آئی ایم ایف ‘ حکمران اور عوام

پاکستان کے قیام کے بعد بزرگان وطن کے سامنے مسلمانان پاکستان کے اسلامی تشخص کے ساتھ ساتھ ایک بڑا مقصد یہ بھی تھا کہ یہاں کے عوام کے معاشی حالات بہتر سے بہترین کی طرف گامزن ہوں گے ۔ ہمارے بزرگوں کو بخوبی علم تھا کہ پاکستان کی سرزمین خزانوں سے بھری ہوئی ہے ۔ پنجاب کی وسیع و عریض زرعی زمین جس کے لئے دنیا کا بہترین نہری نظام موجود ہے ‘ مسلمانوں کے ہاتھوں میں آکر اور ہندو ساہوکاروں کی زنجیروں سے آزاد ہو کر یہاں کے عوام کو روٹی ‘ کپڑا ‘ مکان کے غم سے نجات دلانے کے لئے کافی ہو گی۔ بلوچستان اور پختونخوا کے پہاڑی سلسلے ماہرین کے مطابق قیمتی معدنیات ‘ سونا ‘ لوہا اور نہ جانے کن کن دیگر اشیاء سے پھٹے پڑے ہیں۔ سندھ کے صحرائوں ‘ تیل ‘ گیس اور کوئلہ کے کانوں کی کمی نہیں چاہئے تو یہ تھا کہ قیام پاکستان کے پہلے اور دوسرے پنج سالہ منصوبوں کے بعد یہ ملک معاشی لحاظ سے اپنے پائوں پر مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہوتا ‘ لیکن واہ رے شومئی قسمت کہ بابائے قوم کی وفات کے دس برس بعد یعنی 1958ء میں پاکستان پہلی بار آئی ایم ایف کے در پر سوالی بن کر کھڑا ہوگیا۔ وہ ماہ وسال اور آج کا دن پاکستان وقتاً فوقتاً اس ادارے کی طرف رجوع کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا رہا جس کی بھاگیں امریکہ اور برطانیہ کے مضبوط ہاتھوں میں ہیں ۔
1958ء سے لیکر آج تک وطن عزیز میں جب بھی نئی حکومت بنی ہے ‘ وہ سول ہو یا فوجی مارشل لاء ‘ اس کا سب سے بڑا کارنامہ آئی ایم ایف سے قرض کا حصول ہوتا ہے اس کا بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ہر حکومت اپنی دانست میں ظاہراً عوام کی بہبود و بھلائی کے نام پر نئے منصوبے اور حکومتی اخراجات پورے کرنے بلکہ اپنی مرضی کے مطابق پورے کرنے کے لئے قرضے لیتی ہے ۔ لیکن ان قرضوں میں سے بہت معمولی حصہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتا ہے اور تقریباً80/70 فیصد رقم بہتی گنگا کی مانند ملک کے طاقتور اور بااثر خاندانوں اور افراد کے لئے سرتاپا غوطے لگانے کے مواقع فراہم کرنے پر خرچ ہوتی رہی ہے ۔
ایوب خان کے دور میں اسی آئی ایم ایف کی رقوم نے بائیس خاندانوں کو جنم دیا تھا ‘ اس بات کا انکشاف معروف ماہر معاشیات اور قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر محبوب الحق نے کیا تھا ‘ اسی پر حبیب جالب مرحوم نے اپنی مشہور نظم ”بیس گھرانے” تحریر کی تھی۔جس کا پہلا شعر ضرب المثل بن گیا تھا ”بیس گھرانے ہے آباد ۔۔ اور کروڑوں ہیں ناشاد۔ صدر ایوب زندہ باد” ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی حکومت سے علیحدہ ہو کرملک میں عوامی انقلاب کے ذریعے نظام کو تبدیل کرنے کانعرہ بلند کیا لیکن آپ نے صنعتوں کو قومی تحویل میں لے کر پاکستان کے معاشی مسائل کو اور بھی گھمبیرتا کا شکار کیا اور اس کے نتیجے میں ملک سے سرمایہ ‘ بیرون ملک منتقل ہوگیا اس کے نتیجے میںپاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنستا چلا گیا اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں بائیس خاندانوں کی تعداد میں ا ضافہ ہوا اور آج اکتیس خاندان پاکستان کے 80 نوے فیصد معاشی وسائل پر قابض ہیں۔
پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود آئی ایم ایف کے قرضوں میں ایسا پھنس گیا ہے کہ ملک و حکومت کی آمدنی کا بیشتر حصہ قرضوں اور اس کی سود کی ادائیگی کرنے پر خرچ ہوجاتا ہے ۔پاکستان میں گزشتہ عشروں سے حکمران آئی ایم ایف ‘ ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرض لے کر اپنی حکومتیں چلاتے ہیں ‘ اور اس کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کے نام پر کرپشن اور لوٹ مار کرکے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے دوبڑے سیاسی خاندانوں کی بیرون ملک اربوں ڈالر کی جائیدادیں اور ملکیتیں اس کا ثبوت ہیں۔ اس وقت پاکستان کا کوئی بھی بچہ پیدا ہوتے ہی لاکھوں روپے کا مقروض بن جاتا ہے ہمارے عوام کو ہمارے حکمرانوں نے اس بلا میں ایسا گرفتار کرایا ہے کہ اس سے نکلنے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی۔ بدقسمتی سے گزشتہ ساٹھ برسوں میں پاکستان کو کوئی باصلاحیت اور دیانتدار قیادت میسرنہ آسکی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں نے ذاتی مفادات کو قومی اور اجتماعی مفادات پر ترجح دے کر ملکی تعمیر و ترقی پر بہت کم توجہ دی ۔
آئی ایم ایف کے قرضے اکٹوپس اور اکاس بیل کی مانند ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے قرضے بمعہ سود واپس لینے کے لئے عوام کو دی گئی ہر قسم کی سبسڈی ختم کرا کر حکومتوں کو ٹیکس پر ٹیکس لگانے پر مجبور کرتی ہیں اور یوں ملک میں معاشی بدحالی پیدا ہوتی ہے اور عوام میں بے چینی کا سبب بنتی ہے ۔ آج پاکستان میں متوسط اور غریب طبقات بڑھتی مہنگائی کے ہاتھوں زندہ درگور ہونے کے مانند ہیں’ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام ‘ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر سر بسجود ہوں کہ ہم ان حالات سے نجات پا سکیں اور اپنی طرف سے کوئی مخلص ‘ باصلاحیت اور دیانتدار قیادت مقرر فرما دے ۔ آمین۔

مزید دیکھیں :   مشرقیات