ایندھن کی قیمت کی وصولی اور رعایت کا خاتمہ ایک ساتھ

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے تقسیم کار کمپنیوںکے لیے جولائی میں استعمال ہونے والی بجلی کے لیے 4.34روپے فی یونٹ اضافی فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے تاکہ ناکافی رقوم کے حامل اداروں کو ستمبر کے بل میں69ارب روپے کے اضافی فنڈز فراہم کئے جا سکیں۔بجلی کے نظرثانی شدہ نرخ50یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے علاوہ تمام صارفین سے ستمبر کے بلوں میں وصول کیے جائیں گے۔بجلی بلوں میں اضافہ کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینے کا تو سلسلہ عرصے سے جاری ہے اب سو یونٹ ا ستعمال کرنے والے صارفین کو بھی بجلی کے نسبتاً رعایتی نرخ کی سہولت حاصل نہیں رہی بلکہ اسے پچاس یونٹ کیا گیا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اب لائف لائن صارفین یعنی عام آدمی بلکہ نہایت کم آمدنی کے حالم افراد بھی کسی رعایت کے مستحق نہیں رہے حالانکہ دیکھا جائے تو قبل ازیں بھی سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں سے کوئی خاص رعایت نہیں کی جاتی تھی البتہ اٹھارہ روپے اٹھاون پیسے فی یونٹ کی بجائے تیرہ روپے اڑتالیس پیسے لئے جاتے تھے جو برائے نام رعایتی ہونے کے باوجود بجلی کی مہنگی قیمت ہی کے زمرے میں آتا تھا اب یہ رعایت بھی ختم کر لی گئی ہے پچاس یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہو گی کیونکہ پچاس یونٹ تو ایک بلب کے استعمال پر ہی خرچ ہوتے ہیں اگر گھر میں ایک بلب اور ایک ہی پنکھا لگا ہو تو حکومت یا نیپرا کی دانست میں وہ رعایت کا مستحق نہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے دردمندوں کو غریبوں سے کس حد تک ہمدردی ہے جہاں تک فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کا سوال ہے قبل ازیں حکومت نے تین سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے لئے رعایت کا اعلان ضرور کیا تھا وزیر اعظم نے وصولی نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم بعد ازاں وزیر خزانہ نے ایک بیان میں معطل کی بجائے موخر ہونے کا سندیسہ دیا تھا جس کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ سردیوں میں بل کم ہو جائیں تو اس کے ساتھ معطل رقم کی بھی وصولی ہو گی اور حکومت ایک دھیلہ بھی صارفین کو ریلیف نہیں دے گی۔ جس طرح کی صورتحال ہے اس سے نکلنے کا بہتر حل سولر سسٹم لانا ہے تاکہ سستی بجلی پیدا کرکے صارفین کی ایندھن سے بننے والی بجلی سے جان چھڑائی جائے اس ضمن میں حکومتی سطح پر جلد سے جلد اقدامات کی ضرورت ہے جہاں تک صارفین کے خود سے سولر سسٹم لگانے کا سوال ہے اولاً ہر صارف اس کا متحمل نہیں ہوسکتا دوم یہ بھی سستا نہیں مہنگا سودا ہے جس کا فائدہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ صارف کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے کچھ چھٹکارا ملے حکومت اگر لوگوں کو سولر سسٹم لگانے کے لئے سولر سسٹم اور شمسی پلیٹیں مناسب داموں فراہم کر سکے تو ہی اوسط درجے کے صارفین کے لئے اس کا حصول ممکن ہوگا۔
پولیو وائرس کا اٹھارواں کیس
شمالی وزیرستان میں ایک تین ماہ کا بچہ وائلڈ پولیو وائرس سے مفلوج ہو گیا اور یہ اس سال ملک میں موذی بیماری کا 18واں کیس ہے۔ اس سے قبل لکی مروت میں پولیو وائرس کے دو کیسز سامنے آئے تھے، بچوں کو معذور بنانے والی اس بیماری کے دیگر16کیسز شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے۔گزشتہ ہفتے کراچی میں پولیو وائرس کے ایک مثبت ماحولیاتی نمونے کا پتہ چلا تھا، اس کے علاوہ بنوں، پشاور، سوات اور لاہور سے بھی چار دیگر نمونے رپورٹ ہوئے تھے، کراچی پولیو وائرس کا ذخیرہ ہے کیونکہ یہاں ملک بھر سے مختلف علاقوں سے لوگ آ کر آباد ہوتے اور اس کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جو وائلڈ پولیو وائرس کی منتقلی کے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں۔اس سے ایک مشکل صورتحال کی نشاندی ہوتی ہے اور پولیو کے خاتمے کی جن امیدوں کا اظہار کیاجارہا تھا اور جوکاوشیں مشکلات کے باوجود کی جارہی تھیں اب ہر دو حوالوں سے ہم گھوم پھر کرایک مرتبہ پھر نقطہ آغاز پرآچکے ہیں مشکل صورتحال یہ ہے کہ ایک جانب ہمارے ہاں پولیو کے قطرے پلانے سے احتراز کی روایت ہے پھر پولیو قطرے پلانے والی ٹیموں اور ان کے محافظین کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اب سیلاب کے باعث صورتحال مزید دگر گوں ہوگئی ہے ان حالات میں پولیو کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا جس کے لئے عالمی برادری کا تعاون حاصل کرنے کے لئے رابطہ کاری اور صورتحال کو ان کے سامنے رکھنے کے ساتھ ساتھ اضافی اور خصوصی پولیو مہم بھی چلانے کی ضرورت ہے تاکہ جاری صورتحال میں حالات مزید دیگر گوں نہ ہوجائیں اور پولیو کے ممکنہ پھیلائو کے سامنے بروقت بند باندھا جا سکے۔
بھتہ خوروں کی گرفتاری
ضلع خیبر میںٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیوں سے بھتہ لینے کی ویڈیو وائرل ہونے کے باوجود بھی ڈھٹائی کا عالم یہ رہا کہ بھتہ وصولی کے روک تھام نہ ہو سکی جس سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھتہ خوری کے عادی افراد جس کی سرپرستی بدقسمتی سے پولیس ہی کرتی ہے اور بھتہ وصولی کے لئے اپنے بندے رکھے ہوتے ہیں اس میں تعطل بھی نہیں آیابہرحال یہ دھندہ طویل عرصے سے جاری ہے جس کے بند نہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں جس کا یہاں اعادہ مناسب نہیں اطمینان کا حامل امر بہرحال یہ ضرور ہے کہ ڈی پی او خیبر نے اس کا ذاتی طور پر نوٹس لیا اور موقع پربعض افراد کو گرفتار کر لیا گیا توقع کی جانی چاہئے کہ یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہونے نہیں دیا جائے گا۔توقع کی جانی چاہئے کہ ضلع خیبر میں افغانستان جانے والی گاڑیوں سے بھتہ وصولی کا خاتمہ کیا جائے گا اور اس کے ذمہ دار گرفتار افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے گی اور ان کے سرپرستوں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔

مزید دیکھیں :   آٹا بحران میں کمی کا عندیہ