مشرقیات

آپ واقعے سے آگاہ ہوگئے ،اپنے پشاور کے نواح میں ایک خاتون کو اس لیے موت کا حقدار سمجھا گیا تھا کہ اس نے اپنے بہنوئی کے بھائی سے شادی سے انکار کر دیا تھا،اسے معلوم نہیں تھا کہ شادی بیاہ کی بات ہو یا حق وراثت یا کوئی بھی سماجی معاملہ خواتین کو یہ اختیار ہے ہی نہیں کہ وہ اپنی مرضی کا فیصلہ سنا سکیں۔کوئی ایک آدھ نہیں ہم ایسے درجنوں واقعات گنواسکتے ہیں جہاں ہوا زادیوںکو دیوار میں چن دیا گیا ،جلا کر راکھ کر دیا گیا یا پھر اپنا حق مانگنے کی پاداش میں گولیوں سے بھون دیا گیا۔ادھر سماج ماننے کو تیا ر ہی نہیں ہے کہ آبادی کے اس نصف حصے کا بھی کوئی حق ہے۔زیادہ سے زیادہ اسے پال پوس کر جوان کر کے کسی کے بھی پلے باندھ دینا کافی شافی ہے اس سے زیادہ کی وہ کوئی خواہش پالے تو سماج کے پاس اس کے لیے موت کا پروانہ ہے اور کچھ نہیں۔حیرت ہوتی ہے پھر بھی ہماری ہاں کے قانون سازوں سے اس کے حقوق کے لیے ایسے ایسے قوانین وضح کئے ہوئے ہیں کہ حقیقی معنوں میں لاگو ہو جائیں تو مردانہ سماج اپنی موت آپ مر جائے تاہم اس سے زیادہ حیرت کا مقام وہ ہوتا ہے جب ان ہی قانون سازوں کو ہم جرگوں ،پنچائیتوں وغیرہ میں خواتین کی قسمت کا فیصلہ وہ بھی ملکی قاعدے قوانین سے ہٹ کر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔اسمبلی میں قانون سازی کرکے اسمبلی سے باہر اپنے اپنے حلقوں میں ووٹرز کا رحجان دیکھ کر اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا کوئی ہمارے مقننہ کے نمائندوں سے سیکھے۔بہرحال یہ موضوع پھر کبھی سہی ابھی صرف یہ بتائیں کہ کب تک خواتین کی فطری اور جائز خواہشات کے سامنے بند باندھ کر ان کے خون بہانے کے ارادے ہیں۔قانون سازی آپ بہت کر چکے فائدہ کچھ نہیں ہوا،مسئلہ ہے اس سماج کی تعلیم وتربیت کا ،اور یہ کام سرکار صرف اپنے زور بازو پر نہیں کر سکتی اس کے لیے سماج کے ان نمائندوں کو ساتھ ملانا بھی ضروری ہے جو خواتین کے حقوق کے حامی ہی نہ ہوں بلکہ سماج سے انہیں منوانے کی اہلیت کا مظاہر ہ بھی کر سکیں۔ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ ہمارے سماج میں مسجد اور حجرے کا بڑا موثر کردار ہے تاہم حجرہ ہو یا مسجد یہاں بھی خواتین کی قسمت کا فیصلہ کرنے والوں میں زیادہ تر وہی لوگ شامل ہوتے ہیں جو سماج میں مردانہ کردار کو فائق سمجھتے ہوئے خواتین سے متعلق فیصلے کرتے ہوئے ان کی رائے کو قطعی اہمیت نہیں دیتے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اب خواتین کی شادی بیاہ اور وراثت وغیرہ سے متعلق تمام معاملات سرکار اپنے ہاتھ میں لے ،نکاح نامے سمیت وراثتی قوانین میں جو سقم ہیں انہیں سماجی ماہرین کی رائے سے فول پروف بنایا جائے تاکہ خواتین کو حق انتخاب مل سکے کہ وہ اپنی زندگی کیسے بسر کرنا چاہتی ہیں؟

مزید دیکھیں :   مشرقیات