وباء کے موسم میں بھی سیاست

اس امر پر دوآراء ہرگز نہیں کہ آفات کے دنوں میں بھی ہماری مختلف الخیال سیاسی قیادت قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے شخصی و جماعتی سیاست کو ہی ترجیح دیتی ہے۔ دو برس قبل کورونا وباء کے دوران جب تحریک انصاف کی حکومت تھی تو اس وقت بھی حکومت اور اپوزیشن مل کر کام کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو رگیدتے دکھائی دیں۔ کورونا وباء کے دنوں میں عالمی ادارہ صحت سمیت دیگرز نے بھی اس وقت سندھ حکومت کی حکمت عملی کی تعریف کی لیکن ہمارے یہاں حکومتی اور ریاستی سطح پر سندھ حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ ہوا۔ آج سیلاب اور اس سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بنے ماحول میں بھی صورتحال جوں کی توں ہے۔ وفاق میں پی ڈی ایم اپنے اتحادیوں سمیت برسراقتدار ہے۔ پی ٹی آئی اسے آڑے ہاتھوں لے رہی ہے خود پی ٹی آئی کی اتحادیوں کے ہمراہ پنجاب میں اور خیبر پختونخوا میں تنہا حکومت ہے، دونوں نے سیلاب پر سیاست تو کی متاثرین کے لئے دونوں صوبائی حکومتوں نے جتنا کچھ کیا اس کی حقیقت سے متاثرین سیلاب بخوبی واقف ہیں۔ حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کا ابتدائی تخمینہ 30 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر کتنا نقصان ہوا اس کے لئے چاروں صوبوں میں سروے کرانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ روز امور خزانہ کی وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا نے اس حوالے سے کہا کہ ”سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے عالمی اداروں سے بات نقصان کا تخمینہ لگانے کے بعد کریں گے”۔ موسمیاتی تبدیلی کے مضمر اثرات کا سامنا کرنے والے پاکستان کو یقیناً سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے بڑے پیمانے پر امداد کی ضرورت ہوگی۔ بدقسمتی سے اس وقت سیاسی جماعتوں کو جس قومی اتحاد اور دردمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا وہ نہیں ہو پایا۔ سابق حکمران جماعت سے متعلق کچھ لوگوں نے پچھلے دنوں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دورہ پاکستان کے بعد جو منفی مہم چلائی وہ یقیناً قابل افسوس تھی خود پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان بھی اٹھتے بیٹھتے اپنے مخالفین کی حکومت کے لئے جو الفاظ استعمال کرتے ہیں ان پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ روز بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مزید 37 افراد جاں بحق ہوئے۔ سندھ کے بیشتر علاقوں کی طرح سرائیکی وسیب میں بھی بڑی تعداد میں سیلاب متاثرین یہ سطور لکھے جانے تک کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ اکثریت کے پاس کھانے کو روٹی ہے نہ پینے کیلئے صاف پانی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔ جمعرات کو بلوچستان اور سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد نے متعدد مقامات پر احتجاج بھی کیا بہت کم لوگوں نے ایثار کا مظاہرہ کیا اس کے مقابلہ میں سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال کا فائدہ اٹھاکر جیبیں بھرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔
روزمرہ ضرورت کی اشیائ، ادویات، جانوروں کا چارہ اور بعض دوسری چیزوں کے ساتھ خیموں اور ٹینٹوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری میں گردن تک دھنسے ہوئے زر پرستوں نے سیلاب کو بھی کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ کھانسی، بخار، ہیضہ، ڈینگی اور دوسری بیماریوں کے علاج میں فوری معاون بننے والی ادویات مارکیٹ سے غائب ہیں۔ کہیں دستیاب ہیں تو مقررہ قیمت سے سو یا ڈیڑھ سو فیصد زائد قیمت پر۔ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف کارروائی متعلقہ حکام کو کرنا تھی متعلقہ حکام (بیوروکریسی) کا ہی گڈ گورننس میں بنیادی کردار ہے مگر ملک میں آبادی کے حوالے سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے بیوروکریسی کی جس طرح اکھاڑ پچھاڑ کی جا رہی ہے اس سے تنگ آ کر صوبے کے چیف سیکرٹری رخصت پر چلے گئے۔ رخصت پر جانے کی جو وجوہات انہوں نے بتائیں ان سے صوبائی حکومت کی ترجیحات کا پتہ چلتا ہے۔ ادھر صورتحال یہ ہے کہ بعض علاقوں میں سیلابی پانی اترنے لگا ہے محفوظ مقامات یا عزیز و رشتہ داروں کے پاس مقیم متاثرین اپنے گھروں میں جائیں تو سر کہاں چھپائیں ان کے گھر تو سیلاب بہا لے گیا ہے۔ پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے سنجیدہ ہوتی تو اب تک کوئی حکمت عملی وضع کرلی گئی ہوتی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے 5 ارب روپے مختص کرکے پنجاب حکومت نے اپنی ذمہ داریاں پوری کردی ہیں۔ سیلاب متاثرین کے شکوے شکایات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ امداد ان تک نہیں پہنچی۔ بعض علاقوں سے مختلف میڈیا ہاؤسز کے نمائندوں کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑے اور بااثر خاندان حقیقی متاثرین کی بجائے اپنے سیاسی ہمدردوں کو نوازنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں یہ شکایات فقط سرائیکی وسیب میں ہی نہیں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے متاثرین کی بھی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ تم چور میں سادھو، تم ملک دشمن میں محب وطن کی تکرار میں مصروف سیاسی قیادت اس امر کا احساس کیوں نہیں کر پا رہی کہ سیلاب سے متاثرہ اکثر علاقوں میں سینکڑوں ہزاروں مکانات ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں۔ ہر طرف بربادیوں اور تباہیوں کے ہولناک مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کیا ان بدترین حالات میں شخصی نفرتوں سے گندھی سیاست سے بالاتر ہوکر خدمت خلق نہیں کی جاسکتی؟ امر واقعہ یہ ہے کہ سیاسی قیادتوں کو اپنے اپنے گن گانے اور مخالفین کے لتے لینے سے کچھ وقت نکال کر اس صورتحال کو سمجھنا ہوگا جو سیلاب سے پیدا ہوئی نیز یہ کہ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں اس امر کو یقینی بنائیں کہ سیلاب متاثرین تک بلاامتیاز امداد پہنچے اور یہ بھی کہ بااثر خاندانوں کا علاقائی طور پر اس میں کوئی کردار نہ ہو۔ سیاسی قیادت کو یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنا ہوگی کہ اگلے ماہ کے وسط سے جب موسم تبدیل ہونا شروع ہوگا تو متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوگا ان مشکلات سے سیلاب متاثرین کو محفوظ رکھنے کیلئے ابھی سے کام شروع نہ ہوا تو سیلاب سے بڑے المیے کا سامناکرنا پڑسکتا ہے۔ سیاسی قیادتوں اور اہل اقتدار سے دست بدستہ درخواست ہے کہ عوام پر رحم کیجئے ان کی دادرسی کو یقینی بنایا جائے۔

مزید دیکھیں :   سائبر خطرات کا چیلنج