ملک اور عوام مقدم کیوں نہیں؟

ایک ایسے وقت میں جب سیلاب کے بعد اہل وطن کو نئی آفتوں کا سامنا ہے ڈبلیو ایچ او نے انتباہ کیا ہے کہ جان لیوا امراض کا خطرہ پاکستانیوں کے سروں پر منڈلا رہا ہے، سیلابی پانی کے ابھی سوکھنے میں وقت باقی ہے ان آفات و بلیات کے ساتھ ساتھ اور اس مشکل وقت میں جب سیاست دان حکمران اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر عوام کا دکھ درد سمجھنے کو تیار نہیں جو مہنگائی اور سیلاب کے ساتھ ساتھ وبائی امراض کے خطرات سے دوچار ہیں اہل وطن کو یہ سیاست کس حد تک منظور ہے اس حوالے سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ حکمرانوں کا مؤقف یہ لگتا ہے کہ متعلقہ ادارے اپنا کام کر رہے ہیں جب کہ دیگر سیاسی عناصر بھی سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے فنڈز اکٹھا کرنے کی ایک سے بڑھ کر ایک مہم تو چلا رہے ہیں عملی طور پر معدودے چند غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کی کارکردگی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا یہ وقت سیاست و حکومت کی لڑائی سے زیادہ عوامی مشکلات کو سمجھنے کا ہے لیکن معروضی صورتحال سے اس امر کا واضح عندیہ ملتا ہے کہ اس تناظر میں آئندہ بھی ملکی مسائل اور حالات کا جائزہ لینے کی شاہد ہی زحمت کی جائے حکمرانوں اور سیاست دانوں کا خیال ہوگا کہ بس انہی کے پاس مشکلات کے حل کا نسخہ ہے دوسروں کے پاس نہیں حالانکہ اگر اس مشکل وقت میں سیاست اور حکومت دونوں کو ایک طرف رکھ کر عوام کی دست گیری کیلئے متحرک ہوا جائے تو زیادہ مناسب امر ہوگا اگر یہ ممکن نہیں اور سیاست ہی مانع ہے تو کم از کم وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہی آئین و دستور کے مطابق اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے ہم آہنگی سے کام لیں بدقسمتی سے سیاسی ماحول اور کشیدگی کے منفی اثرات کے باعث اس مشکل وقت میں بھی اس بات کی کوئی امید نہیں کہ تنازعات اور الزامات میں کمی لا کر معاملات و مسائل پر توجہ مرکوز کی جائے، ایک مرتبہ پھر لندن میں ملکی سیاست اور اہم تقرریوں کے حوالے سے مشاورت ہو رہی ہے نیز ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کی تیاریاں ہو رہی ہیں جب کہ دوسری جانب تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے کور کمیٹی کے اجلاس میں اپنے ساتھیوں کی مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ سے ملے ہونے اور ان کو بائی پاس کرنے پر سخت تنبیہ کرکے از خود اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ تحریک انصاف کی صفوں میں پہلی والی صورتحال نہیں سوشل میڈیا کی افواہوں کو معتبر نہیں قرار دیا جاسکتا جہاں تحریک انصاف کے اندر وزارت عظمیٰ کے چھ امیدواروں کی تعداد ہونے کا پروپیگنڈہ ہو رہا ہے بہرحال اس حد تک تحریک انصاف کے قائد کے بیان سے ازخود واضح ہے کہ کچھ نہ کچھ اور کہیں نہ کہیں روابط پائے گئے ہیں دوسری جانب بعض سیاسی مخالفین سیلابی صورتحال اور امدادی کاموں کی بہتری کے بعد بڑا سرپرائز دینے کا بھی عندیہ دے رہے ہیں معلوم نہیں یہ پنجاب حکومت کی تبدیلی کا عندیہ ہے یا پھر یہاں کی صفوں سے وہاں کی صفوں میں مراجعت اور اڑان یا پھر کسی نئے سیاسی کھیل کا آغاز ہوتا ہے صورتحال اور حالات جو بھی ہوں بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت اور سیاست عوامی مشکلات، مسائل مہنگائی، بے روزگاری، وبائی صورتحال، قلت خوراک و ادویات جیسے بنیادی انسانی ضرورتوں پر مقدم نظر آتی ہیں مستزاد اس میں قوم کے تخت نشیں غم خوار ہوں یا حصول تخت کی سعی میں ایک بار دیکھا ہے دوبار کی ہوس قسم کے عناصر ہوں سبھی کی کوششوں کا محور حصول اقتدار ہے عوام اور ملک اگر ہیں بھی تو ثانوی حیثیت میں بدقسمتی صرف یہی نہیں بلکہ ملک میں سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی میں اضافہ کا بھی خطرہ ہے تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی کال دینے اور اس کیلئے وسائل کی فراہمی کی باقاعدہ تیاری کی ہدایت کردی گئی ہے دوسری جانب اس مرتبہ پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ احتجاج کو روکنے یہاں تک کہ پہلے کی طرح واپسی کی سہولت بھی نہ دینے کا اعلان سامنے آیا ہے جو ممکنہ تصادم امن و امان کی صورتحال اور انتشار میں اضافے کا باعث ہوگا مستزاد خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں جس قسم کے عناصر سامنے آئے ہیں ان کا سر کچلنا وقت کی ضرورت ہے ملک میں ہر طرف سے انتشار کی کیفیت میں ہے اس صورتحال میں اگر کسی ایک جانب سے مفاہمت اور سیاسی معاملات کو سیاسی طور پر حل کرنے ملکی معیشت کی بحالی و استحکام کیلئے مشاورت و تعاون کی طرف متوجہ ہوا جائے تو اس سے بڑھ کر ملکی مفاد کا کوئی اور تقاضا اس وقت نہیں سیاسی معاملات پر مذاکرات سے ہچکچاہٹ میں ضد اور انا کے عوامی واضح ہیں کم از کم معیشت اور سیلاب کی صورتحال اور اس سے پیدا شدہ حالات و مسائل ہی کو موضوع بنا کر سلسلہ جنبانی تو ہوسکتی ہے مبادا اس مفاہمت کے اثرات سیاست و قیادت اور حکومت بھی پھیل جائیں اور ایک اچھی صورتحال سامنے آئے، حکومت اور سیاست دانوں کو ان حالات میں حصول اقتدار اور تحفظ اقتدار سے ایک قدم آگے بڑھ کر ملک و قوم اور مشکلات کا شکار عوام کا بھی خیال کرنا چاہئے حب وطن اس امر کا متقاضی ہے کہ سارے معاملات کو ایک طرف رکھ کر ملک کو درپیش مسائل کو اولیت دی جائے اس کے بعد سیاست و قیادت کے معاملات طے ہوں۔

مزید دیکھیں :   راست گو اور وفا شعارکہاں سے لائیں؟