غصہ، معاشرے کی تباہی کا باعث

سماج کی ترقی فرد سے جُڑی ہے اگر فرد راہ راست پر نہیں آئے گا تو سماج ترقی میں پیچھے رہ جائے گا، غصہ پر قابو اور رویوں میں برداشت سماج کو مجموعی طور پر آگے لے جانے کے اسباب ہیں۔ غصہ اگرچہ فطرت انسانی ہے تاہم اس پہ قابو نہ رکھنے سے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ میاں بیوی میں جدائی، اولاد و والدین میں دوری، بہن و بھائی میں اختلاف، فرد و معاشرہ میں بگاڑ، دنیا میں ظلم و بربریت اور فتنہ و فساد کی جڑ غصہ ہے۔ جب تک غصہ دبا ہوتا ہے تب تک فتنہ دبا ہوتا ہے اور جب غصہ بے قابو ہو جاتا ہے تو فتنہ و فساد بھی اپنا منہ کھول لیتا ہے۔ ایسے موقع سے شیطان کافی فائدہ اٹھاتا ہے۔ وہ دو فریق میں نفرت و انتقام کی آگ بھڑکاتا ہے اور انسان بلادریغ ایک دوسرے کا خون کر بیٹھتا ہے۔ غصہ کے برے اثرات انسانی جسم و روح پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ چہرہ دیکھ کر ہم بھانپ سکتے ہیں کہ آدمی غصے میں ہے، رگیں پھول جانا ، چہرہ سرخ ہو جانا اور سانسوں میں تیزی پیدا ہونا غصہ ہونے کی علامت ہے۔ اس کی طبی وجوہات بھی ہیں بعض طبی ماہرین کے نزدیک یہ معدے کی شکایت، کولیسٹرول کی زیادتی، آنتوں کی پریشانی، قوت مدافعت کی کمی،فالج کا خطرہ اور دل کے امراض کا سبب ہے۔ اسی طرح مرض یرقان سے لیکر سر، یادداشت، غور و فکر اور نظام اعصاب تک متاثر کرتا ہے بلکہ موت کا بھی راستہ ہموار کر سکتا ہے۔ جب معاشرہ کی تباہی کا اصل سبب غصہ ہے تو پھر ہمیں اس کے اسباب معلوم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان اسباب سے پہلو تہی اختیار کرکے غصہ پر قابو پایا جا سکے۔
غصہ بھڑکنے کا ایک اہم سبب تکبر ہے ، جس کے پاس تکبر ہوگا وہ بات بات پر غصہ ہوگا اور لوگوں کو حقیر سمجھتے ہوئے اس پر زیادتی کرے گا۔ اس لئے اسلام نے تکبر کی مذمت بیان کی ہے۔ بدگوئی ، لفاظی، بلاضرورت طول کلامی ،کٹھ جحتی، استہزا، سخت کلامی، ایڑیل پن، غیبت، بدمزاجی، چڑچڑاپن یعنی بداخلاقی کے جتنے اوصاف ہیں ان سے غصہ جنم لیتا ہے اور آپس میں نفرت پیدا ہوتی ہے اس لئے مومن کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ نہایت سیدھا سادا اور شریف النفس ہوتا ہے۔ ہم کم سے کم بات کریں، خود کو اخلاق حسنہ سے مزین کریں اور زبان کی آفتوں سے بچیں کہ یہی بڑی سے بڑی مشکلات لانے والی ہے۔ آدمی اپنے آپ میں اخلاق وکردار والا، ضرورت بھر نرمی اور ادب سے بات کرنے والا، زبان کا صحیح استعمال کرنے والا اور حجت کے وقت خاموش ہونے والا ہو وہ غصہ کی آفات سے بچ جائے گا۔ سماج میں کئی طبقے ہیں ، ان میں جاہل و نادان بڑی کثرت
سے موجود ہیں، ان احمقوں کا کام شریف لوگوں کو چھیڑنا اور ان کے جذبات برانگیختہ کرکے فساد برپا کرنا ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر ایک شریف انسان کا شعار جاہلوں کی جہالت و بدتمیزی پہ صبر و خاموشی ہے۔کبھی ہم انتقام لینے میں حق بجانب ہوتے ہیں کیونکہ ہم پر ظلم کیا گیا ہوتا ہے مگر انتقام مزید بگاڑ و فساد اور غیض و غضب کا پیش خیمہ ہے اس وجہ سے اسلام نے معاف کرنے والے کو سراہا ہے۔ ”وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب غصے میں آتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں۔” غصہ کا ایک بھیانک سبب، تشدد پر مبنی حالات سے دو چار ہونا یا پرتشدد مناظر کا مشاہدہ کرنا یا شدت والے ماحول اور دوستی استوار کرنا ہے۔ ہمیں ایسے شدت پسند ماحول ، شدت پسند دوست اور پرتشدد مناظر و فلموں کو دیکھنے سے باز رہنا چاہئے ورنہ ایسی شدت اور اس کا ردعمل غصہ کی شکل میں ہمارے جسم و روح میں سرایت کرے گا۔
شیطان ہماری رگوں میں گردش کرتا ہے اسے معلوم ہے کہ انسانی طبیعت میں غصہ موجود ہے بس اس میں اشتعال پیدا کرنا ہے اس کے بعد خود ہی شیطانی عمل ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اس بات کو اچھی طرح محسوس کریں اور شیطانی حملے سے بچتے رہیں۔ اللہ سے بے خوف ہونا، معصیت پہ اصرار کرنا اور اسلامی تعلیمات کے حصول اور ان پر عمل کرنے سے گریز کرنا بھی انسانی طبیعت میں غصہ بھڑکانے کا کام کر سکتا ہے۔ آدمی جس قدر متقی ہوگا، گناہوں سے پرہیز کرے گا ، دین کا علم حاصل کرے گا اور اسے عملی جامہ پہنائے گا وہ اللہ کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ بندوں کے حقوق بھی عمدگی کے ساتھ ادا کرے گا اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا۔ موجودہ زمانے میں کسی کے خلاف بات کرنا بھی غصہ کا سبب ہے، حد تو یہ ہے کہ حق گوئی پر بھی غصہ کیا جاتا ہے۔ ان دونوں امور میں حکمت و بصیرت لازم ہے یعنی بات کرنے میں سلیقہ اور حکمت چاہئے اور اپنے خلاف حق بات سننے پر بجائے غصہ ہونے کے اسے قبول کرنا چاہئے۔ ذہنی تناؤ اور الجھن کا شکار ہونا بھی غصہ پیدا کرنے کا سبب ہے۔ آج کے زمانے میں اکثریت ٹینشن کا بوجھ پال رہی ہے۔ کسی کو دولت تو کسی کو غربت ، کسی کو تجارت توکسی کو سیاست، کسی کو گھریلو تو کسی کوسماجی تناؤ نے ٹینشن کی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں چہار دانگ عالم میں لوٹ مار، اختلاف وانتشار، قتل و غارت گری، فتنہ و فساد اور ظلم و تعدی عروج و انتہا کو ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی گزارنے کے سنہرے اصول دیئے ہیں، انہیں برتنے والا ہر طرح کی مایوسی، پریشان خیالی اور فکر و اضطراب سے بچا رہے گا۔ جہاں عصبیت ہوگی وہاں غصہ بھی اپنی جگہ بنائے گا اور موقع بموقع ظاہر ہوکر بگاڑ پیدا کرتا رہے گا ، آج کے دور میں فساد کی بڑی وجہ عصبیت بھی ہے۔ کہیں پر قومی عصبیت نے تو کہیں پر قبائلی عصبیت نے تباہی مچا رکھی ہے۔ خاندانی عصبیت یا لسانی عصبیت نے بھی سماج کا خون کیا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان مسلکی عصبیت نے تو اس قوم کو کئی ٹکڑوں میں بانٹ دیا اور یہ قوم اپنی طاقت و اتحاد کھوکر بھی خوش ہے۔

مزید دیکھیں :   یکساںا نتخابی مواقع دینے کا احسن عندیہ