پیاز اور ٹماٹروں کی مسلکی تقسیم؟

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
منیر نیازی کے اس شعر کی معنویت پر غور کریں تو جس مسئلے پر ہم گفتگو کرنا چاہتے ہیں اس کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے ‘ ابھی ہمارے تین نومبر کو شائع ہونے والے کالم کی سیاہی (روشنائی) خشک نہیں ہوئی تھی کہ جس میں ہم نے انگریز دورکے ہندوپانی ‘ مسلمان پانی کی طرز پر بھارت سے منگوائے جانے والے ٹماٹر اور پیاز پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات کو”ہندوستان سے تجارت” کے پس منظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے پیاز اور ٹماٹر کو بھی”ہندو ٹماٹر اور پیاز” قرار دینے پر بات کی تھی ‘ حالانکہ چند برس پہلے جب بھارت کے ساتھ تجارت پرکوئی پابندی نہیں تھی ‘ یہ دونوں اجناس آسانی سے درآمد کئے جاتے تھے ‘ تب کسی کو ان کے ”ہندو” ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہوا کرتاتھا ‘ نہ ان ٹماٹروں اور پیاز پر لکھا ہوتا تھا کہ یہ دونوں سبزیاں ہندوئوں کے کھیتوں میں اگائی جاتی ہیں ‘ سکھوں کی زمینوں میں پیدا ہوتی ہیں یا پھر ان کی پرداخت کرنے والے مسلمان ہیں ‘ مگر جب سے موجودہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے اندرون ملک مختلف سبزیوں اور دیگر اجناس کو نیست و نابود کر دیا ہے اور عوام پیاز اور ٹماٹر خریدنے کے لئے چار سو روپے کلو تک ادا کرنے پر مجبور ہوئے(اب قیمتیں کچھ کم ہوچکی ہیں) اور ایک بار پھر ہندوستان سے سبزیاں درآمد کرنے کی سوچ ابھری تو (عوام کی تکلیف کا احساس کئے بغیر) ضرورت سے زیادہ ”احتیاط پسند”آپے سے باہر ہوتے ہوئے بھارت سے ٹماٹر اور پیاز منگوانے پر اعتراضات کرنے لگے ‘ حکومت کے متعلقہ ادارے اور ”بااختیار” حلقے بھی ان کے خوف سے برملا درآمد کی بات کرنے سے کنی کترانے لگے ‘ اس دوران افغانستان اور ایران سے یہ اشیاء درآمد کرنے کی کوشش ہونے لگیں تو دوسری جانب بھارت ہی سے یہ دونوں سبزیاں صرف آدھے گھنٹے کی مسافت پر واہگہ بارڈر کے ذریعے براہ راست کم خرچے میں منگوانے کے بجائے ناک کو گردن کے پیچھے سے پکڑتے ہوئے ان ہندو ٹماٹروں اور پیاز کو مشرف بہ اسلام کرتے ہوئے پہلے دبئی برآمد کروانے اور پھر وہاں سے پاکستان درآمد کرتے ہوئے ” سو پیاز اور سو جوتے” والے محاورے کو زندہ کیا گیا ‘ یعنی آدھے گھنٹے کی مسافت پر موجودہ سبزیاں لمبی مسافت طے کرتے ہوئے مہنگے داموں خریدنے کو ترجیح دی گئی ۔ مگر بات ہندوپیاز اور ہندوٹماٹر سے بھی آگے جا چکی ہے ‘ تنگ نظری نے ہمیں اپنی گرفت میں لیکر ہمارا جو حشر کرنا ہے یقینا اس پر ہمیں ضرور سوچنا چاہئے ‘ ہندو اورمسلمان کے درمیان تفریق اور تقسیم نے جو گل کھلانے تھے وہ تو ہم تحریک آزادی کے دوران اور مابعد(تا ایں دم) دیکھ اور برداشت کر رہے ہیں اس لئے اگر بعض لوگ ہندو پانی ‘ مسلمان پانی کے سیلاب میں غرق ہوکر ابھی تک اس گرداب سے نہیں نکل سکے اور سبزیوں ‘ دالوں وغیرہ کو بھی اسی پیمانے سے ناپ رہے ہیں تو ان کی سوچ کی تو سمجھ آجاتی ہے ‘ لیکن یہ جو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویریں اور ویڈیوز اپ لوڈ ہو رہی ہیں جن میں ایران سے ٹماٹروں کے ٹرک اور ٹرالرز کوایک مخصوص سوچ کے حامل افراد روک کران میں موجود ٹماٹروں کو گرا کر ”رزق خاک” کرتے ہوئے اس ساری صورتحال کو ”مسلکی منافرت” کی جنگ بنا رہے ہیں ‘ اس منفی سوچ پرکیا تبصرہ کیا جائے ؟ کیا اب ٹماٹر اورپیاز ہندواور مسلمان ہونے کے بعد ”فرقائی تقسیم” کا بھی شکار ہونے لگے ہیں اور یوں بعض لوگ انہیں مسلکوں اور فرقوں میں بانٹ کر نفرتیں پھیلائیں گے ؟ گویا اب ٹماٹر اور پیاز کو ”فرقوں” میں بانٹ کر خدانخواستہ حلال اورحرام کے پیمانوں سے تولا جائے گا؟ یعنی بقول نذیر تبسم
گفتگو میں کوئی منطق نہ دلیل
کیوں مچاتے ہو بہت شور میاں
وہ جوہندو پانی اورمسلمان پانی سے سلسلہ چلا تھا ‘ اس نے نفرت کی جودیواریں اٹھا دی تھیں ان کے اثرات تو دونوں مذاہب کے ماننے والوں پراس طور راسخ ہوچکے تھے کہ ایک دوسرے کے برتنوں میں اور ایک ساتھ بیٹھ کر کھانے سے بھی پرہیز کیا جاتا تھا ‘ اس حوالے سے تفصیل میں جایا جائے تو بہت ہی افسوسناک صورتحال سامنے آتی ہے ‘ بہرحال انگریزوں نے کم از کم پانی کے مسئلے کا یہ حل نکالا کہ منرل واٹر کے نام پر بوتلوں میں پانی بند کرکے بندے بندے کو ا یک دوسرے سے دور کر دیا ‘ حالانکہ کم از کم مسلمانوں میں یہ صورت نہیں تھی ‘ ایک ہی برتن میں اکٹھے ہو کر کھانا اورایک ہی جام(کٹورے) سے پانی پینا ‘ جس سے محبت بڑھتی ‘ اب جبکہ نفسا نفسی کی کیفیت ہے اس لئے وہ مسئلہ تو حل ہو گیا ہے ‘ لیکن یہ جو سبزیوں ‘ دالوں وغیرہ کو ہم نے مذہبی طور پر تقسیم کرکے اب مسلکی اور فقہی پیمانوں سے دیکھنا شروع کر دیا ہے ‘ توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو چیزیں مغرب سے درآمد ہوتی ہیں ‘ ان پر ”نصرانی اور یہودی” کے ٹھپے لگا کر ان پر پابندی عائد کیوں نہیں جاتی؟ایک دور تھا جب امریکہ بہادرہمیں خیرات میں نہ صرف پی ۔ ایل 480 معاہدے گندم مہیا کرتا تھا بلکہ خشک دودھ اور بٹر آئلButter oil(دیسی گھی) کے ڈبے بھی بھیج دیا کرتا تھا ‘ اور ہم بڑے شوق سے سب کچھ”نوش جان” کیا کرتے تھے ان پر تو ہم نے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا ‘ مگراب جبکہ سیلاب نے سب کچھ تہ آب کر دیا ہے اور لوگوں کو کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں ‘ سبزیاں ‘ دالیں وغیرہ پہلے تو مل نہیں رہیں مل جائیں تو قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ‘ اس پر بھی بعض عاقبت نا اندیش ان کی فراہمی میں روڑے اٹکا رہے ہیں ‘ اور اسے مذہبی کے بعد مسلکی ”جنگ” بنا رہے ہیں جبکہ پیاز اور ٹماٹر حیران ہیں کہ ان کامذہب ‘ دین ‘ فرقے یا مسلک سے کیا تعلق ہے وہ تو غیر جانبدار یعنی”سیکولر” ہیں ‘ پھر ان سے دشمنی اور نفرت کیونکر؟ شاید اس لئے مولانا رومی نے کہا تھا ”آپ چالیس عالموں کوایک دلیل سے قائل کر سکتے ہیں لیکن ایک جاہل کو چالیس دلیلوں سے نہیں ہرا سکتے” اب کیا کیا جائے کہ ہمیں ان سے واسطہ پڑا ہے جن کے آگے دلائل کے انبار بھی بے معنی ہیں۔
کبھی توبیعت فروخت کردی ‘ کبھی فصلیں فروخت کر دیں
مرے وکیلوں نے میرے ہونے کی سب دلیلیں فروخت کر دیں

مزید دیکھیں :   خنثیٰ ' خواجہ سراء اور ٹرانس جینڈر ایکٹ