ہرچہ داناکند کند نادان

ما شاء اللہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی کردار کی طرف توجہ مر کو ز کردی ہے انھوں نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے وقت اس سوال پر کہ ایون صدر موجو دہ سیاسی کشید گی کو ختم کرنے کے لیے کوئی کر دار اد کر رہا ہے اورکیا پاکستانی عوام اس سلسلے میں کسی اچھی خبر کی توقع کر سکتے ہیں کچھ اس طرح بتایا کہ وہ پیشگوئی نہیں کریں گے تاہم وہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ پرامید ہیں اورہراچھی کوشش میں اللہ برکت ڈالتا ہے ۔صدر مملکت کے محولہ انٹرویوکے چندروزبعد چیئر مین پی ٹی آئی عمر ان خان نے ایک دوسرے ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کافی اہم ہے اور اس کا اختیار نئی منتخب حکومت کو ہوناچاہیے ۔ عمر ان خان نئے آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں متعد د مرتبہ بیا ن دے چکے ہیں اور اس انٹرویو میں کہ آرمی چیف نومبر میں سکبدو ش ہو رہے ہیں جبکہ انتخابات نومبر کے بعد متوقع ہیں جس پر عمر ان خان کا کہناتھاکہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ان کو وکلا ء نے بھی بتایا ہے کہ گنجائش نکل سکتی ہے ، گنجائش سے ان کی کیا مر اد ہے ، اس کی کوئی وضاحت کھل کر نہیں کرتے ، وہ کیو ں چاہتے ہیں کہ موجودہ آرمی چیف ہی مد ت ملازمت مکمل کرنے کے بعد بھی عہدہ سنبھالے رکھیں ، اور انتخابات تک صورت حال جو ں کی تو ں ہی رہے ۔ عمر ان خان جب سے اقتدار سے آئینی طور پر الگ ہوئے ہیں تب سے وہ بند لفظوں میں اسٹبلشمنٹ کو حدف تنقید بنائے ہوئے ہیں ، کیا وہ نئے انتخابات کے مو قع پر بھی ایسا ہی کچھ کر نے کاارادہ رکھتے ہیں ، آرمی چیف کی تقرری کوئی سیاسی تقرری نہیں ہو ا کرتی یہ آئینی تقاضا ہے اور ساتھ ہی ملکی قومی مفاد بھی شامل ہے ، پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ عمران خان نے اسٹبلشمنٹ کو سیا سی کھیل میں الجھا نے کی سعی کی ہے انھو ں نے اپنی اقتدار سے علیحدگی کے بعد سے جو اشارے استعمال کیے ان میں بہت کچھ محجوب رہا ہے ، انتخابات ایک سیا سی عمل ہے جس کا سرکاری تقرریوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ، تاہم عمر ان خان کی سیا ست کی جو نہج اقتدار ہا تھ سے نکل جا نے کے بعد رہی ہے اس میں ان کی جد وجہد میں جمہوریت کی مضبوطی ، یا عوام کی خوشحالی ، یا جمہوری اقدار کو اعلیٰ وارفع مقام دلانا نہیں رہا ہے بلکہ صرف ایک ہی جد وجہد نظر آرہی ہے کہ اسٹبلشمنٹ ہو یا کوئی اور ان کو دوبارہ اقتدار کی شاہی کر سی پر براجما ن کر دے ، اسی لیے انھو ں نے سیلاب کی تباہ کا ریو ں ، اورمصیبت زدہ عوام کو بھی نظر انداز کیے رکھا ،دو دومنزل تک چڑھے ہوئے پانی کے باوجو د وہ اپنی انتخابی مہم چھو ڑ نے کے روا دار نظر نہیں آئے ،کیا کس جمہوری ملک میں فوج کا کوئی کر دار ہو تا ہے ، ایسا صر ف ان ممالک میںہو تا ہے جہا ں جمہوریت نہ ہو بلکہ شخصی حکومت کاٹھیّہ لگا ہو جیساکہ ترکی میں رہا یامصر ، یا روس میں سوویٹ یو نین کے دور میں اور اب بھی روس میں عملا ًایسا ہی نظام رہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ موصوف ما ضی قریب میں کبھی روس ما ڈل کبھی ترکی ما ڈل توکبھی مصر ما ڈل وغیر ہ کی با ت کرتے رہے ہیں ، وہ آرمی چیف کی تقرری سے کیو ں گھبرائے ہوئے ہیں ؟البتہ انھوںنے فرمایاتھا کہ یہ اس لیے اپنا آرمی چیف لا ناچاہتے ہیںکہ اپنی چوریا ں اورکر پشن ختم کر ا سکیں ، اس کے علاوہ جو کچھ کہا ا س کا ذکر یہاں غیر دانشمندانہ ہے لیکن کیا وہ نہیں جا نتے کہ کرپشن کو ملفوف کرنے کے لیے اور بھی طاقتیں ہیں جس کا استعمال وہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں ابھی حال میں انھوںنے پنجا ب حکومت سے فرح گو گی کو پلا ٹ کے فراڈ کیس سے گلوخلا صی کرائی ہے جو گزشتہ حکومت کے دور میں تفتش کے مرحلے میں تھا ، پنجا ب حکومت نے اس تفتیشی افسر کو بھی کھڈے لائن لگادیا جو اس کیس پر مامو ر تھا ، خیر بات ہورہی تھی سیاسی مفا ہمت کی اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ گزشتہ آٹھ دس سال سے سیا ست میں نفرت انگیزی ، فتنہ پروری وعنا د پیدا ہوا ہے اس نے ملک کو کئی جھٹکے دئیے ہیں ، اللہ کا کر م اورنصرت اس قوم کے ساتھ ہے کہ بڑے بڑے جھٹکے یہ قوم سہہ جاتی ہے ، اب مفاہمت کی ڈوری چل رہی ہے تو یہ کھینچنا نہیں چاہیے ، کیو ں کہ کھینچاتانی سے ڈور ٹوٹ جایا کرتی ہے ، خبروںکے مطا بق ایوان صدر میں عمر ان خان اور جنر ل قمر باجوہ کی ملا قات کی اطلا ع ہے ، جس کی کسی طرف سے تصدیق تونہیں ہوئی ہے نہ تردید مگر ایسے حساس معاملے کی فوری تردید آجایا کرتی ہے اگر وہ وقوع پذیر نہ ہو ۔ بہر حال نیک شگو ن ہے ، بی بی سی نے ایک اطلا ع یہ بھی دی ہے کہ اسے وفاقی کا بینہ کے ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کر نے کی شرط پر خواجہ آصف اورپرویز خٹک کے درمیان رابطوں کی تصدیق کی ہے ، اس اطلاع کے بارے میںپرویز خٹک نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر اپنی ملا قات کی تردید کی تاہم انھوں نے سیاسی رہنما ؤں میںرابظوں کی تردید نہیںکی ، اب کوئی پر ویزخٹک صاحب سے استفسار کرے کہ اقتدار چلے جانے کے بعد سے ہی پی ٹی آئی کو انتخابات کاجنون چڑھا ہواہے حتٰی کہ سیلا ب میںڈوبی قوم کو بھی نظر انداز کر کے پی ٹی آئی انتخابی مہم کو گر ما تی رہی ، کیا یہ جنون یکطر فہ نہیں ہے مفاہمت کے کیا مفہوم بس یہ ہی ہیں کہ ایک فریق کا مطالبہ بے چو ںوچرا تسلیم کرلیا جائے یہ تو مفاہمت نہیں کہلائی جا سکتی ، اور انتخابات کیو ں ہو ں اس کی وجہ کیا ہے ماضی میں اس امر پر زور دیاجاتارہا ہے کہ پاکستان میںجمہوریت کو اس لیے استحکام نہیں ملا کیوںکہ منتخب حکومتوںکو چین سے کام نہیںکرنے دیا جاتا نہ مدت پوری کرنے دی جا تی ہے ، خیر اب بظاہر مدت توپوری کرنے دی جاتی ہے تاہم چین کا معاملہ ہنوز کھٹائی میں پڑا نظر آتا ہے ، سچ تو یہ ہے کہ2014سے جو سیاسی ہلچل پھوڑی گئی ہے وہ اب بھی جوبن کے ساتھ جا ری ہے ، پاکستان میںدکھ کی بات یہ ہے کہ بعض حلقے خواہشات کے سبھی پجاری بنے ہوئے ہیں ان کی سمجھ میں صرف یہ بیٹھا ہو ا ہے کہ آزادی کا مفہوم بس یہ ہی ہے کہ آئین اور قانون سبھی سے آزاد ، کیا یہ سچ نہیں کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ایک منتخب حکومت کو آئین کی بالادستی کے ذریعے الگ کیا گیا ، کیا موجو د ہ حکومت آئینی نہیں ہے ؟ اگر نہیں ہے تو عدالت سے رجو ع ہوا جا سکتاہے وہاں کی تو سہولت ہے ، بات کھری ہوجائے گی۔

مزید دیکھیں :   سرکاری تعلیمی اداروں کا المیہ