سیلاب کے بعد

دو ہزار دس سے قبل ہی خیبرپختونخواکے محکمہ انہار کے انجینئر عبدالولی یوسفزئی چیختے رہے واسطے دیتے رہے کہ ہم اپنی غلطیوں کے باعث ایک موسمیاتی بربادی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کی نظر گلیشیئرز سے لے کر جنگلات کی کٹائی اور نہروں کے بہائو پر جمی رہتی۔ یہ وہ وقت تھا جب تحریک انصاف کے رہنما پرویزخٹک محکمہ انہار کے صوبائی وزیر تھے۔ بہرحال سیلاب آیا بربادی گزری اور انجینئرعبدالولی یوسفزئی نے ایک چیز کی نشاندہی کی کہ انفراسٹرکچر کو نقصان دریائوں کی حدود میں تجاوزات اور درختوں کے تنوں کی سیلابی ریلوں میں موجودگی کے باعث ان کی رفتار اور طاقت کے اثرات توپ کے گولوں کے برابر ہو چکے تھے۔اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے پوچھا گیا کہ جو اس قدرتی آفت کا انسانی پہلو ہے۔ جو اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ہے اس حوالہ سے حکومت کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جواب ملا کہ یہ تو اگلے دس بیس سال کی کہانی ہے اس وقت پوری توجہ ریلیف کے کاموں پر ہے۔ دنیا بھر سے امداد آئی میڈیا نے خوب میلے لگائے۔ پھر زندگی معمول پر آگئی۔ انجینئر عبدالولی یوسفزء ریٹائرڈ ہوگئے گو کہ زرغون تحریک کے نام سے انہی ماحولیاتی ایشوز کیلئے آواز اٹھاتے رہتے ہیں لیکن ظاہری بات ہے کہ اب سرکار کا حصہ نہیں رہے۔اس کے باوجود صوبے کے وسائل اور خصوصا قدرتی وسائل کے حوالہ سے پریشان رہتے ہیں۔ یہ جو دھڑا دھڑ ہائوسنگ سوسائٹیز کا فیشن نکلا ہے اس پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ سرکار اور عوام کے ساتھ ساتھ میڈیا کی دلچسپی بھی ان موضوعات میں نہیں رہی۔ ٹورازم کے فروغ کیلئے پر فضا وادی میں سوچے سمجھے بغیر سڑکیں بنائی گئیں۔ سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ہی زمینوں کی قیمتیں بڑھا دی گئیں۔ یہ سب کچھ ایسے نہیں ہوا بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا۔ حرص اور ہوس بڑھا تو دریا کو بھی ہضم کرنے کی کوشش ہونے لگی۔ٹنوں کے حساب سے پلاسٹک اور آلودگی ان پرفضا وادیوں میں بھری گئی۔ بلین ٹریز پراجیکٹ کا کہا گیا لیکن وہ تو کرپشن کا شکار ہوگیا۔ گویا ہم وہ بدقسمت معاشرہ ہیں کہ جہاں چھوٹے بچوں کی طرح چھوٹے پودے تک محفوظ نہیں ہیں۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے۔ تب موسمیاتی تبدیلی تو آنی ہی تھی۔ گرمیاں شدید اور طویل ہونے لگیں۔ ہوٹلوں والے اور صاحب حیثیت افراد مزید دریا ہڑپ کرنے لگے۔ وہ یہ بھول گئے کہ لاکھوں سال سے یہ منصوبے کامیاب نہیں ہوئے اور قدرت اپنے راستے نکالنے لگتی ہے۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے بارہ برس بیت گئے۔ قدرت نے راستہ ان کو تباہ کرکے ہٹا کر بنایا۔ سوشل میڈیا کی وساطت سے آپ نے وہ مناظر خود دیکھے۔ بڑے بڑے محلات ملیا میٹ ہوئے ۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے سوات جا کر قدرت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کی نشاندہی کی۔ یہ خیال کیا جاتا رہا کہ شاید ان عناصر کے
خلاف کارروائی ہوگی جو اس جرم کے معمار اور سہولت کار تھے۔ کم از کم ان کرداروں کے نام تو سامنے لائے جائیں گے۔لیکن اب تک خاموشی چھائی ہے۔ آہستہ آہستہ ملکی میڈیا کو بھی سیلاب کا موضوع خشک نظر آنے لگا۔ اگر کوئی اکا دکا چینل خبر چلائے تو چلائے ورنہ تو لوگ اب آہستہ آہستہ بھولنے لگے ہیں۔ اس دوران نوشہرہ کے خطرے کی صدا بھی بلند ہوئی۔ نوشہرہ میں خاتون انتظامی افسرقراہ العین وزیر کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ محکمہ انہار کے انجینئر شیرین خان وادی پشاور جس میں پشاور، چارسدہ، نوشہرہ کے نواحی علاقے شامل ہیں کو مسلسل مانیٹر کر رہے تھے۔ جہاں جہاں دریا اور نالوں میں طغیانی کے خدشات ہوتے انجینئر شیرین خان وقت سے پہلے پہنچ کر پانی کے بہائو کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے متبادل طریقوں سے پانی کی گزرگاہ کا بندوبست کرتے۔ خصوصا ڈیمز کی موجودگی میں خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے ڈیمز کی صورتحال کو بھی مسلسل نگرانی میں رکھا۔ وہ تربیلا ڈیم اور وارسک ڈیم سے مسلسل رابطوں میں تھے۔ نوشہرہ میں بڑے پیمانے پر تباہی نہ ہونے کا ایک بڑا سبب تربیلا ڈیم کی انتظامیہ کا درست فیصلہ بھی تھا۔ باقی یہ جو علاقے دریائے کابل کے نواح میں سیلابی بند کی موجودگی سے بچ گئے ہیں یہ انہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ دراصل سابق وزیراعلی پرویز خٹک نے 2010 میں نوشہرہ کی بربادی دیکھ کر دریا کنارے حفاظتی پشتوں کی منظوری دی تھی جس پر اب بھی کام جاری ہے اور جس میں انجینئر شیرین خان تیزی لائے ہیں۔ سرکار میں موجود یہ لوگ بسا اوقات میڈیا سے دور رہتے ہیں لیکن یہ وہ خاموش ہیروز ہیں جن سے یہ نظام تمام تر خامیوں کے باوجود چل رہا ہے۔ ان اقدامات کا ذکر کرنا اس وجہ سے ضروری تھا کہ ایسی بات نہیں ہے کہ سرکار ان مسائل پر قابو نہیں پا سکتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ مسائل جنم کیوں لیتے ہیں؟ بالائی علاقوں میں سیاحت کو فروغ دینا بہت اہمیت کا حامل ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی آلودگی اور ماحول کا تحفظ پہلی ذمہ داری بنتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ رویہ ہے کہ بس گزر گیا ناں! اب باقی کام دیکھتے ہیں۔ سیلاب نے سندھ اور بلوچستان میں جو تباہی مچائی ہے اس کا تو تصور ہی محال ہے۔ ویسے کپاس کا بڑا ذکر ہو رہا ہے لیکن شاید تحریک انصاف کے قائد کو معلوم نہیں کہ کپاس کی زمینوں کو کب گنے کی فصلوں نے ہڑپ کر لیا ہے۔ ہمارے قائدین کو تو فصلوں کے موسموں کا بھی اب پتا نہیں ہوتا۔یہ نہیں چلتا کیونکہ موسموں کا تغیر اور فصلوں کی پیداوار براہ راست عالمی بھوک سے جڑی ہے اسلئے عرض ہے کہ اس طرح نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں اس حوالہ سے پاکستان مرکز نگاہ ہے۔ اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ مستقبل میں کتنی بربادی کے خدشات ہیں۔گلگت بلتستان، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدلتے موسموں کے انداز کو باریک بینی سے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ لیکن ہم سیاسی مسائل میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ہمیں چاہیئے کہ متاثرہ آبادیوں کے مسائل کو اجاگر کریں۔ دنیا سے سپورٹ کا مطالبہ کریں۔ محکمہ سیاحت کے ساتھ ساتھ محکمہ ماحولیات اور محکمہ انہار کو بھرپور سپورٹ دے کر ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ بظاہر تو ایسے نظر آ رہا ہے کہ ہم سیلاب کے بعد اب ایک دوسرے سیلاب کا انتظار کر رہے ہیں۔

مزید دیکھیں :   سرکاری تعلیمی اداروں کا المیہ