پاک روس تعاون کے بڑھتے امکانات

وزیراعظم شہباز شریف کی ازبکستان کے شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کے سربراہی اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سمیت دیگر عالمی رہنمائوں سے غیررسمی ملاقاتیں عالمی حالات کے تناظر اور خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں ۔ دورے کے پہلے روز وزیراعظم کی روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی اور دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کو پائپ لائن گیس سپلائی ممکن ہے اور انکشاف کیا کہ گیس کی فراہمی کے لئے ضروری انفرااسٹرکچر پہلے سے موجود ہے۔سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ روس کے باعث اپنی حکومت کے خلاف عالمی سازش کی وجہ قرار دے رہے ہیں جس سے قطع نظر وزیر اعظم شہباز شریف اور روسی صدر کے درمیان مفاہمت اور امکانات میں اضافے اور پیشرفت کی صورتحال دکھائی دے رہی ہے شہباز شریف اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان توانائی ‘ تجارت ‘ تحفظ خوراک اور سکیورٹی امور کے حوالے سے اہم ہے دیگر عوامل میں تعاون کی اپنی جگہ اہمیت مسلمہ ہے البتہ ملک میں توانائی کے ذخائر میں کمی اور ضروریات میں اضافہ کے تناظر میں اس شعبے میں تعاون کی خاص طور پر ضرورت ہے تاکہ مہنگی درآمدی گیس پر انحصار کم ہو۔اس شعبے میں دونوں ملکوں میں تعاون کے معاملات میں پیشرفت کی صورتحال ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے کا رہا ہے کراچی سے قصور تک گیارہ سو کلو میٹر طویل گیس پائٹ لائن کامنصوبہ ملک میں گیس کی ہموار سپلائی اورصنعتی ترقی کے لئے خاص طور پر اہمیت کاحامل قرار دیا جاتا ہے روسی صدر کی جانب سے پاکستان کو گیس کی سپلائی ممکن ہونے سے متعلق بیان خوش آئند ضرور ہے لیکن اس معاملے کو آگے بڑھانے میں اب سنجیدگی کی ضرورت ہو گی ماضی میں یورپ روس گیس کا تھوک گاہک تھا اب حالات کے باعث روس کو نئے گاہکوں کی تلاش کرنا ہے جبکہ پاکستان کوتوانائی کی ضروریات کا سامنا ہے بدلے ہوئے حالات بھی پاکستان اور رس کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے کا باعث بن رہے ہیں۔
متاثرین سیلاب کی حق تلفی نہ ہونے دی جائے
متاثرین سیلاب کے نقصانات کے ازالے اور سیلاب متاثرین کے نقصانات کے بارے میں تفصیلات جمع کرکے ان کی چھان بین کے لئے صوبے میں تحصیلوں کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز کی نگرانی میں کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں ۔ کمیٹیوں کے ارکان میں سی اینڈ ڈبلیو ، آبپاشی ، ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی ، آئی ایم یو ہیلتھ اور آرمی کے نمائندے اور سرکل تحصیلدار شامل ہوں گے ۔ اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کا عمل شفاف بنانے کے لئے آئی ٹی بورڈ نے ایپ بھی تیار کرلیا ہے جس کے ذریعے متاثرین کو ادائیگیاں کی جائیں گی ۔اس کے باوجود ناانصافی اوربدعنوانی کے امکانات کو نظرانداز نہیںکیا جاسکتا کوشش کی جائے کہ تمام متاثرین کے نقصانات کی تفصیل حاصل کی جائے اور کسی کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے بعد ازاں نقصانات کے اندازے کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاف انداز میں معاوضوں کی اس طرح ادائیگی کی جائے کہ کسی کو حق تلفی کی شکایت نہ ہو۔متاثرین زلزلہ ہوں یا متاثرین سیلاب یا دیگر قدرتی آفات کے معاوضوں کے فہرستوں کی تیاری اور ادائیگی کے معاملات ماضی وحال ہر موقع پر شفافیت کا سوال رہا ہے فہرستوں کی تیاری کے عمل ہی سے بے نظمی ‘ لاپرواہی اور ملی بھگت کا آغاز ہوتا ہے بدقسمتی سے اس عمل میں ہر سطح کے عمال شریک ہوتے ہیں جس کے باعث منظم طریقے سے متاثرین کی حق تلفی اس طرح سے ہوتی رہی ہے کہ ان کی فریاد سننے والا بھی کوئی نہیں ہوتا اس مرتبہ کچھ تبدیلی اور بعض دیگر محکموں کاعملہ بھی شامل ہونے سے کچھ بہتری کی توقع ضرور ہے ۔

مزید دیکھیں :   افغان حکومت کو تنہا نہ چھوڑا جائے