طالبان کی اچانک آمد

طالبان کی اچانک آمداورپولیس کی خاموشی ،شکوک جنم لینے لگے

ویب ڈیسک : سوات میں اچانک طالبان کی آمد، فورسز کے افسران کے اِغوا، بم دھماکے، پولیس تھانوں پر فائرنگ اور پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کرنے اور مکمل خاموشی نے کئی سولات کو جنم دے دیا۔ اگست کے پہلے دنوں میں یہ خبریں سوات میں گردش کر رہی تھیں کہ تحصیلِ مٹہ کے بالائی علاقوں میں مسلح شدت پسند داخل ہوئے ہیں اور مقامی لوگوں نے ان کو دیکھا ہے۔
7 اگست کی رات شدت پسندوں نے مٹہ بازار سے چند کلومیٹر فاصلے پر چپریال پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا اور فرارہوگئے، تاہم پولیس افسران نے اس واقع پر پردہ ڈالا اور کہا کہمشکوک افراد کو دیکھ کر پولیس نے فائرنگ کی ہے۔ اگلے دن ڈی ایس پی مٹہ پیر سید خان فوج کے ایک کرنل اور دوسرے آفیسر مع نفری (پولیس کے بقول) سرچ آپریشن کے لئے پہاڑی علاقہ کینالہ میں گئے، جہاں شدت پسندوں کی فائرنگ سے پولیس ڈی ایس پی زخمی ہوا اور پھر شدت پسندوں نے تینوں افراد کو اِغوا کرلیا۔
اگلے دن ڈی پی اُو کی نگرانی میں پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود دو درجن کے قریب شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لئے گئی۔ ایک پولیس آفیسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر مشرق کو بتایا کہ رات بھی ہم نے وہاں گزاری اور صبح چند لوگ مغوی فورسز کو کینالہ کی مسجد لے آئے جس کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے پولیس پارٹی کو واپس جانے کا حکم دیا۔ پولیس آفیسر کے مطابق بغیر آپریشن واپسی سے پولیس اہلکار کافی ناراض دکھائی دیئے۔ 13 ستمبر کو امن کمیٹی کے سابق سربراہ ادریس خان کی گاڑی پر برہ بانڈئی میں بم دھماکہ کیا گیا جس میں اُن سمیت8 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے اگلے دن مٹہ بازار کے قریبی علاقہ چپریال سے بین الاقوامی موبائل کمپنی کے8 ملازمین کو دن دیہاڑے اِغوا کیا گیا لیکن اس پر بھی پولیس افسران خاموش رہے۔
سوات میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات ہیں، جن میں سی ٹی ڈی، اینٹی ٹیررازم پولیس، ایلیٹ فورس وغیرہ شامل ہیں۔ آمدہ اطلاعات کے مطابق سوات میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد دو سو تا تین سو ہے۔ ہزاروں پولیس نے نہ تو مٹھی بھر شدت پسندوں کا مقابلہ کیا اور اس پر طرہ یہ کہ ہر خبر پر خاموشی اختیار کی۔
اس بارے میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر زاہد نواز مروت سے ان کا موقف جاننے کے لئے بار بار رابطہ کیا گیا، لیکن انہوں نے فون نہیںاٹھایا۔ اس کے بعد سوات پولیس کے پی آر او سے رابط کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں وہ کچھ نہیں بتاسکتے۔ مقامی صحافی اور نجی نیوز چینل کے نمائندے انور انجم نے بتایا کہ انہوں نے پولیس سے متعلق ایک خبر پر ڈی پی او کا موقف جاننے کے لئے فون کیا، تو فون نہیں اٹھایا گیا،جب متعلقہ سوال ان سے واٹس ایپ کے ذریعے کیا گیا، تو صحافی کا نمبر بلاک کیا گیا۔

مزید دیکھیں :   3بھائیوں نے اپنے ہی گھر سے 32لاکھ روپے لوٹ لئے