل پر جمع نہیں ہو سکی ہے، بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی مہم میں امریکہ شامل نہیں ہے، امریکہ کے متعدد صدر ماحولیات پر ہونے والی کانفرنسوں کا بائیکاٹ کر چکے ہیں، حالانکہ امریکہ میں سب سے زیادہ صنعتیں ہونے کی وجہ سے نامیاتی ایندھن زیادہ استعمال ہوتا ہے، بلکہ امریکہ بڑے پیمانے پر نامیاتی ایندھن برآمد بھی کرتا ہے۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ امریکی سائنسدان موسمیاتی تبدیلی پر الگ مؤقف رکھتے ہیں، امریکی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ کے خطرات نہیں بلکہ برف کا حجم بڑھ رہا ہے،آنے والے برسوں میں زمین کا بڑا حصہ برف کی لپیٹ میں آ جائے گا، البتہ امریکہ میں یہ سوچ ضرور پائی جاتی ہے کہ صنعتوںکا وسیع دائرہ قدرتی ماحول کو خراب کر رہا ہے اس لئے ان کی کوشش ہے کہ جن صنعتوں کو ملک سے باہر لگا کر اجرت پر کام کرایا جا سکتا ہے، انہیں ملک سے منتقل کر دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دہائی میں امریکہ کی صنعتیں چین منتقل ہو رہی ہیں، ظاہر یہ کیا جا رہا ہے کہ چین میں لیبر سستی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اپنے ملک کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کیلئے صنعتوں کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کا یہ دہرا معیار موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز پر قابو پانے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا دورہ پاکستان نہایت اہمیت کا حامل ہے،انہوں نے سیلاب زدگان کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی ہے، یقیناً عالمی سطح پر سیکرٹری جنرل کی بات کو توجہ دی جائے گی اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے پاکستان کو وسیع فنڈز ملنے کی توقع ہے، جسے سیلاب متاثرین کی بحالی پر خرچ کرنا ہماری ذمہ داری ہوگی،اسی طرح فنڈز کی تقسیم میں شفافیت کو یقینی بنانا تاکہ آڈٹ ہو تو ہمیں سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس ضمن میں وزیر اعظم شہباز شریف کے اقدامات قابل تعریف ہیں، کیونکہ انہوں نے پہلے ہی حکم دے دیا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے جمع ہونے والے فلڈ ریلیف فنڈ2022کا آڈٹ ہو گا اور اس کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔19ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے، جس میں وزیر اعظم شہباز شریف مختصر وفد کے ہمراہ شریک ہوں گے، جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف،وزیر خارجہ بلاول بھٹو،وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب شامل ہوں گے،24ستمبر کو جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم کا خطاب متوقع ہے، امید ہے وزیر اعظم اپنے خطاب میں سیلاب زدگان کی مشکلات اور سیلاب کی عالمی وجوہات کو نمایاں طور پر بیان کریں گے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے پاکستان کا دورہ کر کے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے اب باقی کام ہمیں خود کرنا ہوگا، امید کی جانی چاہئے کہ ارباب اختیار موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے بچنے کیلئے تمام وہ اقدامات اٹھائیں گے جن کی ضرورت ہے۔

مزید دیکھیں :   سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا سروے کرنے میں تاخیر