زرعی ملک کی پام آئل میں محتاجی

پاکستان نوے فیصد پام آئل انڈونیشیاء سے درآمد کر رہا ہے۔ پاکستان سالانہ 32لاکھ ٹن پام آئل انڈونیشیاء سے درآمد کرتا ہے جبکہ 34لاکھ ٹن خوردنی تیل ارجنٹائن، برازیل، امریکہ سے درآمد کر رہا ہے جو زیادہ تر سویابین آئل ہوتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کینیڈا سے کینولا آئل درآمد کر رہا ہے۔ پاکستان اگرچہ زرعی ملک ہے مگر پورے ملک میں ساڑھے 4لاکھ ٹن خوردنی تیل کاٹن سیلڈ یعنی کینولا، سورج مکھی اور سرسوں سے حاصل کر پاتا ہے۔ 22لاکھ ٹن سویابین آئل اور 10لاکھ ٹن کینولا آئل پاکستان درآمد کر رہا ہے۔ پچھلے مالی سال 30جون 2022ء تک پاکستان نے 6ارب پچاس کروڑ ڈالر کا پام آئل اور خوردنی تیل درآمد کیا۔ مئی جون میں انڈونیشیاء نے پام آئل کی برآمد پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے نتیجے میں اوپن مارکیٹ میں پام آئل 1800ڈالر فی ٹن تک چلا گیا۔ پاکستان ویجی ٹیبل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن نے 15جولائی 2022ء سے پہلے جو لیٹر آف کریڈٹ کھولے تھے وہ سترہ اٹھارہ سو ڈالر فی ٹن تھے۔ یہ مال کراچی کی بندرگاہوں پر پڑا ہے جو امپورٹرز نے 1400سے 1800ڈالر فی ٹن کے حساب سے خریدا تھا۔ انڈونیشیاء نے 15جولائی 2022ء سے پام آئل کی برآمد پر پابندی اٹھا لی۔ اس رپورٹ کے تناظر میں دیکھا جائے تو پام آئل کی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں آدھی ہو گئی ہیں، ہونا تو یہ چاہئے کہ 550 روپے فی کلو ملنے والا کوکنگ آئل آدھی قیمت پر دستیاب ہوتا مگر پاکستان عوام کو چند روپوں کا ریلیف دے سکے گا کیونکہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 240 تک پہنچ گئی ہے جس کے باعث کوکنگ آئل کی قیمتیں محض 40سے 50 روپے نیچے آئیں گی۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی امپورٹ پیٹرولیم مصنوعات 18ارب ڈالر سے متجاوز ہیں۔ دوسرے نمبر پر پام آئل اور تیل کے بیجوں کی امپورٹ ہے جو چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان خوردنی تیل کی ضرورت کا 80فیصد امپورٹ کر رہا ہے جبکہ مقامی سطح پر صرف 10فیصد طلب پوری کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں خوردنی تیل کی سالانہ کھپت 4.2ملین ٹن ہے جس میں پام آئل کی امپورٹ 3ملین ٹن اور تیل کی بیجوں کی امپورٹ 3ملین ٹن ہے۔ اس وقت دنیا میں پاکستان، بھارت اور چین کے بعد خوردنی تیل امپورٹ کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کو کم از کم کھانے پینے کی اشیاء میں خود کفیل ہونا چاہئے، یہاں ایسی فصلیں اگائی جا سکتی ہیں جن سے پام آئل حاصل کر کے کوکنگ آئل کی درآمد کو کم کر کے اس پر اٹھنے والے اخراجات کو کم کیا جا سکتا ہے اسی طرح مہنگے داموں پام آئل خرید کر عوام کو مہنگا کوکنگ آئل فروخت کرنے کی بجائے ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے، پاکستان میں خوردنی تیل پیدا کرنے کیلئے سورج مکھی اور کنولا بیج کی کاشت کو فروغ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے پام آئل اور تیل کی بیجوں کی امپورٹ پر خطیر زرِمبادلہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ ملک میں زرعی شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور جدید ٹیکنالوجی استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہمارا زیادہ تر انحصار پام آئل اور تیل کی بیجوں کی امپورٹ پر ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ کپاس اور تیل کے بیجوں کی کاشت میں اضافے کیلئے نہ صرف پرکشش مراعات دے بلکہ پاکستان آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کو فعال بنائے تاکہ سورج مکھی اور سرسوں کے بیجوں پر ریسرچ کرکے فی ایکڑ زیادہ پیداواری بیج دریافت کیا جا سکے جس سے مقامی طور پر خوردنی تیل حاصل کرکے پام آئل کی امپورٹ پر خطیر زرمبادلہ میں کمی لائی جا سکے گی۔ کہنے کی حد تک ہمارے ہاں محکمہ زراعت موجود ہے مگر عملی میدان میں کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے، اس وقت دنیا میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار ڈیڑھ سو من کے قریب حاصل کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار پچاس من سے بھی کم ہے، یہی وجہ ہے کہ وسیع رقبہ پر گندم کی کاشت ہونے کے باوجود ہم اپنی ضرورت کی گندم پیدا کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ کینیڈا میں ایک لاکھ ایکڑ سے جتنی گندم پیدا ہوتی ہے ہمارے ہاں اس سے آدھی پیداوار بھی نہیں ہے، ہمارے ہاں کم جگہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے بیج پر کام نہیں ہوا ہے، نہ ہی حکومتی سطح پر کسانوں کو ایسی مشینری مہیا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے وجہ وہ زراعت میں جدت لا کر پیداوار بڑھاتے، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر سال ہمیں غذائی اجناس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پھل اور سبزیوں کی کمی کی صورت میں پڑوسی ممالک سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ سیلاب سے کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں تو سبزیوں کا قحط پڑ گیا، حکومت نے ایران سے پیاز اور ٹماٹر منگوائے، حالانکہ پاکستان کی زمینوں کی زرخیزی خطے کے دیگر ممالک سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ہر دور حکومت میں زراعت میں بہتری لانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جو زراعت ہو رہی ہے وہ لوگ کر رہے ہیں جو زمینوں کے مالک ہیں اور بظاہر ان کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، انہیں حکومت کی سرپرستی حاصل نہیں ہے، اس عدم توجہ کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ہمیں غذائی اجناس کی ضروریات کیلئے بھاری زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ زراعت میں بھارت بھی پاکستان سے کئی درجے آگے ہے وہاں کا کسان خوشحال ہے یہاں کا بدحال۔ یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہئے کہ زراعت جب تباہ ہوتی ہے تو کارخانے بھی برباد ہو جاتے ہیں کیونکہ کارخانوں کی ضروریات بہر طور زراعت سے ہی پوری ہوتی ہیں، اس کی واضح مثال کپاس کی پیش کی جا سکتی ہے، جب تک کپاس کی پیداوار اچھی تھی تو ٹیکسٹائل انڈسٹری پھل پھول رہی تھی، عدم توجہ کی باعث جب کپاس کی پیداوار کم ہوئی تو ٹیکسٹائل انڈسٹری کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے لاگت بڑھ گئی کیونکہ اب ٹیکسٹائل ملز مالکان کو کپاس درآمد کرنی پڑتی ہے۔ زراعت پر توجہ دے کر بیک وقت کئی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر اس وقت جب زراعت حکومتوں کی ترجیحات میں شامل ہو گی۔
٭٭٭

مزید دیکھیں :   پھر وہی غلطی