خواجہ سرائوں پر حملے اور فحاشی کا اڈہ

پہاڑی پورہ کے علاقے دلہ زاک روڈ پر کار سوار مسلح افراد نے فائرنگ کرکے4خواجہ سرائوں سمیت 5افراد کو زخمی کر دیاگیا ۔دریں اثناء فقیر آباد میں ایک پلازہ کے قریب سے متعدد نوجوانوں کو حراست میں لیکر حوالات میں بند کر دیا گیا ۔ پولیس کے مطابق یہ افراد غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھے پولیس کے مطابق کریک ڈائون کا مقصد جوان العمر افراد کو بے راہ روی اور سماجی برائیوں سے بچانا ہے۔خیبر پختونخوا میں خواجہ سرائوں پر فائرنگ قتل ان کو نشانہ بنائے اور زیادتی کے واقعات اکثر رپورٹ ہوتے ہیں معاشرے کے بعض طبقات ان کو نشانہ بنانے جانے پر خاص طور پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے تحفظ کے لئے حکومت اور انتظامیہ پر بھرپور دبائو ڈالا جاتا ہے بعض این جی اوزبھی اس حوالے سے سرگرم ہیں۔خواجہ سرائوں کے جان و مال اور آبرو کے تحفظ کے مطالبات اور دبائو ڈالنے کا عمل واقعی سنجیدہ اور ضروری ہے معاشرے کے اس طبقے کو جس قسم کے عدم تحفظ کا سامنا ہے اور یہ جس طرح غیض و غضب کا نشانہ بن رہی ہے وہ خاص طور پر قابل تشویش امر ہے اس حوالے سے یقینا سنجیدہ اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے میں پولیس کی ناکامی کوئی گنجائش نہیں اس ساری صورتحال سے قطع نظر اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو خواجہ سراء بھی بے قصور نہیں اور ان پر حملوں کے پیچھے کسی نہ کسی لین دین اور تعلق داری وغیرہ کا ہاتھ ہوتا ہے جہاں تک پولیس کی جانب سے صوبائی دارالحکومت کے وسط میں واقع ایک پلازے پر چھاپے کا تعلق ہے یہ محض رسمی کارروائی اور خواجہ سرائوں پر حملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ورنہ کسے نہیں معلوم کہ مذکورہ پلازے کے باہر دن رات کن کاجمگٹھا لگا رہتا ہے وہاں کیا ہو تا ہے اور کیا کچھ کہانیاں اس پلازے سے وابستہ ہیں پولیس کی وہاں پر یاپھر اردگرد موجودگی بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں اگر قرار دیا جائے کہ پولیس ہی کی سرپرستی کے بغیر پلازے میں چلنے والا کاروبار ممکن ہی نہیں تو مبالغہ نہ ہو گا ایسے میں دکھاوے کے لئے نوجوانوں کو حراست میں لینے کی تکلف کی ضرورت کیا تھی بہرحال پولیس اگر کارروائی کا احسن فیصلہ کر لیا ہے تو اس کا تقاضاہے کہ پلازے کے باہر عملہ کا کوئی ایک فرد تعینات کیا جائے جو کھلم کھلا فحاشی کے اس اڈے کو جانے والوں کا راستہ روکے اور ساتھ ہی خواجہ سرائوں کوتحفظ بھی فراہم کرسکے۔ خواجہ سرائوں کے تحفظ کے لئے جہاں دیگر اقدامات کی ضرورت ہے وہاں خود ان کو بھی پابند بنایاجانا چاہئے کہ وہ لوگوں سے اس قسم کا لین دین نہ رکھیں جو ان پر حملے قتل کرنے یا زخمی کرنے کا سبب بن جائے ۔ حکومت کو بار بار بدنامی کا سامنا کرنے کی بجائے پولیس کو سختی سے ہدایت کرنی چاہئے کہ وہ سہولت کا ر کی بجائے محافظ کا فریضہ نبھائے اور برائی کے اس اڈے کی سرپرستی کی بجائے اسے بند کرنے میں کردار ادا کرے ۔ پولیس چاہے تو یہ اڈہ ایک گھنٹے میں نہیں ایک منٹ میں بند ہو سکتا ہے مگر ایسا کرے کون؟۔
ڈینگی کے بڑھتے خطرات
ماہرین صحت کی جانب سے صوبے کے حساس اضلاع میں ڈینگی کے خطرناک آئوٹ بریک کا خدشہ ظاہر کر دیاگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈینگی مچھروں کی افزائش19سے40درجہ سینٹی گریڈ گرمی میں ہوتی ہے اس سے زیادہ اور کم درجہ حرارت میں ڈینگی وائرس زندہ نہیں رہ سکتا ہے موجودہ موسم اور درجہ حرارت آئیڈیل ہے اس لئے موسم کی تبدیلی تک اقدامات ناگزیر ہوگئے ہیں۔امر واقع یہ ہے حالیہ سیلاب اور تین مہینے سے بارشوں کی وجہ سے پشاور، مردان، چارسدہ، صوابی، سوات، بونیر، ملاکنڈ، دیر، مانسہرہ، ہری پور، ایبٹ آباد، کوہاٹ اور ڈی آئی خان وغیرہ میں صاف پانی کے ذخائر میں ڈینگی کا پھیلائو خطرناک شرح کے ساتھ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے ماہرین صحت کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں صاف پانی میں ڈینگی مچھروں کے لاروا کے سینکڑوں ذخائر ملے ہیں لاروا کے خاتمے کے بغیر ڈینگی مچھروں پر قابو ممکن نہیں ہو گا لیکن محکمہ صحت کے پاس تاحال کسی قسم کے انتظامات نہیں اس لئے ڈینگی سیزن شدید ہونے کا امکان ہے۔ڈینگی کی وباء صرف اس سال ہی نہیں ہر سال اس کے باعث ہزاروں افراد بیمار اور بعض لقمہ اجل بن جاتے ہیں اس وقت عملی طور پر لوگ ڈینگی کا شکار ہو رہے ہیں لیکن متعلقہ حکام کو شاید وباء کے شدت اختیار کرنے اور خدانخواستہ اموات کا انتظار ہے اس کے بعد میڈیا اور عوامی دبائو بڑھنے پر متعلقہ حکام حسب دستور حرکت میں آئیں گے چیف سیکرٹری اور سیکریٹری صحت کو اس مسئلے کا بروقت نوٹس لینا چاہئے اور اجلاسوں میں اس حوالے سے جو اقدامات کرنے کے فیصلے کئے گئے تھے اس کی رپورٹ طلب کی جائے نیز فوری طور پر اس کے تدارک اور اس پر قابو پانے کے حوالے سے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

مزید دیکھیں :   ایک نظر حیات آباد پر بھی ڈالئے