سوات آپریشن کی تیاریاں

اگرچہ صوبائی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا عندیہ تاحال سامنے نہیں آیا بہرحال ہمارے نمائندے کے مطابق سوات میں مقامی طالبان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور عوامی مطالبات امن و استحکام کے پیش نظر سوات میں فوجی آپریشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور کمانڈوز کے خصوصی دستے پہنچ گئے ہیں، سوات میں گزشتہ شورش کے موقع پر تاخیر اور صبر سے کام لینے کے باعث سامنے آنے والی مشکلات کے تناظر میں گربہ کشن روز اول کی ضرورت کا شدت سے احساس ہو رہا تھا گزشتہ روز کور کمانڈر پشاور کی جانب سے بھی بعض امور کی نشاندہی کے ساتھ تطہیری عمل کا عندیہ دیا گیا تھا عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل کر اس کا مطالبہ بھی کرچکی ہے بہرحال یہ وقت عملی قدم اٹھانے کا بروقت مظاہرہ ہے اس وقت طالبان پہاڑوں اور ممکنہ طور پر مضافات میں موجود ہیں جہاں ان کے خلاف قدم اٹھانے یا پھر ان کو ایک مرتبہ پھر پرے دھکیلنے کی سعی میں مقامی آبادی کم سے کم متاثر ہو گی ہمارے نمائندے کے مطابق تین سو کے قریب مسلح شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں جو2009 ء کے آپریشن کے دوران فرار ہو گئے تھے تین سو مسلح شدت پسند کافی بڑی تعداد ہے اور چونکہ وہ قبل ازیں بھی اس علاقے میں لڑ چکے ہیں اور علاقے سے پوری طرح واقف بھی ہیں نیز وہ بالائی علاقوں میں موجود ہیں اس لئے معرکہ کافی مشکل ہونے کا امکان نظر آتا ہے قبل ازیں بھی پیوچار کا معرکہ اور دیگر معرکے ہمارے شیر دل جوانوں نے قربانیاں دے کر سر کر لئے تھے حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مرتبہ بھی شاید جدوجہد طوالت اختیار ہے بہرحال تمام تر امکانات کے پیش نظر تطہیری عمل کا بروقت فیصلہ اور تیاری احسن ہے اس ضمن میں عوام اور مقامی افراد کا امن و استحکام کے ضمن میں تعاون کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا انہوں نے جلسہ کرکے جو مطالبات کئے تھے اور جس عزم کا اظہار کیا تھا ان کو ہتھیار اٹھانے کی بہرحال ضرورت نہیں البتہ معلومات کا تبادلہ مشکوک افراد کی نشاندہی اور عوامی صفوں میں اسی جذبے کو برقرار رکھ کر حالات کا سامنا کرنے کی جدوجہد بہرحال کم اہم نہیں ہوگا۔
موبائل چھیننے کی وارداتوں میں اضافہ
پشاور میں دن دیہاڑے موبائل چھیننے اور رہزنی کی وارداتوں میں اضافہ پولیس کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے سی سی ٹی وی کیمروں سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں وارداتوں میں ملوث ملزمان کی نشاندہی کے بعد ان کی گرفتاری مشکل امر نہیں ہونی چاہئے اب پولیس کو جیوفیسنگ اور دیگر سائنسی اور جدید آلات کی سہولت میسر ہے جس کے ذریعے نگرانی اور گرفتاری دونوں مشکل کام نہیں ہمارے تیئں پولیس کی گشت موٹر سائیکل سوار ابابیل فورس اور سٹی پولیس کا گشت اگر موثر فعال اور تسلسل کے ساتھ ہو تو واردانوں میں کمی اور برموقع کارروائی مشکل نہیں مستزاد سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی اور ملزمان کا ان ذرائع سے بھی نشاندہی اور تعاقب کی سہولت کا بہتر استعمال بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے ان سہولیات کے ہوتے ہوئے اب کوئی واردات پوشیدہ اور اندھی واردات کے زمرے میں شمار نہیں ہوتی مگر مشکل امر یہ ہے کہ پولیس اس کے باوجود ناکامی کا شکار اور رہزن دیدہ دلیری کا مظاہرہ کر رہے ہیں پولیس حکام کو باوردی اہلکاروں کے ساتھ اہم مقامات پر عام لباس میں بھی عملہ تعینات کرنے کی ضرورت ہے اس طرح کی تعیناتی ضرور ہوتی ہوگی مگر ان کی کارکردگی اور بروقت کارروائی کم از کم ملزمان کا پولیس کے آنے تک تعاقب کی ذمہ داری تو ان افراد کو نبھانی چاہئے جب تک ملزمان کے خلاف متحرک اور پوری طرح فعالت اور نگرانی کا عمل مربوط اور مسلسل نہ ہوگا اس وقت تک رہزنی کی وارداتوں میں روک تھام یا ان میں کمی نہی آپائے گی موبائل چھیننے کے بعد ان کی فروخت اور ممکنہ طور پر افغانستان منتقلی کے عمل پر بھی کڑی نگرانی رکھی جائے تو ملزمان کو بے نقاب کرنے میں کامیابی مل سکے گی توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی دارالحکومت میں موبائل چھیننے کی وارداتوں کا خاتمہ کرنے کیلئے پولیس نئے عزم اور سکیم کے ساتھ میدان میں آئے گی اور شہریوں کو تحفظ کا احساس دلایا جائے گا۔
چارسدہ کی سیاسی فضا کو مکدر نہ کیا جائے
تحریک انصاف کے قائد جیسے مقبول سیاست دان اور خان عبدالغفار خان اور خان عبدالولی خان خانوادے کے نوجوان سیاست دان اور انتخابی امیدوار کے درمیان سیاسی سٹیج پر ایک دوسرے کے حوالے سے گفتگو اور ان کے حامیوں میں تکرار کی سیاسی طور پر کوئی گنجائش اس لئے نہیں کہ سیاست میں باڈی شیمنگ اور ایک دوسرے کو جانوروں سے تشبیہ دینا کوئی معقول اور مناسب رویہ نہیں اور نہ ہی ان کو زیب دیتا ہے، خیبرپختونخوا کی سیاست اور روایات قبل ازیں کبھی شاید ہی اس حد تک گئی ہوں یہاں کی سیاسی اور پارلیمانی روایات دوسرے صوبوں کی بہ نسبت باوقار اور سنجیدہ رہی ہیں خان عبدالولی خان کو جب پہلی مرتبہ اپنے حلقے سے شکست ہوئی تو انہوں نے حلقے کے عوام کا فیصلہ اس سنجیدگی سے تسلیم کیا کہ پھر انتخاب ہی نہ لڑے خان عبدالغفار عرف باچہ خان کا خانوادہ سیاسی قیادت اور اقدار کے لحاظ سے ممتاز حیثیت کا حامل رہا ہے اس مقام و مرتبہ کا لحاظ رکھنا اور اسے برقرار رکھنے کی اولین ذمہ داری خود ان کے چشم و چراغ اور کارکنوں کی ہے جبکہ تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کو بھی مقامی روایات میں کوئی ایسی روایت اور بدعت نہیں لانی چاہئے کہ اس کے اثرات سے خود ان کی سیاست اور قیادت بھی محفوظ نہ رہے ہر دو فریقوں کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کو برے ناموں اور القاب سے پکارا جائے سیاسی مقابلہ اور جمہوری انداز میں وقار اور خوش دلی کے ساتھ کامیابی کا جتن کیا جائے قائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے کارکنوں کو اس امر سے روکیں اور سیاسی فضا کو مکدر بنا کر تصادم کی راہ ہموار نہ کی جائے ایسا کرنا دونوں کے حق میں بہتر ہوگا۔

مزید دیکھیں :   محسن غریب لوگ تو تنکوں کا ڈھیر ہیں