رموز مملکت خویش خسروان دانند

خیبر پختونخوا حکومت صوبائی اسمبلی میں وزراء کی تنخواہوں ، مراعات اور الائونس ایکٹ 1975میں ترمیم کر رہی ہے جس کے تحت صوبائی وزراء اور سرکاری افسر سرکاری خرچ پر صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر اور جہاز استعمال کر سکیں گے۔ صوبائی اسمبلی کی دستاویزات کے مطابق مذکورہ ایکٹ میں ترمیم کے بعد وزیر اعلیٰ حکومت کا ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر حکومتی خرچ پر سرکاری کام کیلئے استعمال کر سکتا ہے ۔ ترمیمی مسودے کے مطابق وزیر اعلیٰ اوپن مارکیٹ سے ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر کرایہ پر لے سکتے ہیں جب کہ وزیر اعلیٰ کسی وزیر یا سرکاری ملازم کو سرکاری استعمال کے لئے ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر سرکاری خرچ پر استعمال کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب صوبے کا بڑا حصہ سیلاب اور شدید بارشوں کی تباہ کاریوں سے بری طرح متاثر ہے صوبہ خیبر پختونخوا سمیت پورا ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے اپنی پالیسی اور منشور کے برعکس خیبر پختونخوا کو اس اقدام کی نجانے کیوں سوجھ رہی ہے اور اس کی حکمت و ضرورت کیا ہے حکمرانوں پر پہلے ہی سے ہیلی کاپٹر کے ناجائز استعمال اور سرکاری وسائل کو ضمنی انتخابات سمیت دیگر مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں اس تناظر میں اگر سرکاری ا فسران کو یہ سہولت دی گئی اور جہاز چار ٹر کرنے کی عیاشی کی بھی قانونی اجازت ملے تو اس صوبے کے عوام پر ترس ہی کھایا جاسکتا ہے جو مہنگائی اور بیروزگاری کے بوجھ تلے بجلی کے اضافی بل دیتے دیتے غرض قسم قسم کے مالیاتی بوجھ اور مسائل کا شکار ہو کر ذہنی مریض بنتے جارہے ہیںنیز یہ قدم تحریک انصاف کے منشور کے بھی بالکل برعکس ہو گا اس طرح کے کسی ایکٹ کے نفاذ اور اس سہولت سے فائدہ اٹھانا حکومت اور جماعت دونوں ہی کے حوالے سے بہتر نہ ہوگا بہتر ہوگا کہ یہ خیال ترک کردیا جائے اور ایک اور دروازہ کھولنے سے پرہیز کیا جائے جو عوام کی امنگوں کے خلاف ہو۔
آٹے کی تقسیم کے موقع پرناخوشگوار واقعات
پشاور میں سرکاری آٹا کی تقسیم کے دوران غریب شہری ٹرک کے نیچے آکر شدید زخمی ہونے
کا واقعہ لمحہ فکریہ ہے قبل ازیں بھی آٹا تقسیم کے وقت لڑائی جھگڑوں اور بدانتظامی کے واقعات سامنے آئے تھے جن کا بروقت نوٹس لیکر اصلاح احوال کی ضرورت محسوس نہ کی گئی ورنہ شاید اس واقعے کی نوبت نہ آتی امر واقع یہ ہے کہ ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کاسلسلہ جاری ہے اور 20کلوکا تھیلہ 2100سے تجاوز کرچکی ہے جس کے باعث سرکاری سطح پر کم نرخوں پر آٹا فراہم کیاجارہا ہے۔دریں ا ثناء پنجاب سے آنے والے آٹے پر 50 ہزار روپے فی ٹرک بھتہ وصول کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ خیبر پختونخوا کے نانبائیوں نے مہنگے داموں آٹے کی فراہمی کے باعث 135گرام روٹی20روپے میں فروخت کرنے سے معذوری کا اظہار کرتے ہوئے سستے آٹے کی فراہمی کا مطالبہ کر دیا ہے۔آٹے کی ترسیل وتقسیم اور مارکیٹ میں دستیابی اور روزانہ کی بنیاد پر آٹا مہنگا ہونے کا عمل سنگین سے سنگین تر ہو رہا ہے بھتہ کی وصولی کے بعد اس کا مزید مہنگا ہونا بعید نہیں جس کا حکومت کو سختی سے نوٹس لیکر اس قبیح عمل کا تدارک یقینی بنانا چاہئے اس امر پر بھی سنجیدگی سے توجہ کی ضرورت ہے کہ سرکاری آٹے کی ترسیل و تقسیم کے نظام سے شکایات بڑھتی جارہی ہیں آٹا ٹرک آنے پر لوگوں میں جھگڑا کامعمول بن جانے کی وجوہات میں کچھ تو معاشرتی عوامل کا باعث ضرور ہوگا لیکن اگرانتظامیہ باقاعدہ طریقہ کار وضع کرکے اس کے مطابق تقسیم کا عمل شروع کر سکے اس امر پر توجہ دی جائے کہ باری باری آٹا سب کوملنا یقینی بنایا جائے تو بھگڈر اوردھکم پیل کی نوبت نہیں آئے گی اور سفید پوش خواتین و حضرات بھی باعزت طریقے سے آٹا حاصل کر سکیں گے۔سرکاری نرخ پرآٹے کی فروخت یقینا احسن اقدام ہے اور اس سے لوگوں کو ریلیف ملتا ہے لیکن اس کا طریقہ کار ایسا مقرر کیا گیا ہے کہ تمام لوگوں تک آٹا پہنچ نہیں پاتا بہتر ہوگا کہ آٹا تقسیم کرنے سے قبل اتنے ٹوکن جاری کئے جائیں جتنے تھیلے ٹرک میں آتے ہوں باقی کے لئے اگلی باری مقرر کی جائے تاکہ یکے بعد دیگرے آٹا حاصل ہوسکے اور دھینگا مشتی کے متحمل نہ ہونے والے اور ضعیف و خواتین اور بچوں کو بھی باری پر آٹا مل سکے موقع پر پولیس کے ذریعے ہجوم کو قطار میں کھڑا کرکے اس کو کنٹرول کیا جائے تو بہتر ہوگا۔سرکاری آٹے کی تقسیم نظم و ضبط کے ساتھ نہ ہونے سے ایک احسن عمل کی افادیت باقی نہیں رہ گئی ہے اورعوامی شکایات میںاضافہ ہو رہا ہے تھوڑی سی توجہ کے ساتھ اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

مزید دیکھیں :   راست گو اور وفا شعارکہاں سے لائیں؟