معیشت کے حالات تازہ مینڈیٹ کے متقاضی

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی وجہ سے ترقی پزیر ممالک کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔بدلتی عالمی اقتصادی صورت حال کے بارے میں عالمی بینک کی جانب سے جاری حالیہ ریسرچ پیپر میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر جاری مہنگائی میں اضافے کو روکنے کے لئے بین الاقوامی مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں کئے جانے والے اضافے سے عالمی کساد بازار بڑھنے کا امکان ہے اور یہ تسلسل برقرار ہنے سے اُبھرتی مارکیٹوں اور ترقی پزیر ممالک کو تباہ کن نتائج کا سامنا ہوگا ۔امریکہ چین اور یوروزون کی تین بڑی معیشتیں سست روی کا شکار ہورہی ہے اور اگلے ایک سال کے دوران عالمی معیشت کے متاثر ہونے سے کساد بازاری کا خطرہ بڑھ جائے گا۔عالمی بینک کی یہ رپورٹ دنیا بھر کی معیشتوں بالخصوص پاکستان کی ڈولتی لڑکھڑاتی معیشت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جہاں مہنگائی نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے ۔ایسے میںسابق وزیر شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک عملی طور پر دیوالیہ ہو چکاہے اب صرف رسمی اعلان کرنا باقی رہ گیا ہے ۔کچھ ایسی ہی بات ایک اور سابق وزیر حماد اظہر نے بھی کی ہے کہ موجودہ حکمرانوں سے معیشت سنبھلنے والی نہیں ۔حقیقت جو بھی ہو عملی صورت حال یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی کا ایک سیلابی ریلا غریبوں کے بجٹ کو ردندتا ہوا گزر رہا ہے ۔تیل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے مضر اثرات ہر طرف نظر آنے لگے ہیں ۔اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں ۔آٹا چاول دالیں اور کنگ آئل کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ ہوگیا ہے ۔حکومت کی طرف سے ملک کی موجودہ معاشی حالت زار کو ماضی کی حکمرانوں کی پالیسیوں کوقراردینا درست بھی ہو سکتا ہے مگر موجودہ حکومت ایک تجربہ کار ٹیم کی حامل ہے ۔اس کے پاس اسحاق ڈار جیسے ماہرین معیشت ہیں اور اس کے علاوہ بھی کئی تجربہ کار نام ہیں ۔یہ برسہا برس تک برسراقتدار رہنے والی دوجماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت ہے ۔اس طرح موجود ہ حکومت کی ذہانت ،اہلیت اور تجربہ دوگنا ہے۔مائنس پی ٹی آئی یہ ملک کی تیرہ جماعتوں کی مخلوط حکومت ہے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو شامل کیا جائے تو اسے قومی حکومت ہی کہا جا سکتا ہے ۔اس طرح یہ اجتماعی دانش کا اکٹھ ہے ۔گزشتہ دور میں جس تجربے اور اہلیت کا رومانس عوام کو دکھایا جا رہا تھا وہ اس وقت تک کہیں دکھائی نہیں دے رہا ۔اتحادی میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھوہ کی پالیسی اپنائے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔اچھا فیصلہ کرتے وقت سب اتحادی فخریہ انداز اپناتے ہیں مگر مشکل اور تلخ فیصلوں کے وقت اتحادی نظریں چراتے اور دامن بچاتے نظر آتے ہیں۔بعض مواقع پر تو اتحادی اپنے اتحادی ہونے اور حکومت کو اونر شپ دینے سے ہی انکاری نظر آتے ہیں ۔یوں لگتا ہے کہ اپوزیشن کا یک نکاتی ایجنڈا عمران خان کو منظر سے ہٹانا تھا ۔اس کے بعد کیا ہوگا ؟ اس کا ہوم ورک اپوزیشن نے نہیں کیا تھا ۔اپوزیشن نے اپنی ساری صلاحتیں مہنگائی مارچ اور احتجاجی جلسوں اور مشترکہ ڈنر لنچ پر مرکوز رکھیں ۔شیڈو کابینہ تشکیل دے کر کوئی پالیسی بنانے کی کوشش نہیں کی گئی ۔عمران حکومت کی معاشی پالیسیوں پر جم کر تنقید کی گئی مگر متبادل پالیسیاں تشکیل دینے کی طرف توجہ نہیں دی گئی ۔صاف لگتا ہے کہ اپوزیشن کو حکومت گرانے کے بعد حکومت چلانے کے لئے کسی معجزے کی توقع تھی ۔حکومت گرگئی اور اپوزیشن حکومت بھی بن گئی مگراب حالات کی دلدل کا سامنا ہے ۔حکومت سے اپنوں اور اتحادیوں کی بے اعتنائی بڑھنے کی دوجوہات ہیں ۔اول یہ کہ عمران خان عوامی عدالت لگائے بیٹھے ہیں اور ان کی تحریک کا جوش وجذبہ بڑھتا جا رہا ہے ۔یہ لہر پنجاب کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے لئے خاصی مشکل کا باعث ہے بلکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ بھی اس عوامی دبائو کو محسوس کرنے پر مجبور ہے ۔دوئم یہ کہ معیشت اور سیاست پر حکومت کی گرفت قائم نہیں ہو رہی ۔معیشت کا عالم یہ ہے کہ ڈالر تمام حد یںعبور کر نے کو تیار بیٹھا ہے ۔لوڈ شیڈنگ نے پرویز مشرف حکومت کے خاتمے کے بعد کے دنوں کی یاد دلا دی ہے جب بجلی کبھی کبھار آتی تھی ۔دیہاتوں میں اٹھارہ گھنٹے اور شہروں میں چھ سے آٹھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی ۔اس و قت حالات کا سار ا بوجھ مسلم لیگ ن پر آن پڑا ہے اور اتحادی صرف اقتدار کی لذت کے شراکت دار ہیں ذمہ داریوں کے نہیں۔مسلم لیگ ن کو یہ بوجھ اپنے کندھوں سے اُتار کر تازہ مینڈیٹ کی خاطر عوام سے رجوع کرنے میں مزید تساہل سے کام نہیں لینا چاہئے ۔سیاسی طور پر پی ڈی ایم نے چار دن کے اقتدار کے لئے اپنا جو نقصان کرنا تھا وہ کر بیٹھے ہیں اب یہ نقصان آسانی سے یا وقت گزاری سے پورا نہیں ہوگا بلکہ وقت گزاری سے رہا سہا بھرم بھی جاتا رہے گا۔

مزید دیکھیں :   سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا سروے کرنے میں تاخیر