کتب کا بحران،

پشاور،2لاکھ27ہزار نصابی کتب کا بحران،تعلیمی عمل متاثر

ویب ڈیسک :پشاورسمیت خیبرپختونخواکے مختلف سرکاری سکولز میں تعلیمی سرگرمیاں شروع ہونے کے باوجود چھٹی جماعت سے انٹر میڈیٹ جماعت کیلئے 2 لاکھ 27 ہزار326 مختلف نصابی کتب طلبہ کو فراہم نہیں کی گئی ہے جس کے نتیجے میں سکولز میںایک مہینے کے بعد بھی نصابی سرگرمیوں کا آغاز نہیں ہوا ہے۔
محکمہ ابتدائی تعلیم کے ذرائع نے بتایا کہ صوبہ بھرکے سرکاری سکولز کو مفت درسی کتب کی فراہمی کیلئے ٹیکسٹ بک بورڈ کو15اگست سے قبل ترسیل یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم صوبہ بھرمیں تاحال دو لاکھ27 ہزار326 درسی کتب موجود نہیں اس وقت چھٹی جماعت کے پشتو مضمون کی 7ہزار171 کتابیں،ریاضی مضمون کی 22ہزار721 کتابیں،جنرل سائنس کی بھی 22ہزار 721 کتابیں ، جیوگرافی اردو کی 21ہزار430 کتابیں اور کمپیوٹر ایجوکیشن اردو کی 8ہزار 979 درسی کتب تاحال طلبہ کو تقسیم نہیں کی گئی ہیں ذرائع نے بتایا کہ ساتویں جماعت کی مختلف درسی کتب میں ہسٹری اردو کی 21ہزار236 کتابیں،جیوگرافی اردو 21ہزار236 کتابیں، کمپیوٹر ایجوکیشن اردوکی 7ہزار 470 کتابیںاور کمپیوٹر ایجوکیشن انگلش کی 6ہزار90کتابیں ابھی تک طلبہ کوفراہم نہیں کی گئی ہے.
آٹھویں جماعت کی ارد و کی 19ہزار404کتابیں،ہسٹری کی 19 ہزار 114 کتابیں ،جیوگرافی اردوکی 19 ہزار 398کتابیں، کمپیوٹرایجوکیشن اردوکی 5ہزار912 اورانٹروڈکشن ٹو ٹیکنالوجی کی 872 کتابیں موجود نہیںہیں ذرائع کے مطابق نویں جماعت کی کمپیوٹرسائنس انگلش کی 1ہزار 475 کتابیں ،دسویں جماعت کے انگلش کورس کی 13ہزار579 کتابیں،مطالعہ قرآن حکیم کی 4ہزار255 کتابیں اور بارھویں جماعت کے فزکس کورس کی 2ہزار77 کتابیں تاحال طلبا اورطالبات کو فراہم نہیں کی گئی ہیں ذرائع نے بتایا کہ اس صورتحال میں متعلقہ ایجوکیشن افسران کی جانب سے محکمہ تعلیم کے حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ کتب کی عدم فراہمی کے نتیجے میں سکولز میں موجود طلبہ کو نصاب پڑھانے کا سلسلہ تاخیر کا شکار ہوا ہے۔

مزید دیکھیں :   سیلاب متاثرین کورقوم کی ادائیگی بائیومیٹرک تصدیق کے بعدہوگی