غصہ ہمیںکیوں آتا ہے؟

اُن کو آتا ہے پیار پرغصہ
ہم کو غصے پہ پیار آتا ہے
صورتحال اگر اس شعر والی ہو تو شاید غصہ اتنی بری چیز بھی نہیں۔مگر اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا ۔ اوریوںبھی ہر کسی سے تو محبت ہوتی نہیںاور اب تو محبتیں بھی اپنے معیار بدل چکی ہیں ۔لیلیٰ مجنوں ،شیریں فرہاد والی کہانیاں اب کون پڑھتا ہے ۔بقول شاہ سعود
محبت سرسری قصہ نہیں ہے
ذرا تفصیل میں جانا پڑے گا
ایک آدمی کی نئی نویلی کار پر اس کے چار سالہ بچے نے پتھر سے لکیریں ڈال دیں ،باپ نے کار کا یہ حشر دیکھا تو اپنے بچے کواس بری طرح پیٹاکہ اسے احساس تک نہ رہاکہ اس کے ہاتھ میں رینچ ہے۔ہسپتال میں بچے کی ٹوٹی انگلی کی تکلیف باپ سے نہ دیکھی گئی وہ باہرنکلا اور گاڑی کوغصے میں لاتیں مارنے لگا۔تو اس نے دیکھا کہ بچے نے گاڑی پر ٹیڑھے میڑھے حرفوں سے ”آئی لو یو پاپا ” لکھا تھا۔یعنی محبت اور غصے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔گویا کہ جذبے شعورکو اندھا کر دیتے ہیں۔ محبت اور غصہ انسانوں اور جانوروں دونوں میں یکساں پایا جاتا ہے۔انسان اور جانور محبتوں کا اظہار اپنے اپنے طریقے سے کرتے ہیں۔جبکہ جانور غصے کا اظہارلاتوں دانتوں اور سینگھوں سے کرتے ہیں۔(ماسوائے گدھے کے جو محبت اور غصے دونوں کا اظہارلات سے ہی کرتا ہے)جبکہ انسان غصے کا اظہار لاتوں ، گھونسوں،گالیوں اور غیبت اور سازش وغیرہ جیسے انسانی طریقوں سے کرتا ہے۔غصہ ایک جذبہ ہے اور جذبے سیال یا مائع کی طرح اپنا نقطئہ جوش یا بوائلنگ پوائنٹ رکھتے ہیں۔عموماًہمار ے جیسے محرومیوں سے پُر معاشرے میںجذبے ہلکی آنچ پر دھرے رہتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ ہم غصہ نکالتے کس پر ہیں؟۔یقیناً اس پر جو ہم سے کمزور ہو۔مثلاً ایک دفترکے ملازم کو اس کے باس نے (جو صبح بیگم کی جھڑکیاں کھا کر نکلا ہے)بلاجواز غصے کئے(جو باس کے فرائضِ منصبی میں قطعاًشامل نہیں تھے)۔وہ ملازم گھر پہنچ کر اپنا انتظار کرتی بیوی کو برا بھلا کہتا ہے ۔اچھے خاصے کھانے کی پلیٹ صحن میں گرا کر غصے میں لال پیلاہوکر سے گھر کے باہر نکل جاتا ہے۔غصے اور حزیمت میں سرشاربیوی اپنی بیٹی کو تھپڑ رسید کرتی ہے کہ اس نے اب تک یونیفارم کیوں تبدیل نہیں کیا ۔بیٹی پھنکارتی ہوئی چھوٹے بھائی کی جانب بڑھتی ہے،اور اسے کمر پر ایک مکا رسید کرتی ہے کہ اس نے اس کی گڑیا کے بال کیوں نوچے۔ننھا بھائی مٹھیوں کو بھینچ کر اٹھتا ہے، اِدھراُدھر دیکھتا ہے،اسے کچھ نظر نہیں آتا تو زمین پر بیٹھی اپنی پالتو بلی کو ایک لات رسید کردیتا ہے۔بیچاری بلی ہڑبڑا کر اٹھتی ہے۔ننھے کو گھور کر دیکھتی ہے اور میاؤں میاؤں کرتی کمرے سے نکل جاتی ہے۔خدا جانے بلی اپنا غصہ کس چوہے پر کس انداز سے نکالے گی۔مگر یہ بات طے ہے کہ ہم اپنے سے کمزور لوگوںپراپنا غصہ نکالنااپنا فرض سمجھتے ہیں۔یقین نہ آئے تو اسی واقعے کی پڑتال کر لیجئے۔کیا بلی اپنے مالک ننھے بچے کو نوکیلے پنجوں سے زخمی کر سکتی ہے؟اورکیا ننھا اپنی باجی کی چوٹی کھینچ سکتا ہے؟اور کیا چھوٹی بچی اپنی ماں سے کہہ سکتی ہے کہ وہ یونہی ابا کا غصہ اس پر نکال رہی ہے؟اور کیا بیوی اپنے شوہرِنامدار سے کہہ سکتی ہے کہ کھانا تو ٹھیک تھا آپ کے منہ کا ذائقہ درست نہیں؟اور کیا وہ ملازم اپنے باس سے کہہ سکتا ہے کہ قبلہ آپ کیا غلطیوں سے مبرا ہیں؟غصے کا نہ آنا بھی یقیناً نفسیاتی بیماری ہی ہوسکتی ہے۔غصہ ہر نارمل انسان کو آتا ہے ۔پھر ہم کیوں بحث پر تلے ہوے ہیں؟۔تو کیا ہماراغصہ نارمل انسانوں والا ہے۔لیکن ٹھہریے۔گھروں سے باہر بازاروں میں ہم جس عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں کیا وہ نارمل صورتحال ہے۔بس سٹاپ پر کھڑے لوگ بس کے آنے پر کیسے ایک دوسرے کو کہنیاں مار مار کر بس میں سوار ہوتے ہیں۔کیسے ہم ہارن بجا بجا کر ایک دوسرے سے راستہ مانگتے ہیں۔ہر راہگیر دوسرے راہگیر کے لیے مجسم نفرت نظر آتا ہے۔تو کیا ہم دوسرے معاشرے کے لوگوں سے زیادہ غصیلے لوگ ہیں؟اور کیا ہم دوسروں کی جن باتوں پر غصہ ہوتے ہیں،کیا وہی حرکتیں ہم سے خود سرزد نہیں ہوتیں؟تو گویا ہم اوور ری ایکٹ کرتے ہیں۔ مگر کیوں؟غصہ جو کہ ہماری اناسے جنم لیتا ہے۔ہم اپنی انا کی تسکین کے لیے دوسروں پر غصہ نکال لیتے ہیں۔آخر یہ انا ہے کیا؟سادا لفظوں میں انا،ذات یا’میں’کا احساس ہے۔یہی انا صحت مند بھی ہوسکتی ہے اور بیمار بھی۔بلا وجہ غصہ آنے کی وجہ انا کی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔انا کے لئے کم مائیگی کا احساس بہت خطرناک ہوتا ہے۔اور جس مادہ پرست معاشرے میں ہم رہتے ہیں اس میں تو قدم قدم پر یہی احساس ہمارے دامن گیر رہتا ہے۔بہت سی خواہشیں ہم نے اپنے دل میں پال رکھی ہوتی ہیں۔جو کمبخت پوری ہو کے نہیں دیتیں۔ٹیلیوژن پراشتہار یوں دکھائے جاتے ہیں کہ ہم اس شے کی طلب شدت سے اپنے دل میں محسوس کرنے لگتے ہیں۔بہت سی غیر ضروری چیزیں ہماری ضرورتوں میںشامل ہوجاتی ہیں۔طبقاتی بُعد اتنا زیادہ ہے کہ کسی سڑک پر بھاگتی کوئی چمچاتی گاڑی ہماری آنکھوں کو یوں خیرا کردیتی ہے کہ اس کا حصول اپنے لیے غیر محسوس طور لازمی سمجھ بیٹھتے ہیں۔حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ پوری زندگی کی تنخواہ یکمشت ملنے پر بھی یہ گاڑی ہم نہیں خرید سکتے۔پھر بھی سوچنے میں کیا حرج ہے۔ہم سب مڈل کلاس سے وابستہ لوگ اپنے خوابوں میں زیادہ اورحقیقی زندگی میں کم جیتے ہیں۔بہرحال خواب خواب ہی ہوتے ہیں۔خواب میںتو ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں۔اور کچھ نہیں تو چھ کڑوڑ کی لاٹری پر تو ہمارا ہی حق ہوتا ہے۔اور جتنی ہماری خواہشوں کی فہرست لمبی ہوتی ہے اس کے لیے تو یہ لاٹری بھی کم ہے۔بہرحال خواب میں ہم کمپرومائزکر ہی لیتے ہیں۔مگر کیا کیا جائے کہ ہم خوابوں کو حقیقت نہیں بنا سکتے۔اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہم کم مائیگی کا شکار ہوتے ہیں۔اور یوں ہماری پھولی ہوئی انا سے ہوا نکل جاتی ہے۔ اچانک ہم خود اپنی آنکھوں میں حقیر ہوجاتے ہیں۔اور یوں ہمارے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ ہم کسی اور پر غصہ کر کے اسے خود سے بھی حقیر قراردے دیں۔تاکہ ہمارا احساسِ برتری بحال ہوجائے۔دراصل مادہ پرست معاشروں میں قناعت عنقا ہوجاتی ہے ورنہ قناعت انسان کو ایک اطمینان بخش کیفیت میں لے جاتی ہے۔اور یوں انسان کی انا بیماری سے بچ جاتی ہے۔

مزید دیکھیں :   ایشیا میں موروثی سیاست کا دنگل