آج دوسرے ون ڈے میچ کیلئے کپتان بابر اعظم کو مضبوط حکمت عملی اپنانا ہو گی

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سات ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ آج کراچی میں کھیلا جائیگا، پاکستان کرکٹ ٹیم کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں چھ وکٹوں سے شکست دیکر انگلینڈ نے سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر رکھی ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم جس کی ناکامی کا سلسلہ ایشیا کپ سے شروع ہوا تھا ہوم گرائونڈ پر بھی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، انگلینڈ کیخلاف پہلے میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے فخر زمان کی غیر موجودگی کی وجہ سے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلیاں کیں تاہم یہ تبدیلیاں وہ نتائج نہیں دے سکیں ہیں جو پاکستان کرکٹ ٹیم کو درکار تھے، ایک طویل عرصے کے بعد حیدر علی کو ٹیم کو شامل کیا گیا مگر وہ توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے، انگلش کرکٹ کائونٹی اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں رنز کے انبار لگانے والے شان مسعود بھی پاکستانی کی بیٹنگ مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے، حسب توقع اوپنرز بابر اعظم اور محمد رضوان کی جانب سے ایک اچھے آغاز کے باوجود مڈل آرڈر میں کوئی بھی ایسا کھلاڑی نہیں تھا جو اس اچھے آغاز کی بنیاد پر انگلینڈ کی ٹیم کو ایک چیلنجنگ ٹوٹل دے سکتا

مزید دیکھیں :   ویمن کرکٹ، بھارت نے متنازع رن آئوٹ کرکے انگلینڈ کو شکست دیدی

اگر مان بھی لیا جائے کہ پاکستان کی بیٹنگ لائن بہت شاندار ہے تو اس کے باوجود 158 رنز کا ہدف کسی بھی ٹیم کیلئے کراچی کی کنڈیشنز میں حاصل کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہوتا وہ بھی ایسے میں جب اوس بھی پڑ رہی ہو اور بائولرز کو گیند کو گریپ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو، پاکستان کرکٹ ٹیم کو اس پہلے ون ڈے میچوں کے بعد بہت ساری چیزوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جس میں پہلے نمبر پر بیٹنگ کا مسئلہ ہے، ٹیم کے بیٹنگ کوچ محمد یوسف کو بلے بازوں پر یہ بات واضح کرنی چاہئے کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کریں کس گیند کو کھیلنا اور کسے چھوڑنا ہے، کس پر شاٹ لگانی ہے کس پر دفاعی انداز اختیار کرنا ہے جب تک پاکستانی بیٹرز کو یہ سب باتیں واضح نہیں ہونگی مسائل حل ہونے والے نظر نہیں آتے

نسیم شاہ ، آصف علی یا کسی اور کی جانب سے ہر میچ میں چھکے لگنے کی امیدیں چھوڑ کر ہر کھلاڑی ہر بیٹر اپنی ذمہ داری کا ادراک کرے گا تو ٹیم جیت کے ٹریک پر واپس آئے گی، بائولرز کی کارکردگی بھی انگلینڈ کیخلاف پہلے میچ میں اس پائے کی نہیں تھی جیسی ہونی چاہئے تھی نسیم شاہ وکٹ لینے میں ناکام رہے اور رنز بھی خوب دیئے، انہیں بھی چاہئے کہ صرف دو چھکے کی بہار زیادہ دیر تک انہیں ٹیم میں جگہ نہیں دے سکے گی بہرحال انہیں اپنے اصلی شعبے یعنی بائولنگ میں کچھ زیادہ کرکے دکھانے کی ضرورت ہے، شاہنواز دھانی نے قدرے بہتر بائولنگ کرائی بہرحال ان سے بہتری کی مزید امید کی جاسکتی ہے، عثمان قادر جیسے بائولرز کو انگلش بلے باز ہمیشہ مشکل سے کھیلتے ہیں اور اس کا انہوں نے بھرپور فائدہ بھی اٹھایا ہے

مزید دیکھیں :   سپین کی فٹبال ٹیم کو 4 سال میں پہلی مرتبہ ہوم گرائونڈ پر شکست

امید ہے کہ آئندہ میچوں میں عثمان قادر زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرینگے، حارث رئوف نے رنز کم دیئے مگر وہ جب وکٹیں نکلنے کی ضرورت تھی اس میں ناکام نظر آئے، ایلکس ہیلز جو تین سال کے وقفے کے بعد انگلش ٹیم میں واپس آئے تھے نے کسی بھی بائولرز کے سامنے دبائو کے بغیر شاندار سٹروکس کھیلے، پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور ٹیم مینجمنٹ کو آج دوسرے میچ کیلئے ایشیا کپ سے شروع ہونے والے مسائل اور پہلے میچ میں شکست کی غلطیوں کو سامنے رکھ کر میدان میں اترنا ہوگا، قومی کرکٹ ٹیم اور انگلش کرکٹ ٹیم دونوں نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ سے قبل ہونے والی پریکٹس کو منسوخ کیا اس طرح انہیں پورے ایک دن کا آرام ملا ہے اور دونوں ہی ٹیمیں تازہ دم ہو کر میدان میں اتریں گی کراچی کے شائقین کرکٹ جو ہائوس فل دے رہے ہیں وہ اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ ٹیم ہوم گرائونڈ پر میچ جیت کر ایک جانب سیریز میں کم بیک کرے اور دوسرے جانب انہیں بھی خوشی منانے کا موقع دے۔