غضب کیاجو تیرے وعدے پہ اعتبار کیا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پراونشل لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول کونسل کے اجلاس میں صوبے کے چھ اضلاع پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ ، صوابی اور ایبٹ آباد کیلئے ڈسٹرکٹ لینڈ یوز پلان کی اصولی منظوری دی گئی ہے جس کا مقصد زمین کے استعمال کے سلسلے میں اصول وضوابط کا تعین ، مختلف مقاصد کیلئے زمین کی تخصیص اور مینجمنٹ کے علاوہ اضلاع کی سطح پر بندوبستی درجہ بندی ، اہم اور بنیادی ڈھانچے کی منظم بڑھوتری اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے شہری اوردیہی علاقوں کی مربوط و دیرپا ترقی سے متعلق رہنمااصول اور ہدایات فراہم کرنا ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے مستقبل میں ہائوسنگ اسکیموں کی اضافی ضرورت کے سلسلے میں تجاویز بھی پلان کا حصہ ہیں۔ مجوزہ پلان کے تحت دیہی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جو دیہاتوں سے شہروں کی طرف منتقلی کے رجحان کو کم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو گی ۔ علاوہ ازیں صوبے کے معروضی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل میں سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جبکہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق مجوزہ روڈ نیٹ ورک کے علاوہ نئے صنعتی زونز، کمرشل مراکز اور دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے منصوبہ بندی بھی پلان میں شامل ہے ۔دریں اثناء صوبہ بھر میں دریائوں ، نہروں اور ندی نالوں کے کناروں پر تجاوزات کے خلاف بھر پور کاروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیاہے کہ سیلاب کی صورت میں مذکورہ تجاوزات جانی و مالی نقصانات کا باعث بنتی ہیں اس لئے ان کا مکمل تدارک ناگزیر ہے ۔ ہر حکومت وقت اور عمال باتوں کی حد تک نہایت کامیاب منصوبہ ساز اور عملدرآمد کروانے والے ہیں لیکن بات جب عملدرآمد کی آجائے تو خواہ وہ گزشتہ دس سالوں کے تسلسل کی حکومت ہو یا قبل ازیں کی حکومتیں نشستند وگفتند و برخواستند کا تو ریکارڈرکھتی ہیں عملی طور پر کم ہی ادوارمیں کام ہوا ہے جن ادوار میں کام ہوا یا جن جن حکمرانوں اور حکام نے کام کیا ہے ان کا نام آج بھی عوام کو ازبر ہیں۔جن جن اضلاع کے حوالے سے پلان کی منظوری دی گئی ہے وہاں اب کسر باقی نہیں رہ گئی خاص طور پر زرعی اراضی اور باغات کی تباہی کا زیادہ افسوس ہوتا ہے اس حوالے سے حکومت کی پالیسی پہلے سے موجود ہے اور عدالتیں بسا اوقات احکامات صادر کرتی آئی ہیں لیکن اس کے باوجود کیا صورتحال ہے اس کا اعادہ نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہو گا صوبہ بھر میں دریائوں اور ندی نالوں کے کناروں پر تجاوزات کامعاملہ بھی نئی بات نہیں اور اس حوالے سے بھی ارتکاب غفلت کوئی نئی بات نہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ نوبت کب آئے گی جب حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں پر عملدرآمد ہوتا نظر آئے گا اور اس امر پراطمینان کا اظہار کیا جاسکے گا کہ دیر آید درست آید حکومت نے بالاخر سنجیدگی کا مظاہرہ ضرور کیا۔
شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی
بجلی کے ہوشربا بلوں سے بچنے کیلئے گھروں میں سولر سسٹم لگانے والے صارفین بھی اب حکومتی تیور دیکھ کر شدید تشویش کا شکار ہیں کیونکہ ملک میں بجلی سپلائی کو ریگولیٹ کرنے والا محکمہ نیپرا اپنے قواعد میں ایسی ترمیم کرنے جا رہا ہے جس سے نیٹ میٹرنگ کے ذریعے واپڈا کو بجلی سپلائی کرنے والے افراد کو بیس فیصد تک کا نقصان ہو سکتا ہے جبکہ کچھ صارفین کو اب بل بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اب سولر صارفین کو قومی بجلی کی اوسط قیمت کی جگہ قومی توانائی کی اوسط قیمت کے برابر فی یونٹ قیمت ادا کی جائے گی۔ پہلے سولر صارفین کو ڈسٹری بیوشن کمپنیاں وہی اوسط قیمت ادا کرتی تھیں جس پر وہ بجلی نیشنل ٹرانسمیشن سسٹم سے خریدتی تھیں تاہم اب وہ کمپنیاں صارفین کو انرجی کی اوسط قیمت پر ادائیگی کریں گے جو کہ بجلی کی قیمت سے پانچ سے سات روپے فی یونٹ کم ہو گی۔ملک میں سستی بجلی کی پیداوار ہی کو مناسب حل سمجھا جاتا ہے خود حکومت بھی شمسی توانائی کا بڑا منصوبہ شروع کرنے کی تیاری میں ہے لیکن صارفین کی حق تلفی اورحوصلہ شکنی کا جو رویہ اختیار کیا جانے لگا ہے اس کے بعد ملک میں شمسی توانائی کے شعبے میں لوگ مزید سرمایہ کاری کرنے سے ہاتھ کھینچ لیں گے بعید نہیں کہ دوسرے مرحلے میں حکومت شمسی توانائی گرڈ کو دینے والے صارفین پر ٹیکس بھی عائد کر لے اس کے باوجود آئے روز مہنگی بجلی اور بھاری بلوں سے فرار کی واحد صورت صارفین شمسی توانائی پر منتقلی ہے حکومتی اقدامات کے بعد اب صارفین کا بڑے پیمانے پر سولرسسٹم کی تنصیب سے احتراز فطری امر ہوگا جس کے بعد محدود پیمانے اور اپنی ضرورت ہی کے مطابق شمسی توانائی کے حصول کی سعی ہو گی حکومت اگر صارفین کو سہولت فراہم نہیں کرسکتی توا ن کی حوصلہ شکنی بھی نہ کرے اور مجوزہ اقدام کی اجازت نہ دی جائے تاکہ صارفین اور سرمایہ کاروں کی حق تلفی نہ ہو اور شمسی توانائی کی پیداوارمتاثر نہ ہو۔

مزید دیکھیں :   حساس معلومات محفوظ ہیں؟