خیبرپختونخوا میں سکیورٹی خطرات

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے چارسدہ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو رہی ہے، لیکن وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی ہے، خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے بعد پشاورکے نواحی علاقوں میں بھی شدت پسند سرگرمیوں کی اطلاعات سے شہری آبادی میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے گزشتہ ماہ وادی تیراہ اور درہ آدم خیل میں چیک پوسٹ لگائی گئی جبکہ بعض جگہوں پر عسکریت پسند گشت کرتے ہوئے دکھائی دیئے، اس کے کچھ دنوں کے بعد سوات میں بھی اس قسم کی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئیں، ان اطلاعات کے فوری بعد اگرچہ سکیورٹی ادارے حرکت میں آئے اور کہا کہ قبائلی اضلاع میں عسکریت پسندوں کی دوبارہ آمد کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، تاہم ساتھ ہی کہا گیا کہ شدت پسند عناصر کے بعض افراد کی حرکات کی اطلاعات تھیں جنہیں بھگا دیا گیا ہے، مقامی افراد کی طرف سے بھی شدت پسندوں کے خلاف افرادی قوت اور اسلحہ کا مظاہرہ کیا گیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ عسکریت پسندوں کی بعض غیر متوقع حرکات سامنے آئی ہیں، عسکریت پسندوں کی حرکات سے متعلق اس مؤقف کو خیبر پختونخوا حکومت کے اعلیٰ سطحی اراکین کے بیانات سے بھی تقویت ملتی ہے، اب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی قبائلی اضلاع میں عسکریت پسندوں کی مشکوک حرکات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے شکوہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی ہے، پشاور کے گرد و نواح سے آنے والے عسکریت پسندوں کی حرکات کی خبریں اس امر پر مہر ثبت کر رہی ہیں کہ خیبر پختونخوا میں عسکریت پسند دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔ ان حالات کا تقاضا یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت وفاقی حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے تمام تر صورتحال سے وفاق کو آگاہ کرے۔
چند روز قبل عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کی طرف سے بیان دیا گیا کہ تحریک انصاف کے اہم رہنما عسکریت پسند کو بھتہ دیتے ہیں، انہوں نے تحریک انصاف کے رہنمائوں کے نام بھی لیے، تحریک انصاف کی طرف سے ان الزامات کی تردید نہیں کی گئی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ معاملہ ہماری سوچ سے بڑھ کر حساس ہو چکا ہے، ایسے حالات میں ہونا تو یہ چاہئے کہ وفاق اور صوبے میں مربوط تعلق ہو اور ایسا لائحہ عمل وضع کیا جائے جیسا اس سے پہلے آرمی پبلک سکول پر حملے کے وقت کیا گیا تھا تاکہ باہمی یکجہتی اور سکیورٹی اداروں کے تعاون سے عسکریت پسندوں کا راستہ روکا جا سکے، مگر افسوس کی بات ہے کہ خیبر پختونخوا حساس ترین معاملے پر وفاق کے ساتھ مشاورت کرنے کی بجائے جلسے جلوسوں میں شکوہ کرنے پر اکتفا کر رہا ہے۔
وفاق اور صوبے میں پائی جانے والی دوریاں عسکریت پسندوں کو شرپسندی پھیلانے کا موقع فراہم کرتی ہیں، عسکریت پسندوں کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں نماز جمعہ کے بعد ایک شخص افغانستان کی طرز پر جدوجہد کیلئے نمازیوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والی جگہ پشاور کے نواحی علاقے حسن خیل کی ہے، پشاور کے نواحی علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیوں کا مطلب یہ ہے کہ پشاور بھی محفوظ نہیں ہے۔ سوات اور وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف افواج کی جانب سے کئے گئے آپریشن کے بعد عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں ختم ہو گئی تھیں، مگر جونہی سیاسی افراتفری کی وجہ سے انہیں ڈھیل ملی ہے تو انہوں نے بھر سے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے، پولیس، لیویز اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس پس منظر کے بعد اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ عسکریت پسند دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ عسکریت پسندوں کا راستہ روکنے کیلئے لیت و لعل سے کام کیوں لیا جا رہا ہے؟ عسکریت پسندوں کی حالیہ سرگرمیوں کے بعد پشاور کے شہریوں میں پایا جانے والا خوف و ہراس تقاضا کرتا ہے کہ ریاستی سطح پر منصوبہ بندی کر کے شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، شدت پسند عناصر کا مقابلہ پولیس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ پولیس اہلکاروں کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، نہ ہی پولیس کی ٹریننگ اس طرح کی جاتی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ وفاقی سطح پر اس کا نوٹس لیا جائے، اسے تحریک انصاف کا مسئلہ سمجھنے کی بجائے قومی مسئلہ سمجھا جائے، ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے تاکہ ہماری سکیورٹی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر عسکریت پسند اپنے مذموم مقاصد کو پروان نہ چڑھا سکیں۔

مزید دیکھیں :   ابھی کُلجَگ نے انگوٹھا ہی نکلا ہے