آئین کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی کا عندیہ

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نومبر میں آئین کے مطابق نئے آرمی چیف کا تقرر کریں گے، انہوں نے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نئے آرمی چیف کا تقرر متنازع بنا رہے ہیں،خواجہ آصف نے کہا کہ میثاق معیشت کے لیے عمران خان سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آئین کے اندر آرمی چیف کی تعیناتی کا طریقہ کار موجود ہے، آئین میں وزیر اعظم کو صوابدیدی اختیار دیا گیا ہے، دستور کے مطابق صدر پاکستان نے تقرر کرنا ہے مگر وہ وزیر اعظم کے مشورے کے پابند ہیں یوں اسے وزیر اعظم کا آئینی استحقاق کہا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کیلئے آرمی چیف کی تعیناتی اہمیت کی حامل ہوتی ہے مگر آج تک اسے متنازع بنانے کی کوشش نہیں کی گئی، عمران خان دانستہ طور پر اسے ایشو بنائے ہوئے ہیں جس سے یہ تاثر پیدا ہونا فطری عمل ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مرضی کا آرمی چیف تعینات کر کے در اصل اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے، عمران خان نے ایک انٹرویو میں موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کی بات کی تاہم اگلے ہی روزکہا کہ میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ عمران خان وزیر اعظم رہ چکے ہیں ان کا منصب اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ آئینی معاملات میں سر تسلیم خم کریں، شہباز شریف ملک کے وزیر اعظم ہیں، وہی نیا آرمی چیف تعینات کریں گے، عمران خان کے ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنی دی جاتیں اور ایسی روایت سے گریز کیا جاتا جو آئینی امور کو متنازع بنانے کے زمرے میں آتی ہو۔امید کی جانی چاہئے کہ عمران خان آرمی چیف کی تقرری کے عمل کو متنازع بنانے سے گریز کریں گے۔
اقوام متحدہ کی سرپرستی میں گلیشئرز میپنگ
اقوام متحدہ کی جانب سے اگلے18 ماہ کے دوران پاکستان کے شمال میں موجود پانچ ہزارگلیشئرزکی میپنگ کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا مقصد عالمی حدت کے نتیجے میںگلیشئرز کے پگھلنے کی رفتار معلوم کرکے ایسا مؤثر نظام وضع کرنا ہے، جس سے مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی تباہی سے بچاؤ ممکن ہو، اس لحاظ سے اقوام متحدہ کا یہ اقدام انتہائی مستحسن ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی یا عالمی حدت میں اضافے کا باعث بننے والی زہریلی گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں ہوتا ہے۔ عالمی حدت میں اضافے سے گلیشئرز کا تیزی سے پگھلنے کا نتیجہ پاکستان میں سیلابوں کی صورت میں نکلتا ہے، اس لئے اس سنگین مسئلے سے پاکستان کے لئے اپنے طور پر نمٹنا ناممکن ہے بلکہ عالمی برادری خاص طور پر بڑی طاقتوں کا اس حوالے سے کردار بہت اہم ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے گلیشئرز میپنگ کے بعد اس مسئلے کی حساسیت کا اندازہ ہو سکے گا اور عالمی دنیا کو بھی اس پر متوجہ کرنا آسان ہوگا چونکہ بنیادی مقصد ناگہانی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے بچاؤ یقینی بنانا ہے اس لئے گلیشئر میپنگ کے بعد حکومت پاکستان اور متعلقہ ادارے دنیا کے سامنے یہ مسئلہ اجاگر کر سکیں گے تاہم اس حوالے سے بنیادی ذمہ داری اقوام متحدہ کی ہے، امید ہے کہ عالمی ادارہ گلیشئر میپنگ کے بعد ان کے تیزی سے پگھلنے کے مسئلے پر حتمی اقدام اٹھانے پر دنیا کو آمادہ کرنے کے لئے بھی بھرپورکردار ادا کرے گا، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک ایسی تباہیوں کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے جہاں پہلے ہی غربت کی شرح بہت زیادہ ہے۔ پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے کئی طرح کے بحرانوں سے نکلنے میں مدد کے لئے بھی دنیا کو آگے آنا ہوگا کیونکہ کسی اور کا کیا دھرا ہم بھگت رہے ہیں۔
سیلاب سے نقصانات، تخمینہ کیلئے سروے کی اہمیت
مون سون بارشوں میں لوگوں کی کروڑوں روپے کی املاک کے نقصانات کی نشاندہی پر صوبہ خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع میں تفصیلی سروے شروع کر دیا گیا ہے ، جس کی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد متاثرین کو ڈیجیٹل طریقہ کارکے تحت معاوضے کی رقوم منتقل کی جائیں گی۔
سیلاب کا دائرہ کار صوبے کے درجنوں اضلاع تک پھیلا ہوا ہے، جہاں ابھی تک ریسکیو کا عمل جاری ہے، اس کے ساتھ بحالی پر بھی کام ہو رہا ہے، تاہم اصل کام متاثرین کی دوبارہ آبادکاری ہے جو سروے کے بغیر ممکن نہیں ہے، بلاشبہ صوبائی حکومت سیلاب زدگان کی مدد کے لئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، لیکن اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ سردیوں کے آغاز میں بہت کم وقت رہ گیا ہے، اس لئے جتنا جلدی ممکن ہو سکے سیلاب زدگان کی دوبارہ آبادکاری یقینی بنائی جائے، سیلاب زدگان کی آبادکاری کے عمل میں صوبوں کے ساتھ وفاقی حکومت کا تعاون بھی بہت اہم ہے، خدانخواستہ اگر سردیوں تک متاثرین کی آباد کاری نہ ہو سکی تو نہ صرف سیلاب زدگان کی مشکلات مزید بڑھیں گی بلکہ حکومت پر مزید مالی بوجھ پڑھے گا، لاکھوں کی تعداد میں خاندانوں کے لئے سردی سے بچاؤ کا انتظام کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اس کے علاوہ متاثرین کو معاوضوںکی فراہمی کے عمل میں شفافیت کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے تاکہ کوئی امداد سے محروم نہ رہے، اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے کہ امدادی سامان کی تقسیم میں بھی کسی قسم کی کوئی بے ضابطگی نہ ہو اور امداد مستحقین تک پہنچے۔ ماضی میں آنے والے سیلابوں کے بعد متاثرین کو معاوضہ نہ ملنے یا امداد ان تک نہ پہنچنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، امید ہے کہ اس بار حکومت اس ضمں میں ممکنہ حد تک شفافیت یقینی بنانے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مزید دیکھیں :   اسحق ڈار کی آ مد