الیکشن کمیشن کو خصوصی انتظامی ا ختیارات دینے کی ضرورت

خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں میں الیکشن کمیشن کی ہدایات کو پس پشت ڈالنے کے عمل کا جوبھی مرتکب ہو یہ مناسب امرنہیں الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جس کے پاس بزور قوت عملدرآمد کا کوئی طریقہ کار اور اسباب نہیں وہ ہدایات اور نوٹس ہی جاری کر سکتا ہے اور الیکشن کے حوالے سے بہرحال وہ خود مختار اور اس دائرہ کار میں وہ سخت سے سخت حکم اور اس پرعملدرآمد کراسکتا ہے لیکن ابھی تک ا لیکشن کمیشن کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ ہی سامنے آیا ہے اس آئینی ادارے کی ہدایات کی سہواً نہیں عمداً اور عملاً خلاف ورزی اختیار کرنے سے ملک میں قانون اور آئینی اداروں کی عملداری اور ان کا احترام متاثر ہونا فطری امر ہے ۔دریں اثناء چیف الیکشن کمشنر نے ضمنی انتخابات میں سرکاری مشینری اور ہیلی کاپٹر کے استعمال اور وزیراعلٰی کے پی، وزراء کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی متواتر خلاف ورزیوں کا نوٹس لے لیاہے۔ چیف الیکشن کمشنرنے کہا ہے کہ چیف سیکرٹری اور ایڈووکیٹ جنرل اپنی حکومت کو جاکر بتائیں کہ خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ضمنی انتخاب میں تمام امیدواروں کو یکساں مواقع کی فراہمی یقینی بنائے گا۔خلاف ورزی کی صورت میں تمام جماعتوں،امیدواروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ پشاور میں این اے31کے جلسے کیلئے سرکاری وسائل کے استعمال پر وزیر اعلیٰ اور عمران خان سمیت8ارکان کابینہ پر50،50ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ ہفتہ 17ستمبر کو چارسدہ میں پی ٹی آئی کی جانب سے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں جلسے کا انعقاد کیا گیا تھا ضمنی انتخابات کے ضابطہ اخلاق کے مطابق کابینہ ارکان سپیکر اور وزیر اعلیٰ و گورنر سمیت کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے والا شخص مہم میں حصہ نہیں لے سکتا۔الیکشن کمیشن کے قوانین اور ہدایات کی خلاف ورزی کسی ایک دور کا مسئلہ نہیں اس طرح کے اقدامات پر نوٹسز کا اجراء اور معافی طلبی پر معافی ملتی رہی ہے لیکن جس تواتر اور دھڑلے سے الیکشن کمیشن کی ہدایات اور قوانین کامذاق اب اڑایا جانے لگا ہے اس سے الیکشن کمیشن کا پورا ادارہ عضو معطل اور خلاف وزریوں کے سامنے بے بسی کی تصویر نظر آتی ہے لیکن الیکشن کمیشن اتنا بھی بے اختیار اور بے توقیر ادارہ نہیں بلکہ اس کی جانب سے عدالتی اور تاددیبی اختیارات کے استعمال میں مصلحت پسندی کا مظاہرہ ہوتا رہا ہے اب ایسا نظر آتا ہے کہ پانی آخری حدوں کو چھو چکا ہے جس کا ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو ادراک ہونا چاہئے سوال یہ ہے کہ اگر حکمران اور مقتدر سیاسی رہنما ہی قوانین اور آئینی اداروں کو وقعت دینا چھوڑ دیں اور ان کے احکامات کو پرکاہ کی حیثیت نہ دیں تو پھر ملک میں آئیں اور قانون پر
عملدرآمد اور پابندی جبکہ آئینی اداروں کے اختیارات کا استعمال کیا صرف کمزوروں کے لئے ہی رہ گیا ہے قانون شکنی اور آئینی اختیارات سے ٹکرائو کا عمل اگر اوپرسے شروع ہو جائے تو اداروں کے اندر حکومتی احکامات اور ماتحت عدلیہ کے احکامات اور ہدایات پر بطور خاص پھر عملدرآمد کون کرے گا اور کیسے کروایا جائے گا کیا اس طرح سے ملک میں لاقانونیت کی راہ ہموار نہ ہو گی اور ان کی دیکھا دیکھی ہر جانب سے قانون شکنی اور احکامات سے روگردانی کی ایک دوڑ شروع نہیں ہو گی انتخابی جلسوں میں سرکاری وسائل کا استعمال کیا عوام کو نظر نہیں آتا او وہ اس امیدوار اور حکمرانوں کے بارے میں کیا نظریہ رکھے گا اور رائے قائم کرے گا جو سرکاری وسائل کو بے دریغ سیاسی سرگرمیوں میں جھونکنے سے ذرا نہیںہچکچاتا بلکہ ڈھٹائی سے اس کا سب کی آنکھوں کے سامنے استعمال ہو رہا ہو اس ضمن میں سرکاری عہدیداروں کا کردار و عمل بھی سرکاری اور عوامی مفادات کے تحفظ کی بجائے قوانین پر عملدرآمد کی بجائے بااثر افراد اور حکومتی عناصر کے حق میں فدویانہ ہے حال ہی میں پی ڈی اے کی گاڑی ایک سیاسی جماعت کے جھنڈے لگاتے پکڑی گئی اس کا نوٹس بھی لیا گیا مگر معاملہ ماتحت عملے پر ڈال دیا گیا یوں یہ معاملہ بہرحال رفع دفع ہو ہی جائے گا لیکن اس سے جو تاثر ابھرے گا اور اس سے باشعور عناصر جو رائے قائم کریں گے قوانین اور آئینی اداروں کی جو بے توقیری سامنے آئے گی وہ نہ صرف ان عناصر کے لئے بلکہ صوبے کی حکومت اور ملک و قوم کے لئے کوئی خوشگوار صورت نہ ہو گی سیاسی جماعتوں کے پاس لامحدود وسائل اور فنڈز کی بھرمار کوئی راز کی بات نہیں پھر اپنے وسائل سے انتخاب کیوں کر نہیں لڑی جاتی اس طرح کی صورتحال کے تدارک کے لئے یہ تجویز ہی مناسب لگتی ہے کہ اس طرح کی قانون سازی کی جائے کہ جس حلقے اور ضلعے میں ضمنی انتخابات ہو رہے ہوں اس کی انتظامیہ کی جگہ عبوری انتظامیہ مقرر کی جائے اور اس کا اختیار الیکشن کمیشن کے حوالے کیا جائے نیز اس انتظامیہ کو نہ صرف انتظامیہ بلکہ اس سے بڑھ کر سرکاری وسائل کے تحفظ کی ضمانت کے طور پر اختیارات دیئے جائیںاو ان کو باقاعدہ قوت نافذہ اور فورس فراہم کی جائے تاکہ جہاں ضابطہ اخلاق کی سنگین اور کھلم کھلا خلاف ورزی نظر آئے تو اسے بزور قوت روکا جا سکے۔الیکشن کمیشن کی خود مختاری کا مطالبہ تو بہت کیا جاتاہے شفاف الیکشن اور دھاندلی نہ ہونے دینے کی بھی امید رکھی جاتی ہے اور یہ توقع بہرحال بجا ہے لیکن عملی طور پر اس کے احترام کے لئے کوئی بھی تیار نہیں جب الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی دھجیاں ہی اڑ دی جائیں توپھرانتخابات بارے ان کے انتظامات اور فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی وناکامی پر تنقید کیسی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے کے وقار اور ہدایات کا احترام کیا جائے اور اسے عملی طور پر آئینی ادارہ تسلیم کرنے کے بعد ان سے توقعات کی وابستگی کی جائے۔

مزید دیکھیں :   ایک نظر حیات آباد پر بھی ڈالئے