دفاع کیوں نہیں کرتے،عمران خان پارٹی رہنمائوں پر برہم

اسلام آباد( ویب ڈیسک ) حال ہی میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جن کا دفاع کرتے ہوئے تحریک انصاف کی سینئر قیادت مشکل میں نظر آئی۔ ایسے ہی ایک بیان میں جب عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق میرٹ کی بات کی تو تحریک انصاف کی سینئر قیادت بشمول اسد عمر اور شاہ محمود قریشی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ انہوں نے چیئرمین عمران خان کا بیان سنا ہی نہیں۔اس صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے اب عمران خان نے تمام پارٹی عہدیداروں اور قائدین کو یک زبان ہو کر جواب دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ تحریک انصاف کے باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عمران خان نے سخت بیانات کا دفاع کرنے میں سینئر قیادت کی جانب سے ہچکچاہٹ کا شکار ہونے پر انتہائی برہمی کا اظہار کیا ہے اور ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ خوفزدہ نہ ہوں بلکہ یک زبان ہو کر جواب دیں۔عمران خان نے پارٹی قیادت کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ دو چار لوگ بات کرتے ہیں باقیوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ خوفزدہ ہو کر خاموش نہ رہیں، ایک کو خوفزدہ کرنا آسان ہے لیکن زیادہ لوگ بات کریں گے تو کوئی خوفزدہ نہیں کر سکتا۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے کہا کہ میں اب یہ نہ دیکھوں کہ کسی معاملے میں چند لوگ بات کر رہے ہیں اور باقی خاموش رہیں۔ سب سوشل میڈیا پر موثر آواز رکھتے ہیں لیکن خوف میں آ کر خاموش رہ جاتے ہیں، اگر آپ خوفزدہ ہوں گے تو عام آدمی کیا کرے گا؟۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پارٹی کے ارکان کی جانب سے دھمکیاں ملنے کی بھی شکایات بھی کی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ گھر والوں کو بھی ہراساں کیے جانے کی دھمکیاں ملتی ہیں، جبکہ ایف آئی اے، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی پولیس کے رویے کی بھی شکایات کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شریف آدمی دھمکیوں سے خوفزدہ ہی ہوتا ہے لیکن آپ سب نے یک زبان ہو کر بات کرنی ہے، اور خوفزدہ ہو کر خاموش رہنے کی ضرورت نہیں۔سابق وزیراعظم نے پنجاب اور خیبر پختونخوا پولیس کی اعلٰی افسران کے سامنے معاملہ اٹھانے کی یقین دہانی بھی کروائی۔

مزید دیکھیں :   منی لانڈرنگ کیس میں شہبازشریف کو حاضری سے مستقل استثیٰ مل گیا