غریب شہر ستم ہوں مرا پتہ رکھنا

تھا جس کا انتظار وہ شہکار آگیا ‘انتظار تو کیا ‘ انتظار سے زیادہ خوف اور یقین تھا کیونکہ گزشتہ کئی سال سے حکومتوں کا یہی چلن رہا ہے کہ گرمی میں بجلی اور سردی میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتی ہیں ‘ خیر اب تو گرمی سردی کا تصور ہی عنقا ہوچکا ہے یعنی اب اس سلسلے میں بھی گرمی سردی کی کوئی تخصیص نہیں ہے اور اس کا ثبوت تسلسل کے ساتھ بجلی کی قیمت میں اضافہ ہے جس کی قیمتوں میں مزید اضافہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرضے کے حصول کے لئے ہونے والے معاہدے سے مشروط بلکہ مجبوری ہے ‘ تازہ خبر یہ ہے کہ اب گیس صارفین پر 120 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ‘ اور یہ اضافہ ان لوگوں سے بھی وصول کیا جائے گا جن کے گھروں میں گیس پہلے ہی سے نہیں آتی ‘ ابھی یہ سطور تحریر کی جارہی تھیں کہ تازہ اخبارات سامنے آگئے اور ہم محرومان گیس کو یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ گھروں کو گیس قسطوں میں ملے گی یعنی ابھی سردیاں شروع ہی نہیں ہوئیں اور بد خبر یوں نے ہمارے آنگنوں میں ڈیرے جمانا شروع کر دیئے ہیں ‘ ویسے بقول شاعر ‘ مگر فرق اس سے تو پڑتا نہیں ‘ کہ ہم تو گزشتہ سال کے ان وعدوں کے ڈسے ہوئے ہیں اور اب زیادہ کام سلینڈر سے چلا کر گزارہ کر رہے ہیں ‘ جو گزشتہ سال سوئی گیس حکام نے ہمارے صوبے کے وزیر اعلیٰ محمود خان سے ایک ملاقات میں کئے تھے کہ پشاور میں گیس کی سپلائی صرف تین بعد بحال ہوجائے گی اس کا کارن یہ بتایاگیا تھا کہ چھوٹے قطر کے پائپ لائن کی وجہ سے شہریوں کو گیس ملنے میں دشواریاں ہو رہی ہیں اور بڑے قطر والی پائپ لائن بچھانے میں تین دن لگیں گے ‘ عوام نے اطمینان کا سانس لیا مگر ایسا لگتا ہے کہ جس ٹھیکیدار کو نئی پائپ لائن بچھانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اس نے ( شاید) بوجوہ کھدائی کرکے کام چھوڑ دیا تھا جو آج تک مکمل نہیں ہوا ‘ متعدد کالم لکھ ڈالے مگر حرام ہو جو کسی کے کانوں پر جوں تک رینگی ہو’ اور اب تازہ خبر میں اس سال بدترین گیس بحران کی چتائونی دے دی گئی ہے ‘ اوپر سے 120 ارب روپے کے اضافی اخراجات بھی ہمیں یعنی گھریلوصارفین کو برداشت کرنے پرمجبور کیا جائے گا تو ہم ابھی سے سوچ رہے ہیں کہ اب ہمارا کیا بنے گا؟ بقول محسن نقوی
محسن غریب لوگ تو تنکوں کاڈھیر ہیں
ملبے میں دب گئے ‘ کبھی پانی میں بہہ گئے
اب ان آفتوں میں بجلی اور گیس کو بھی شامل کرلیں تو ”غریب تباہ دے” کے علاوہ اور کیا نتیجہ نکلنا ہے ادھر بجلی صارفین کے لئے بھی ون سلیب ریٹ کی رعایت ختم کر دی گئی ہے اور وفاقی وزیر غلام دستگیر خان نے جو ”خوشخبری” سنائی ہے تو بندہ ان سے پوچھے کہ حضور جب ہم نے یہ رقم ادا کرنی ہی ہے تو اس کو رعایت قراردے کر عوام کو وقتی خوش کرنے کی بھلاکیا تک ہے؟ بقول ظفراقبال
مدد کی تم سے توقع تو خیر کیا ہو گی
غریب شہر ستم ہوں مراپتہ رکھنا
مسئلہ یہیں تک رہتا تو وہ جو پشتو ضرب المثل ہے کہ یتیم رونے کا عادی ہوتا ہے’ہم بھی رو کر (بہ امر مجبوری ہی سہی) یہ سب کچھ برداشت کر لیتے کہ اور کوئی چارہ بھی تو نہیں مگر ہمیں تو ان لوگوں پر ترس آرہا ہے جنہوں نے ہزاروں روپے سے لیکر لاکھوں روپے تک خرچ کرکے اپنے گھروں کوسولرسسٹم پر منتقل کردیا ہے تاکہ ایک توسرکاری بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے چھٹکارا ملے اور ساتھ ہی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بھی ان کی جان چھوٹے ‘ مگر اب جوگزشتہ روز ایک اور خبر آئی ہے کہ سولر سسٹم والوں کوبھی بجلی بل ادا کرنا پڑے گاتو لگتا ہے کہ وہ مرزا غالب کا یہ شعر ضرور گنگنا رہے ہوں گے کہ یا کم از کم زیر لب دوہرانے پر مجبور ہوں گے کہ
میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں
وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
اگرچہ وزیر اعظم نے حالیہ چند دنوں کے دوران کسی موقع پرغالباً یہ بھی کہا تھا کہ سولر سسٹم پر عمل کرکے ملک میں بجلی لوڈ شیڈنگ سے نجات حاصل کی جائے گی اور اس مقصد کے لئے عوام کو قرضے کی سہولتیں بھی دی جائیں گی ‘ اس حوالے سے خود وزیر اعظم کے ایک فرزند ترکی کے اس ادارے میں ”شراکت دار” ہیں جس کو ٹھیکہ دیا جارہا ہے بس پھر کیا تھا ٹرولز اس ”افواہ” کو لیکر دوڑ پڑے اور اتنی گرد اڑا دی کہ کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا ‘ بعد میں اس کی تردید آئی مگر جو بات اڑ چکی تھی اب وہ واپس کہاں آتی ‘ دوسرے یہ کہ ہمارے ہاں پالیسی ساز اداروں میں ایسے اذہان بھی موجود ہیں جو عوام کی چمڑی ادھیڑ نے کے لئے قانون سازی کے ماہر ہیں اور عوام کو پریشان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ‘ سو یہی طبقہ سرگرم ہوگیا اور سولر سسٹم کو اپنانے والوں کے خلاف ایسے قوانین بنانے پرتل گیا’ حالانکہ دیگر کئی ممالک میں سولرسسٹم یادیگر متبادل منصوبوں پر عمل کرنے والوں کوحکومتیں ادائیگی کے ساتھ سہولتیں بھی فراہم کرتی ہیں اس لئے جولوگ سولرسسٹم کوناکام کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ان کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں
سنتے ہیں آپ سارے زمانے کا درد دل
کہئے تو میں بھی قصہ سوزجگرکہوں

مزید دیکھیں :   سائبر خطرات کا چیلنج