ٹرانسجینڈر ایکٹ

ٹرانسجینڈر ایکٹ کیخلاف درخواست: سینیٹرمشتاق، فرحت بابرکی درخواستیں منظور

وفاقی شرعی عدالت نے سینیٹر مشتاق خان، فرحت اللہ بابر ، الماس بوبی سمیت مختلف افراد کی فریق بننے کی درخواستیں منظور کرلیں۔
ویب ڈیسک: وفاقی شرعی عدالت میں خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق ٹرانسجینڈر ایکٹ کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے سینیٹرمشتاق احمد خان، فرحت اللہ بابر، الماس بوبی سمیت دیگر افراد کی فریق بننے کی درخواستیں منظور کرلیں۔
عدالت نے تمام فریقین کو اپنی گزارشات تحریری طور پرجمع کروانے کی ہدایت کردی۔
درخواست گزار فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ بل بنتے وقت پوری اسمبلی نے بل کو منظور کیا تھا، بل بنتے وقت میں اس سارے عمل میں شامل تھا،
بل پرکیا اعتراضات تھے اور کیا بحث ہوئی عدالت کو بتانا چاہتا ہوں، دو بلوں کو ملا کر ایک بل بنایا گیا تھا۔
سینیٹر مشتاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں نیا بل جمع کروایا گیا ہے، کسی کو اپنی مرضی سے جنس بدلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
خواجہ سرا نایاب نے دوران سماعت ٹرانس جینڈر کی جانب سے سوشل میڈیا بحث پر پابندی کی استدعا کی۔
قائم مقام چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ خواجہ سراؤں کے حقوق کا ہے،
جس کے بھی جو حقوق ہیں وہ ملنے چاہئیں، کمیونٹی کو تحفظ اور حق دینا ہی اصل مقصد ہے، کوئی آنکھیں بند کر لے تو وہ نا بینا نہیں بن جائے گا۔
قائم مقام چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خواجہ سراؤں کے کوٹے کے لیے حکومت کا کیا طریقہ کار ہے؟
یہ نہ ہوکہ نوکری کے لیے کوئی خواجہ سرا کا شناختی کارڈ بنوالے۔
وفاقی شرعی عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

مزید دیکھیں :   پاکستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اب اعلیٰ عدالتوں سے منسلک ہے، شیخ رشید