ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018

ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 یعنی خواجہ سرائوں کے تحفظ کے نام پر نافذالعمل قانون 2018 کے تحت بے چارے خواجہ سرائوں کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ البتہ عام گمراہ مردوں کا قانونی طور پر عورت بننا اور گمراہ عورتوں کا قانونی طور پر مرد بننا انتہائی آسان ہو گیا ہے۔کیونکہ اس بل میں خواجہ سرا کی تعریف صرف یوں کی گئی ہے کہ ” وہ مرد یا عورتیں جن کی جنسی شناخت ان کی قدرتی جنس کے مخالف ہو۔اور ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ ہر وہ شخص جس کی عمر اٹھارہ سال سے زائد ہو اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جنس خود معین کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت "۔یہ بل 2017 میں پارلیمنٹ میں پیش ہوا۔ یہ بل چار بڑی سیاسی پارٹیوں کی خواتین سینیٹروں یعنی پی ٹی آئی کی سینیٹر ثمینہ عابد ،ن لیگ کی سینیٹر کلثوم پروین،پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد اور ق لیگ کی سینیٹر روبینہ عرفان نے پیش کیا تھا۔ جو 2018 میں محترم شاہد خاقان عباسی کے وزارت عظمی کے دور میں قانون بن کر نافذالعمل ہو گیا ہے ۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔ جے یو آئی والوں نے بھی اس کا ساتھ دیا۔لیکن یہ قانون پاس ہو گیا۔اس قانون کے تحت اب آپ صرف اتنا کریں کہ نادرا آفس جائیں اور ان کو کہ دیں کہ شناختی کارڈ میں مجھے مرد لکھا گیا ہے لیکن میرے ذہن میں عورتوں جیسے خیالات آتے ہیں۔اس لئے مجھے عورت ہونے کا نیا شناختی کارڈ جاری کردیں تو نادرا والے آپ کو فورا نیا شناختی کارڈ جاری کر دیں گے۔نہ میڈیکل سر ٹیفکیٹ کی ضرورت اور نہ کسی اور ادارے یا بورڈ کے تصدیق کی ضرورت۔ بس آپ 9 بجے بس کے مردانہ سیکشن میں بیٹھ کر جائیں اور دس بجے واپسی پر پہلے نادرا آفس کے اندر ہی عورتوں کیلئے مخصوص واش روم استعمال کریں۔ شام کو خواتین پارک میں گھومیں۔ کسی بھی گرلز کالج اور گرلز ہاسٹل میں داخلہ لیں۔ خواتین کیلئے مختص کوٹے پر درخواست دے کر نوکری کریں۔اور ہاں اگر آپ نکاح ثانی کا ارادہ رکھتے ہوں۔تو کوئی مشکل نہیں اب آپ علی خان سے عالیہ خان بن چکی ہیں۔ اور نکاح خوان صرف شناختی کارڈ دیکھتا ہے۔ اس لئے دونوں کا نکاح پڑھوا دے گا۔نئے نئے مرد دوست تلاش کرے۔گھر پہنچ کے بچوں کو حکم دے کہ اس کو ڈیڈی پکارا کریں۔شام کو سارے بھائیوں کو اکٹھا کرکے ان سے مطالبہ کرے کہ وہ ان کی بہن نہیں بلکہ بھائی ہے اس لئے وراثت میں اس کا حصہ ڈبل ہو گیا ہے۔اور چونکہ قانونی طور پر آپ مرد ہیں۔اس لئے کسی بھی عورت سے شادی کر سکتے ہیں۔یعنی عورت کی عورت سے شادی اب آسان ہوگئی۔
یہ قانون 2018 میں پاس ہو چکا ہے۔ اور اب تک چالیس ہزار سے ذیادہ مرد و خواتین اس قانون کا فائدہ اٹھا کر نادرا سے اپنی جنس تبدیل کروا کر مرد سے عورت اور عورت سے مرد بن کر مزے کر رہے ہیں۔جیسا کہ اوپر عرض کیا۔کہ کسی میڈیکل سر ٹیفیکیٹ کی بھی ضرورت نہیں۔بس آپ کا اپنا بیان کافی ہے۔اس لحاظ سے ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلامی دنیا تو کیا انڈیا اور دوسرے یورپی ممالک اور امریکہ سے بھی ذیادہ ترقی یافتہ ہو گیا ہے۔کیو نکہ انڈیا ‘ یورپی ممالک اور امریکہ میں بھی مرد سے عورت اور عورت سے مرد بننے کیلئے میڈیکل بورڈ سے جاری کردہ میڈیکل سرٹیفکیٹ کی قانونی ضرورت ہوتی ہے جب کہ پاکستان میں ایسی سرٹیفکیٹ کی بھی ضرورت نہیں۔بس آپ کا اپنا بیان کافی ہے۔ تو پھر جلدی کیجئے۔پھر نہیں کہئے گا کہ ہمیں خبر نہ ہوئی۔کیونکہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے 2021 ء میں اس قانون میں یہ ترمیم پیش کی ہے کہ مرد سے عورت اور عورت سے مرد بننے کیلئے کم از کم ایک میڈیکل بورڈ سے جاری کردہ میڈیکل سرٹیفکیٹ کی شرط تو لگوادیں۔ لیکن عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔ بہرحال یہ بل پارلیمنٹ کی متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ جہاں اس بل پر پہلی میٹنگ 5 ستمبر 2021ء کو ہوچکی ہے۔اور کمیٹی اگلے ماہ اکتوبر 2022 میں اپنی دوسری میٹنگ میں یہ ترامیم منظور یا مسترد کر دے گی۔یعنی پاکستان کے غیور عوام کے پاس صرف ایک مہینہ رہ گیا ہے کہ وہ سر پر کفن باندھ کر اٹھیں اور اس تباہ کن قانون کے خلاف گلی کوچوں میں پرامن احتجاج کریں۔
اور ہاں آخری بات یہ کہ نادرا آفس سے واپسی پر اللہ تعالیٰ جل شانہ سے یہ گلے شکوے چھوڑ دیں کہ پاکستان بھر میں سیلاب اور بار بار کے زلزلوں سے کیوں ہمارے ہزاروں اہل وطن مر رہے ہیں۔ یا ہم پر یہ کیا افتاد آگئی ہے کہ بھائی بھائی دشمن بن کر ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔اور قاتل اور مقتول دونوں اس فساد کوجہاد سمجھ کر اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے ہیں۔ احادیث کے مطابق اگلا عذاب آسمان سے پتھروں کے برسنے کا ہے۔کیونکہ یہ سب کچھ اللہ کے عذاب کی مختلف شکلیں ہیں اور پاکستانی قوم اس قانون پر خاموش رہ کر بحیثیت مجموعی قوم لوط سے بھی آگے بڑھ کر ان عذابوں کی مستحق ہو چکی ہے۔

مزید دیکھیں :   مشرقیات