شدت پسندوں کی واپسی!

اخباری اطلاعات کے مطابق سوات میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں امن کمیٹی کے ممبرسمیت پانچ افرادشہید ہوگئے جبکہ موبائل کمپنی کے سات ملازمین کوبھی اغواء کرلیاگیادوسری طرف بنوں میں باران ڈیم کے کنٹریکٹرکی گاڑیوں کونذرآتش کردیاگیاہے۔ سوات سے آنے والی اطلاعات کے مطابق افغانستان سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (سوات) کے مزید مسلح شدت پسند سوات میں داخل ہوگئے ہیں اور انہوں نے بالائی پہاڑی علاقوں میں پناہ گاہیں قائم کردی ہیں۔ گزشتہ رات مسلح شدت پسندوں نے تحصیل مٹہ کے علاقہ سخرہ میں تین اطراف سے پولیس چوکی پر حملہ کیا مقامی لوگوں کے مطابق تحصیل مٹہ کے بالائی پہاڑی علاقوں میںمسلح شدت پسندوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ادھر ایک طالب کمانڈر نے اپنے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں سوات میں داخل ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ بھی مسلح شدت پسندوں نے رات کو تھانہ چپریال پر حملہ کیا تھا۔سوات میں مسلم لیگ( ن) کے ایک ایم پی اے کوبھی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اوران سے بھتہ مانگاجارہاہے۔کوہاٹ میں پولیس سٹیشن بلی ٹنگ پر دستی بم حملے میں ایس ایچ او اور چار دیگر پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی ہوگئے۔دوسری طرف قبائلی ضلع کرم میں افغانستان سے ہونے والے حملے میں تین ایف سی اہلکار شہید ہوگئے ۔ خیبر پختونخوا کے بالخصوص قبائلی اضلاع ملاکنڈ ڈویژن جبکہ پورے صوبہ بالعموم ایک مرتبہ پھر خدانخواستہ سنگین صورتحال سے دو چار ہونے جا رہی ہے ایک تسلسل کے ساتھ سیکورٹی فورسز سے تصادم اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے تازہ واقعے سے خاص طور پر مشکل حالات کی نشاندہی ہوتی ہے ان واقعات کے پس پردہ عناصر کوسمجھنا مشکل نہیںیہ وہ ساری صورتحال ہے جسے ہم ایک مرتبہ پہلے بھگت چکے ہیں فائر بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد اب شدت پسند عناصر حکومتی عملداری کو للکارنے لگے ہیں جن کو مزید پھیلنے اور حالات خراب کرنے سے قبل سرحدی علاقوں تک محدود کرکے وہیں پر ان کا صفایا کرنے کی سعی ہونی چاہئے نیز حساس علاقوں سے آنے والے راستوں پر باقاعدہ چیکنگ کا نظام وضع ہونا چاہئے شہری علاقوںمیں سکیورٹی کے انتظامات کوایک مرتبہ پھر اس درجے کا کرنے کی ضرورت ہے جودہشت گردی کے ایام میں تھے ۔ تازہ واقعات سے علاقے میں دہشت گردوں کے واقعات رونما ہونے کے امکانات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور ماضی میں سوات کے جیسے حالات رہے ایک مرتبہ پھر اس طرح کے خدشات اور خطرات ابھر رہے ہیں امر واقع یہ ہے کہ فائربندی ختم کرنے کا اعلان طالبان کی جانب سے سامنے آیا ہے یک نکاتی مفاہمت کے خاتمے کے بعد کشیدگی کی صورتحال غیر متوقع نہیںتھی ۔ اگر دیکھا جائے تو حقیقی معنوں میں فائر بندی کے حوالے سے مفاہمت پر عملی طور پر عملدرآمد ویسے بھی نہیں ہو رہا تھا اب کے واقعات سے اس امر کاواضح اظہار ہوتا ہے کہ شدت پسند عناصر اپنی موجودگی ثابت کرنا چاہتے ہیں حالیہ واقعات کے بعد پاکستان کو افغانستان سے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دینے پر احتجاج کرتے ہوئے ذمہ دار عناصرکے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہئے افغان حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان عناصر کوافغان طالبان اپنی سرزمین پر خاموشی سے رہنے یاپھر علاقہ چھوڑنے کا آپشن بھی دے ان عناصر کے خلاف دیریا بدیر بالاخرتطہیری کارروائی ہونی تھی سوائے اس کے کہ وہ مطیع ہو جائیں اس صورت میں ان کو معافی یا صرف نظر کی رعایت مل سکتی تھی لیکن وہ موقع بھی اب انہوں نے کھودیا ہے اور ایک مرتبہ پھر ریاست کی عملداری کو چیلنج کرنے لگے ہیںاور یکبارگی مختلف علاقوں میں ان عناصر کی جانب سے محاذ کھول دیا گیا ہے جس کے بعد اب سوائے مسکت جواب کے کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا اس مسئلے کا اب مسکت جواب ہی واحد حل ہے اس مرحلے کے بعد یکسوئی کے ساتھ حتمی مرحلہ کی تکمیل پر توجہ ہی آخری چارہ کار اور حربہ باقی رہ گیا ہے اس قضیے کا بالاخر اختتامی باب لکھنا باقی ہے مفاہمتی عمل کی ناکامی اور فائر بندی کے خاتمے کے بعد شدت پسند عناصرکی جانب سے جو شدید ردعمل دیا گیا ہے وہ ہمارے لئے چیلنج ہے جس کا پوری قوت سے جواب دینے کی ضرورت ہے چونکہ سرحد پار سے بھی کارروائی کی گئی ہے جس کا سرحد پار جواب دینا نامناسب نہیں اینٹ کا جواب پتھرسے دیا جائے ایسا کرنا گربہ کشتن روز اول کے زمرے میں نہیں شمار ہوگا بلکہ اب پانی سر سے اونچا ہونے جارہا ہے جس میں مزید انتظار اور تاخیر کی گنجائش نہیں۔ ان حالات میں صوبے کے عوام میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ فطری امر ہو گا۔ اس ضمن میں صوبے کے عوام ماضی کے تجربات اور تکلیف دہ یادداشت کے باعث سخت پریشانی کا شکارہیں جن کوتحفظ کا عملی احساس دلانے کا تقاضا ہوگا کہ شدت پسند عناصر کے خلاف تطہیری مہم بلاتاخیر شروع کی جائے شہروں میں کرایہ نامہ دیکھنے اور مشکوک عناصر کی جانچ پڑتال اور مضافاتی علاقوں میں ممکنہ طور پر شدت پسند عناصر کی آمد کے خطرات کا پہلے سے توڑ اور بندوبست ہونا چاہئے تاکہ عوام میں عدم تحفظ کا احساس دور ہو اور امن وامان کی صورتحال پوری طرح قابو میں رہے ۔تحریک طالبان کی جانب سے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے اور سرحد پر دہشت گردانہ حملے کے بعد اب مزید صبر وبرداشت کارویہ ترک کرکے واضح طور پر دہشت گردوں کے صفایا کی اعلانیہ مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے اس مقصد کے لئے سرحدوں سے لیکر قصبات اور شہروں میں ضرور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے کوشش کی جائے کہ مزید پھیلنے سے قبل فتنہ گروں کو جتنا ہوسکے گھیر کر محدود کرکے ان کاقلع قمع کیا جائے۔

مزید دیکھیں :   ایک نظر حیات آباد پر بھی ڈالئے