گومل یونیورسٹی بند،علی امین گنڈاپوراوروی سی کاجھگڑابڑھ گیا

پشاور( نامہ نگار) وائس چانسلر گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان ڈاکٹر افتخار احمد نے دھمکیاں ملنے کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈی آئی خان کو سابق وفاقی وزیر اعلی امین گنڈا پور کیخلاف ایف آئی درج کرنے اور سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کردی جبکہ گومل یونیورسٹی میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے اسے غیر معینہ مدت تک کیلئے بند کر دیا گیا ہے دو سری جانب گورنرخیبر پختونخوا نے وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کو جلد از جلد گومل یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی ڈی آئی خان کے اثاثے تقسیم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تاخیر کی صورت میں ان کے خلاف کارروائی کی تنبیہ بھی کی ہے ۔ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان ڈاکٹر افتخار احمد کی جانب سے ڈی پی او ڈیرہ کو دی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کی جانب سے دھمکیاں ملنے کے بعد انہیں ذاتی سکیورٹی فراہم کی جائے۔ وائس چانسلر نے علی امین گنڈاپور کیخلاف ایف آئی آر درج کرانے کی بھی درخواست کردی۔ گومل یونیورسٹی میں کسی امن و امان کی مخدوش صورتحال قابو میں رکھنے کیلئے یونیورسٹی انتظامیہ نے ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد گومل یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت تک کیلئے بند کر دیا ہے ۔ وائس چانسلر کی جانب سے گورنر خیبر پختونخوا کو لکھے گئے خط کے جواب میں گورنر سیکرٹریٹ نے وائس چانسلر کو فی الفور گومل یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی ڈی آئی خان کے اثاثوں کی تقسیم کی ہدایت کردی ہے اور ہدا یت کی ہے کہ گومل یونیورسٹی کے سینٹ اور سینڈیکیٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کیاجائے گورنر سیکرٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ اس میں مزید تاخیر سے تعلیم کے شعبہ میں انتظامی بحران پیدا ہوسکتا ہے گورنر سیکرٹریٹ نے 15ستمبر تک اثاثوں کی تقسیم کرتے ہوئے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے وائس چانسلر کیخلاف کارروائی کی تنبیہ بھی کردی ہے ۔