مشرقیات

یہ سب کس کو مانتے ہیں اسی کی نہیں مان رہے تو ہما شما کیا چیز ہیں پھر بھی چونکہ ناصح بننا ہمار ا قومی فرض اور مرض ہے اس لیے میاں فضیحت کی ایک بار پھر سن لینے میں کیا حرج ہے۔تو جنا ب پہلی بات تو یہ کہ کسی کو برے القاب سے پکارنے کی سخت وعید ہے مان لیا سیاست میں برے القاب کو برا ہی نہیں سمجھا جارہا تاہم حقیقت میں یہ انتہائی بری روش ہے جس پر چل کر ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں خود کو نیچا ثابت کر رہے ہیں۔ہم اس بحث میں قطعی نہیں پڑتے کہ پہل کس نے کی تھی اور کون زیادتی کر رہا ہے بہرحال جو ہو چکا سو ہو چکا اب ایک دوسرے سے معذرت کر کے آئندہ کے لیے توبہ تائب ہو جائیں جس کے بعد لازمی طور پر آپ جناب کے کارکنوں کی تربیت بارے امید پالی جا سکتی ہے اب تو حال یہ ہے کہ لیڈرشپ اور کارکنوں دونوں کے درمیان حریفوں کے برے نام یا القاب تراشنے کا مقابلہ شروع ہو چکا ہے اور اس مقابلے کو سوشل میڈیا کی وجہ سے بہت زیادہ تحریک مل رہی ہے جہاں ان پڑھ تو چھوڑیں اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ بھی برے القاب تراش خراش کے ذریعے اپنے فالوورز کی تعداد بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے دیکھے جار ہے ہیں یوں سمجھیںہنسی مذاق کے نام پر دوسروں کی تضحیک کے سامان سے لوگوں نے رزق حلال کمانا شروع کردیا ہے ،ہم او ر آپ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح دوسروں کی پگڑیاں اچھال کر ہر ایرا غیرا نتھو خیرا سوشل میڈیا پر دکان اپنی بڑھا رہا ہے۔پہلے ہوتا یہ تھا کہ لیڈرسے کارکن تحریک پاتے تھے اب لیڈر سوشل میڈیا پر اپنے کارکنوں مخالفین کے لیے لچر القاب پڑھ کر ان میں سے کوئی ایک یا دوچار منتخب کر کے اپنے جلسوں میں کارکنوں کو بدتمیزی سکھانے کے لیے اچھال دیتے ہیں۔گزشتہ دنوںچارسدہ کے جلسے میں کپتان نے کوئی نیا لقب نہیں تراشا عرصے سے سیاسی مخالفت میں ان کے کارکن ولی باغ کے گدی نشین کو اس لقب سے پکار کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں البتہ کپتان کے منہ سے یہ لفظ پہلی مرتبہ سن کر کارکنوں نے نئے ولولے سے اسے اپنا لیا ہے۔اب کل کلاں کو کپتان کے مخالف کسی جانور کے نام سے ان کی شخصیت یا ڈیل ڈول کو تشبیہ واستعارے کی زبان میںبیان کرنے لگیں تو انہیں برا نہیں منانا چاہئے۔ یہ تو ہو گئی نصیحت اب یہ بھی سن لیں کہ سیاست میں مخالفین پر دروازے بند نہیںکئے جاتے بلکہ سیاست میں ہمیشہ کی دشمنی کا کوئی تصور تک نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ سیاست میں آج کادشمن کل کا دوست تو کل کا دشمن آج کا دوست ہوتاہے تواس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے آج آپ کسی ایک لیڈر کو اپنے قائد کی قیادت میں برے لقب سے پکاریں گے تو کل کو اصولوں کی خاطر اڑان بھرتے ہوئے کسی اور شاخ پر آپ کو بیٹھنے کون دے گا۔

مزید دیکھیں :   کشیدگی سے اجتناب کی ضرورت