آرمینیا اور آذربائیجان کی افواج میں چھڑپیں، 105 فوجی ہلاک

ویب ڈیسک: آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنوکاراباخ کے سرحدی علاقے میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک تقریبا ً100 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق آرمینیا اور آدر بائیجان کے درمیان گزشتہ شب تازہ چھڑپوں میں درجنوں فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ چھڑپیں آذربائیجان کے نگورنو کاراباخ کے سرحدی علاقے کے آس پاس ہوئیں۔
آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشینیان نے کہا ہے کہ رات کو ہونیوالی تازہ جھڑپوں میں ہمارے 49 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے آذربائیجان فوجیوں پر اس ہفتے آرمینیا کے 10 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کرنے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ اب اس نے فوجی مدد کے لیے روس کا رخ کیا ہے۔
آرمینیا اور آذربائیجان گزشتہ 3 دہائیوں میں 2 جنگیں لڑ چکے ہیں اور ان کے فوجیوں کے درمیان چھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔
آذربائیجان کا کہنا ہے کہ لڑائی میں اس کے اپنے 50 فوجی بھی مارے گئے ہیں، تازہ جھڑپوں کے لیے دونوں ہی ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھرا رہے ہیں۔
پہاڑی نگورنو کاراباخ کے علاقے پر پڑوسی جمہوریہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازعہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں مکمل جنگ کا باعث بنا، 2020 میں چھ ہفتے کی جنگ اور کئی دہائیوں تک مسلسل جھڑپیں ہوئیں۔
اگرچہ بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کے حصے کے طور پر پہچانا جاتا ہے، لیکن یہ خطہ طویل عرصے سے آبادی والا اور مؤثر طریقے سے آرمینی نسل کے لوگوں کے زیر انتظام ہے۔

مزید دیکھیں :   پشاور کے تھانوں میں مبینہ خودکشی واقعات کی انکوائریز بے نتیجہ رہیں