جسٹس اطہر من اللہ

عمران خان کی تقریر نامناسب تھی پر دہشتگردی کی دفعہ نہیں بنتی، جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف خاتون ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکانے پر درج دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر جے آئی ٹی سے پیر تک رپورٹ طلب کرلی۔
ویب ڈیسک: خاتون جج کو دھمکی دینے کے مقدمے میں عمران خان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے کی۔
عمران خان کے وکیل سلمان صفدر، سپیشل پراسیکوٹر رضوان عباسی اور کیس کے تفتیشی افسر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آخری سماعت میں کہا تھا کہ عمران خان تفتیش جوائن کریں جس پر پراسیکوٹر راجہ رضوان عباسی نے بتایا انہوں نے تفتیش جوائن کی ہے، عدالت نے پوچھا تفتیشی افسر بتائیں گے کیا دہشت گردی کی دفعہ لگتی ہے یا نہیں؟ اس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ دہشت گردی کی دفعہ اس کیس میں لگتی ہے۔
بعدازاں عدالت نے عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ لگنے یا نہ لگنے سے متعلق جے آئی ٹی سے پیر تک رپورٹ طلب کرلی۔
عدالت نے عمران خان کی مقدمہ اخراج درخواست پر سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کردی۔

مزید دیکھیں :   13 دنوں میں ڈالر کی قدر میں 13 روپے کی کمی