کمیونٹی سکول ٹیچرز

22سو سے زائدکمیونٹی سکول ٹیچرز کی تنخواہیں ایک سال سے بند

ویب ڈیسک :خیبر پختونخوا کے پسماندہ اوردوردرازاضلاع میں بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز کے 22 سو سے زائدٹیچرز کی تنخواہیں ایک سال سے بند کردی گئی ہیں جبکہ اٹھارویں ترمیم کے تناظر میں ٹیچرز کا کنٹریکٹ بھی مستقل نہیں کیا جارہا ہے جس کیخلاف ٹیچرز نے صوبائی حکومت کو ایکشن لینے کی درخواست کردی ہے.
ذرائع نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز میں22سو سے زائد اساتذہ تعینات ہیں وفاقی حکومت کے تحت چلنے والے اس پراجیکٹ میں90ہزار کے لگ بھگ طلبہ تعلیم لے رہے ہیں 2010کی اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ سکولز ایلمنٹری ایجوکیشن فائونڈیشن اور فاٹا ایجوکیشن فائونڈیشن کے توسط سے چلائے جارہے ہیں تاہم مذکورہ سکولز کے ٹیچرز کی ملازمت کو مستقل نہیں کیا گیا ہے.
جس کی وجہ سے23سالوں سے یہ ٹیچرز بغیر کسی ملازمتی تحفظ کے طلبہ کو پڑھارہے ہیں ذرائع نے بتایا کہ ایک سال سے بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز کے ٹیچرز کی تنخواہیں بھی بند ہیں جس کے نتیجے میں ٹیچرز کو مالی مسائل کا سامنا ہے دوسری طرف کئی ٹیچرز کو بغیر کسی وجہ کے ملازمتوں سے برطرف کیا گیا ہے جس پر ٹیچرز نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے تنخواہیں جاری کرنے کے ساتھ ساتھ برطرف ٹیچرز کی بحالی کی بھی درخواست کی ہے۔

مزید دیکھیں :   امریکی سائفر سے متعلق عمران خان کی مبینہ آڈیو لیک، مریم نواز کا شدید ردعمل