مشرقیات

باورچی کو بلا کر سرکار نے حکم دیا کہ۔۔۔ اس مرتبہ کھانے پر فلاں چیزبھی پکا لینا۔ باورچی نے کہا ۔۔ جی اچھا حضور!۔
لوٹ کر اس نے خاص خیال سے وہ چیزی پکائی اور بھی بہت سے پکوان تھے جن کے ساتھ اس فرمائشی کھانے کو بھی دسترخوان پر چن دیا۔۔ کھانے کا وقت آیا تو نوکروں نے جا کر صاحب کو اطلاع دی کہ حضور ! دسترخوان چن دیا گیا ہے آپ تشریف لے آئیں صاحب آئے تو ان کے ساتھ دوست احباب بھی تھے ۔ سب خوشی خوشی دسترخوان پر بیٹھے اور کھانا شروع کیا۔
صاحب نے لوازمات پر نظر کی تو دیکھا ان کی پسندیدہ قاب بھی موجود ہے اسے دیکھ کر سب خوش ہوئے ۔ حکم ہے جب دسترخوان پر بیٹھو تو خوشی اور مسرت سے بیٹھو اللہ کی یہ مہربانی کیا کم ہے کہ اس نے تمہیں رزق دیا پھر اس قابل کیا کہ تم اپنی پسند کی چیزیں کھا سکو ۔ فرمائش کرکے کچھ پکوا سکو ‘ ارشاد ربانی ہے (ترجمہ)اللہ نے جو تم کو حلال روزی دی ہے تو اس سے ستھری چیزیں کھایا کرو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔”
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کا طریقہ یہ تھا کہ دسترخوان پر کوئی چیز وافر مقدار میں ہوتی یاایک سے زیادہ کھانے کی چیزیں ہوتیں تو پڑوسیوں اور رشتے داروں کو کچھ نہ کچھ بھیج دیا کرتے تھے حتیٰ کہ صرف شوربا پکتا تو وہ بھی بھیج دیتے تھے ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دسترخوان پر توایک سے زیادہ چیزیں ہوتی ہی نہ تھیں کبھی ستو ‘ کبھی کھجور ‘ کبھی بھوسے والی روٹی ہوتی اس میں بھی آپۖ دوسروں کو شریک کر لیتے تھے ثرید آپۖ کبھی کبھی کھاتے تھے ثرید یعنی شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانے پر بیٹھتے تو اکڑوں بیٹھا کرتے تھے جب کوئی آپۖ سے پوچھتا تو ارشاد فرماتے کہ میں بندے کی طرح بیٹھتا اور کھاتا ہوں مطلب یہ نہیں کہ میز کرسی پر بیٹھ کر کھانا حرام ہے یا فرش اور دسترخوان پر نہیں کھا سکتے مطلب یہ ہے کہ جب کھانے بیٹھو تو فخر و غرور سے نہ بیٹھو طرح طرح کی نعمتوں پر ناز کرو نہ کھانوں پر ناک بھوئوں چڑھائوکہ اس کا مزہ ٹھیک نہیں اس کی خوشبو ٹھیک نہیں سرور کونینۖ کو کوئی چیز ناپسند ہوتی تو اپنا ہاتھ روک لیتے تھے کبھی یہ نہ فرماتے کہ وہ اچھی نہیں یا بدمزہ ہے۔صاحب دسترخوان نے جس کا یہ قصہ ہے اپنی پسند کی قاب پر ہاتھ ڈالا تو اس میں ایک مکھی نظر آئی اسے پھینک کر اس نے دوسرا چمچہ ڈالا تو پھر ایک مکھی نکل آئی اسے بھی پھینک دیا ‘ اتفاق کی بات کہ تیسری مرتبہ جو چمچہ اٹھایا تو پھر مکھی نکل آئی پسند کی چیز اور یہ حال دوستوں نے سمجھا کہ باروچی کے تو اب لالے پڑ گئے لیکن وہ سمجھدار آدمی تھا اسے معلوم تھا کہ خفگی سے کچھ حاصل نہیں جان بوجھ کر تو باورچی نے مکھیاں نہ ڈالی تھیں اتفاق کی بات تھی اس لئے قابل معافی تھی اس نے باورچی کو بلایا اور کہا چیزیں تو تم نے اچھی پکائیں کل وہ میری پسند کی چیز پھر پکا لینا مگر دیکھو اس مرتبہ اس میں مکھیاں نہ ہوں ‘ غصے پر قابو نہ ر کھنا بدخوئی ہے ۔ بدخوئی اللہ کو ناپسند ہے ایک حدیث کا مطلب ہے میزان عمل میں سب سے بھاری عمل خوش خلقی ہے۔

مزید دیکھیں :   اسحاق ڈار سے عوام کی توقعات