ادویات کی عدم دستیابی اور مہنگائی

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان نے مارکیٹ میں پیناڈول گولیاں شارٹ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام پہلے ہی پریشان ہیں۔ اب پیناڈول کی عام دوا بھی مارکیٹ میں دستیاب نہیں؟ عدالت نے پیناڈول گولیوں کی دستیابی تین ہفتوں میں یقینی بنانے کا حکم دیا عدالت نے پیناڈول سمیت ادویات کیلئے خام مال ملک میں تیار کرنے سے متعلق الگ الگ رپورٹ بھی مانگ لی۔ تین ہفتوں میں پینا ڈول کی مارکیٹ میں دستیابی یقینی نہ بنائی گئی تو پھر سیکرٹری ہیلتھ اور دیگر اعلی حکام کو طلب کریں گے جبکہ اس حوالے سے رپورٹ بھی طلب کرلی۔کابینہ کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کیے جانے کے بعد غیر ملکی دوا ساز کمینیوں نے پیناڈول سمیت 100سے زائد سستی داوئیں بنانا بند کر دیا ہے۔ قیمت پر اختلاف کی وجہ سے دوا ساز کمپنیوں نے پیناڈول سمیت 100سے زائد سستی ادویات کی پیداوار بند کر رکھی ہے، جس سے مارکیٹ میں ان کی قلت ہوگئی ہے اور ان کی متبادل دوائیں مزید مہنگی ہوگئی ہیں۔ کابینہ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ)کی سفارش کے باوجود100سے زائد سستی ادویات کی قیمتیں بڑھانے سے انکار کردیا ہے، جس کے بعد کمپنیوں نے پیداور روک دی ہے۔ہول سیلرز کے مطابق مقامی کمپنیاں یہ دوائیں بلیک میں فروخت کر رہی ہیں جس کی وجہ سے قیمتیں اور بڑھ گئی ہیں۔ جبکہ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے سٹورز کے خلاف کارروائیاں شرو ع کر رکھی ہیں۔ ایک ماہ میں پیناڈول کی40کروڑ گولیاں فروخت ہوتی ہیں دوا ساز کمپنیاں قیمتیں بڑھانے کے لیے بلیک میل کرتی ہیں اور مریضوں کی مشکلات کو نظر انداز کرتے ہوئے منافع دگنا کرنے کی جدوجہد میں لگ جاتی ہیں۔ایسے حالات میں جب سیلاب زدہ علاقوں میں وبائیں پھوٹ چکی ہیں اور کرونا اور ڈینگی وائرس بھی اپنا اثر دکھا رہا ہے، لوگوں کی مشکلات بڑھانا افسوسناک ہے۔پیناڈول ایک برانڈ کا نام ہے جبکہ کئی کمپنیاں بخار کی دوا بناتی ہیں۔ عام آدمی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی زبان پر پینا ڈول کا نام چڑھا ہوا ہے۔ ورنہ اگر پیناڈول نہ ہو تو بخار کے علاج کی دوسری دوائیں بھی موجود ہیں۔ گزشتہ سال بھی ڈینگی کے کیسز بڑھنے سے اس کی قلت ہو گئی تھی تاہم اس سال سیلاب کے بعد ڈینگی بخار کے کیسز میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے پیناڈول کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔پاکستان میں150کمپنیوں کے پاس پیناڈول بنانے کا لائسنس ہے لیکن صرف ایک ملٹی نیشنل کمپنی یہ تیار کرتی ہے۔ ڈریپ نے کبھی بھی ان کمپنیوں سے نہیں پوچھا کہ ایک کمپنی کے علاوہ دوسری کمپنیاں پیناڈول کیوں نہیں تیار کرتیں۔ادویات کی قلت اور ناپیدگی ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے بخار کی گولی کی تو متبادل موجود ہے لیکن ذہنی امراض کی ناپید ادویات کا متبادل بھی موجود نہیں اورایک عرصے سے مرگی اور ڈپریشن کا شکار افراد مہنگے سے مہنگے داموں بھی ادویات نہ ملنے کے باعث سخت پریشانی کا شکار ہیں اور ان کے امراض کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جو خود کشی جیسے انتہائی اقدام کی شرح میں مزید اضافہ کا باعث بن سکتا ہے ایک عام آدمی کا یہ مسئلہ نہیں کہ کارخانہ داروں اور حکومت کی کیا مشکلات ہیں عام آدمی خاص طور پر مریضوں کو ہر قیمت پر ادویات کی ضرورت ہے ہر قیمت کا مقصد مہنگے داموں نہیں بلکہ مناسب قیمت پر ادویات کا حصول ان کا حق اور اسے یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے وزارت صحت ہو یا ڈریپ یا پھر کابینہ کے فیصلے ہوں کسی کے پاس اپنے بارے دلائل اورموقف ہے ادویات ساز کمپنیوں کا بھی اپنا موقف اور ان کی اپنی مجبوریاں ہیں لیکن سب سے زیادہ مجبور وہ مریض اور ان کے لواحقین ہیں جن کو ادویات کی ضرورت ہے ملک کی آبادی کا دوگنا حصہ یعنی آبادی کی کل تعداد کا بھی ماہوار ڈبل جتنے افراد پیناڈول کا استعمال کرتی ہے جس سے یہ اخذ کیا جائے کہ بچوں کی تعداد کو منہا کرکے تقریباً تمام افراد پیناڈول استعمال کرتے ہیں بد قسمتی سے ہمارے ہاں خود اپنے لئے نسخہ تجویز کرنے اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوائی استعمال کرنے کا خطرناک رجحان پایا جاتا ہے پیناڈول کا استعمال چائے پانی کی طرح کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کا استعمال بڑھ جاتا ہے اگر واقعی ضرورت کے لئے اس کا استعمال ہو تو اس کا استعمال ماہانہ چالیس کروڑ کی بجائے دس کروڑ بھی نہ رہ جائے اس ضمن میں شعور و آگاہی کی ضرورت کے ساتھ ساتھ بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے ادویات کی فروخت کی ممانعت کو صرف لفظی نہیں عملی شکل دینے کی ضورت ہے پیناڈول بخار کی واحد گولی نہیں بلکہ دیگر ناموں سے بھی دستیاب ہے مگر چونکہ پاکستان میں نسخے اور جنرک نام پر نہیں بلکہ کمپنی کے ناموں کی مشہور ادویات کا رواج ہے اس لئے بھی اس کا استعمال بڑھ جاتا ہے عوام کو تو معلوم ہی نہیں ہونا چاہئے کہ کس گولی کا کیا نام ہے بلکہ ان کوتو نسخہ لکھ کردیا جائے اس طرح سے ہی ملک میں بغیر مشورے کے خودسے ادویات کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہوگی اور اس میں کمی آئے گی حکومت اور عدالتوں کو بین الاقوامی مروج طبی طریقہ کار اور نسخہ جات کی پابندی کا قانون وضع کرکے اس پرسختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کی صورتحال میں بہتری آئے۔

مزید دیکھیں :   اہل سیاست کی تعلیمی درسگاہوں میں آمد