ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں

چند روز قبل ایک دوست کے ہاں جانا ہوا تو وہ افسردہ تھے اور ان کی باتوں میں قدرے غصہ بھی تھا۔ اُن کے بیٹے نے سرکاری محکمہ کی ایک اسامی کے تحریری امتحان اور اپنی تمام تعلیمی اسناد کی بنیاد پر میرٹ لسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی مگر انٹرویو میں اُسے بہت کم نمبر دے کر ایک بااثر شخصیت کے عزیز کا انتخاب کیا گیا۔ ایک باپ ہونے کی وجہ سے ان کی افسردگی اور ایک پاکستانی شہری کی حیثیت میں ان کا کڑھنا جائز تھا۔وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اس بار ہم نے پاکستان کی 75 ویں سالگرہ نہیں منائی وگرنہ ان کے گھر والے ہر سال آزادی کا جشن خوب مناتے ہیں۔
اپنے مُلک کو آزاد ہوئے دہائیاں گزر گئیںبلکہ خیر سے 75 سال کا ہو گیا ہے۔یہاں پیدا ہونے والی تیسر ی نسل جوان ہو گئی ، ہمارے بزرگ اچھے دنوں کی آس لیے موت کی آغوش میں چلے گئے مگر ابھی تک ہم مسائل میں جکڑے ہوئے ہیں اور گھر کے درودیوار پر اُداسی کا سایہ ہے۔
ایک نہ ختم ہونے والا بحران، سیاسی و معاشی عدم استحکام، ریاستی دہشت گردی ، مذہبی منافرت ،پسماندگی، بے روزگاری، اغوا برائے تاوان، خواتین اور بچوں پر تشدد، اداروں کا تصادم اور ٹوٹ پھوٹ، آئینی خلاف ورزیاں، آزادیٔ رائے پر پابندیاں، عوامی استحصال، رشوت خوری ، اقربا پروری ، توڑ پھوڑ،دھرنے، الزامات اور سرِ عام لٹنے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ سب نے اسے یہاں زندگی کا معمول بنا لیا ہے ۔
یقیناً ہر پاکستانی کو اپنے اس گھر سے محبت ہے اور وہ یہاں امن و سکون سے رہنا چاہتا ہے۔ اُسے اس گھر میں آزادی چاہیے مگر یہ زندان بن چکا ہے۔ وہ مسلسل اسی فکر میں ہے کہ گھر کے حالات کب، کیسے اور کس طرح ٹھیک ہوں گے؟ کیا کبھی حالات بہتر ہوں گے بھی یا نہیں ؟ ہمارے اقدار بدل گئے ،ہماری معاشرتی زندگی بھی اس قدر گراوٹ کا شکار ہے کہ ایسی کوئی خرابی نہیں جو یہاں نظر نہ آتی ہو۔ نہ کوئی سسٹم، نہ کوئی محفوظ، نہ انصاف اور نہ میرٹ۔۔ ایسا کیوں ہے اور پھر ہمارے ہاںہر سماجی اور اخلاقی خرابی میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے ؟ سچ کہنے ، بولنے اور لکھنے پر تعزیر کیوں لگ جاتی ہے ؟ اب تو مہنگائی نے ہر ایک کو یہ سوچنے پہ مجبور کر دیا ہے کہ آٹا ، دال ، چینی ، پیاز اور ٹماٹر کب سستے ہوں گے ؟ یہاں بڑے زور وشور سے ”تبدیلی ” کا نعرہ گونجا ، ہر ایک نے اُمید لگائی کہ بس اسی تبدیلی سے حالات بدل جائیں گے مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا ۔اُلٹا تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اپنی عوام کو اقتصادی اور سیاسی بحرانوں میں مبتلا کر گئے ۔ اب ہمیں غلامی سے نجات دلانے کی باتیں ہو رہی ہیں ۔
مُلک بھر میں ایک جامع عدالتی نظام موجود ہے مگر طاقتور اور مراعات یافتہ آئینی و قانونی پکڑ سے محفوظ رہتا ہے۔ تھانہ اور کچہری کا نظام بھی ظلم ایجاد کرنے والوں کی گرفت میں بے بس دکھائی دیتا ہے۔ نظامِ تعلیم ہماری ترجیح نہیں ،اس لیے یہ مسلسل انحطاط کا شکار ہے۔مُلک آزاد ہوا تو سازشی طرز کی گورننس نے پہلے ہی عشرے میں اپنے پنجے گاڑلئے اور مارشل لا کے تسلط کی راہ ہموار کر دی۔ ایک طویل عرصے تک مارشل لا اور کمزور سیاسی جماعتوں کے گٹھ جوڑ سے قائم اتحادی حکومتوں کی آئین سے رو گردانی ، ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی اور امن وامان کے نام پر قومی دولت کی خورد بُرد کے نتائج ہیں جو پوری قوم تکلیف کے ساتھ بھگت رہی ہے۔ عوام میں سیاسی شعور اُجاگر کرنے کی بجائے گالم گلوچ اورسیاسی منافرت پیدا کی جارہی ہے۔ عوام کی اپنے بنیادی حقوق سے محرومی بھی ایک مستقل قومی روگ ہے ۔ اس پس منظر میں جب اپنے گھر کی حالت دیکھتے ہیں تو دُکھ ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کیا ہے اور کیوں ایسے ہو رہا ہے ؟ آزادی حاصل کی، انگریز چلا گیا مگر غلامی کی چھاپ اتنی گہری ہے کہ حکومتی اداروں میں اس کا نظام آج بھی موجود ہے ۔ وہی سوچ آج بھی غالب ہے ۔آزاد ہو کر بھی ہم یہی سنتے چلے آرہے ہیں کہ مُلک انتہائی نازک دَور سے گزر رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام مسلسل جاری ہے اور ہر حکومت یہی تاثر دیتی ہے کہ وہ مُلکی سلامتی اور معیشت کے اعتبار سے بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ عوام نے تمام سیاسی جماعتوں کو بھر پور موقع دیا مگر بد قسمتی سے عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو پاتے اور اب تو ان سیاسی رہنماؤں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ کیا ہماری سمت غلط ہے کہ ہم بہتری کی بجائے بدترین حالات کا سامنا ہی کرتے چلے آرہے ہیں۔ ہمیں اپنا جائزہ خود لینے کی ضرورت ہے ، اگر مُلک کی تعمیر و ترقی کے خواہاں ہیں لیکن بطور شہری اپنا فرض ادا نہیں کر رہے تو پھر ایسے میں کیوں بہتری کی اُمید لگائے رکھتے ہیں ؟ ہم نے اگراپنی حالت بدلنی ہے، اپنے ملک و قوم کو بہتر مستقبل دینا ہے تو پھر اپنی اصل پہچان اور اصل مقصد کی طرف عملاً واپس آنا ہو گا۔ غلامی سے آزادی پانے والی قوم یوں ایک ہجوم بن کرآزادی کے مقاصد حاصل نہیں کر سکتی ۔مُلک میں افراتفری اور انارکی کسی کے حق میں نہیں ۔ اب یہ لازم ہے کہ حکمرانی اور ریاست سے جڑے نظام کی درستگی ہو اور تمام فریقین مل بیٹھ کر معاملات کو طے کریں کہ گھر کے نظام کو کیسے چلایا جائے۔ اپنے گھر کو بھونچا ل سے بچانا بہت ضروری ہے۔

مزید دیکھیں :   خنثیٰ ' خواجہ سراء اور ٹرانس جینڈر ایکٹ