عمران خان کے دو بڑے یو ٹرنز

اپنی کہی ہوئی بات سے مکرنا اور اپنے نظریات سے پھرنا عمران خان کا وطیرہ بن چکا ہے اور اپنی انہی عادات و خصائل کی وجہ سے انہیں یو ٹرن خان بھی کہا جاتا ہے۔اپنی سیاسی زندگی میں وہ کئی بار اپنے خیالات تبدیل کر چکے ہیں۔بار بار یوٹرن لینے پر جب ان پر زیادہ تنقید کی جانے لگی تو انہوں نے اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یوٹرن لینا تو ایک مثبت عمل ہے دنیا کے تمام عظیم لوگوں نے یو ٹرن لیے ہیں اگر یو ٹرن نہ لیا جائے تو زندگی میں جمود آجاتا ہے کیونکہ عمران خان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے زورِ بیان کے ذریعے ایک منٹ میں کھوٹے کو کھرا اور کھرے کو کھوٹا بنانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیںاور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ انکے پیروکار انکی ہر بات پر ایمان کی حد تک اعتقاد رکھتے ہیں۔ابھی حال ہی میں انہوں نے دو بڑے یو ٹرن لیے ہیں ایک تو آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر اور دوسرا امریکہ کے ایشو پر۔عمران خان کو جب عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے بے دخل کیا گیا تو انہوں نے سب سے پہلے تو امریکہ کے خلاف علم بلند کیا کہ میری حکومت کی بیدخلی میں امریکہ کا سب سے بڑا ہاتھ ہے ۔اپنے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر انہوں نے ایک جلسہ عام میں سفارتی دستاویز بھی لہرائی اور کہا کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے پاکستانی سفیر کو بلا کر رجیم چینج کیلئے دھمکی دی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم نے یہ سفارتی دستاویز قومی سلامتی کے اجلاس میں فوجی حکام کے سامنے بھی پیش کی ہے اور انہیں بھی امریکی سازش کے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔عمران خان کے اس دعوے کے بعد جب اپوزیشن نے فوج سے وضاحت طلب کی تو فوج نے امریکی سازش کے متعلق لا علمی کا اظہار کیا ۔عمران خان جو اس وقت فوج پر دبے دبے الفاظ میں تنقید کر رہے تھے مگر فوج کی وضاحت کے بعد کھل کر انکے سامنے آگئے ۔اب انہوں نے امریکہ کے ساتھ ساتھ فوج کے خلاف بھی بیانیہ بنا لیا کہ میری حکومت کے خلاف امریکہ اور فوج نے مل کر سازش کی۔جب آرمی چیف جنرل آصف باجوہ نے واضح کیا کہ فوج سیاسی معاملات میں نہ صرف نیوٹرل ہے بلکہ نیوٹرل رہے گی تو خان صاحب نے نیوٹرل کے لفظ کو بھی شدید تنقید اور استہزا کا نشانہ بنا لیا اور بار بار طنز کرتے ہوئے کہا کہ نیو ٹرل تو جانور ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالی نے حق اور سچ کے معاملے پر کسی کو نیوٹرل رہنے کیلئے نہیں کہا۔بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں جب فوجی ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا جس میں اعلیٰ فوجی حکام شہید ہو گئے تو سوشل میڈیا پر ان کی شہادت کا بھی مذاق اڑایا گیا جو ایک نہایت مذموم حرکت تھی ۔جب تحقیقات ہوئیں تو اس میں زیادہ تر اکاؤنٹس پی ٹی آئی ورکرزکے ملوث نکلے۔چنانچہ آئی ایس پی آر کو کہنا پڑا کہ فوج کے خلاف پراپیگنڈا بند کیا جائے۔اب عمران خان نے نئی حکومت کے آنے تک موجودہ آرمی چیف کو توسیع دینے کی بات کر کے سب کو ورطہء حیرت میں ڈال دیا ہے۔اسے عمران خان کا سب سے بڑا یوٹرن قرار دیا جا رہا ہے۔اسی طرح امریکہ کے معاملے پر بھی عمران خان نے آجکل خاموشی اختیار کر لی ہے اور حالیہ جلسوں میں امریکہ کو رگیدنے سے گریز کیا ہے بلکہ حیرتناک بات یہ ہے کہ11ستمبر کو سابق خاتون امریکی سفارتکار رابن رافیل سے بنی گالا میں ملاقات بھی کی ہے۔رابن رافیل امریکہ کی سابق سفارتکار،سی آئی اے تجزیہ کاراور لابسٹ ہیںوہ نہ صرف سابق امریکی سفیر آرنلڈ ایل رافیل کی بیوہ ہیں جو ضیاء الحق کے ساتھ طیارے میں لقمہ اجل بن گئے تھے بلکہ 1993ء میں اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ جنوبی و وسطی ایشائی امور رہ چکی ہیں۔اس ملاقات پر بہت چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں اور اسے عمران خان کا ایک اوریوٹرن کہا جا رہا ہے کیونکہ عمران خان نے امریکی سازش کے بیانئے پر ہی ملک گیر مقبولیت حاصل کی اور اسی بیانئے کی بدولت ہی اس نے ضمنی انتخابات میں اتحادی جماعتوں کو شکست فاش دی اور ان کے اعتماد کا یہ عالم ہے کہ ستمبر کے آخر میں ہونے والے ہونے والے ضمنی انتخابات میں نو نشستوں پر اپنی جماعت کے وہ واحد امیدوار ہیں ۔اسی امریکی سازش کے بیانئے کی مقبولیت کی وجہ سے وہ اپنی مخالف جماعتوں کے سربراہوں کو للکار رہے ہیں کہ وہ ان کے مقابلے پر خود آئیں اور اپنا انجام دیکھیں ۔اپنی اسی مقبولیت کے زعم میں وہ عدالتوں کے نوٹس کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھ رہے ہیں اور کسی عدالتی حکم کو خاطر میں نہیں لا رہے لیکن اندر سے وہ نہ صرف امریکہ سے بنا کر رکھنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور ان کے ادنیٰ سے ادنیٰ ایلچی کے سامنے دیدہ و دل فرشِ راہ کئے ہوئے ہیں۔گذشتہ ماہ امریکی سفیر سے بذریعہ فون انکی گفتگو منظر عال پر آچکی ہے اور اس سے پہلے امریکی لابسٹ فرم کی خدمات کے حصول کی کوششوں کے تذکرے بھی میڈیا کی زینت بن چکے ہیں۔امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ کے متعلق انکے حالیہ یو ٹرنز نے ثابت کر دیا ہے کہ عمران خان کے ہاں نظریات کی کوئی اہمیت نہیں اور وہ اقتدار کے حصول کیلئے اپنے سب نظریات کو قربان کر سکتے ہیں۔

مزید دیکھیں :   آڈیو لیکس کس کس کے گھر جائے گا یہ سیلاب بلا ؟