بحرانوںکے انسانی ترقی پر اثرات

پاکستان اس وقت بدترین تباہی کی صورت حال سے گزر رہا ہے، مستقبل کے حوالے سے بھی بے یقینی کی کیفیت برقرار ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک نئے آغاز اور ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے خلاف مزاحمت کے قابل بنانے کا موقع بھی میسر آیا ہے، ہمارے لئے اب چیلنج ایک ایسے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہے جس میں انسانی تحفظ کو لاحق خطرے کو کم سے کم کیا جائے اور ان سے نمٹنے کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ ایک ایسے بحران، جس نے ملک کی معاشی حالت کو مزید بگاڑ دیا ہے، اس سے نمٹنے کے علاوہ حالیہ برسوں میں ملک میں انسانی ترقی کو پہنچانے والے نقصانات کا بھی ازالہ کرنا ہوگا۔
انسانی ترقی کے حوالے سے تازہ ترین رپورٹ 2021-22 کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں دنیا بھر کے ممالک میں انسانی ترقی کے عمل پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں، پہلی بار ہر10 میں سے9 ممالک میں انسانی ترقی کی صورتحال تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔ یو این ڈی پی کی رپورٹ میں ایک ایسی غیر آباد ماحول اور ابتر صورتحال کے خدوخال بیان کئے گئے ہیں جو اس وقت پاکستان میں بھی موجود ہے۔ رپورٹ میںکہا گیا کہ ہم پریشان حال دنیا میں رہ رہے ہیں، کورونا کی وباء کی وجہ سے انسانی ترقی تقریباً ہر جگہ تنزلی کا شکار ہوئی، یوکرین تنازعے کے تناظر میں بھی انسانی مشکلات میں اضافہ ہوا، مسلسل دو سال سے گلوبل ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس ( ایچ ڈی آئی) کی قدر کم ہوئی ہے، افراط زر و آمدن میںکمی کا بحران قوموں کو متاثر کر رہا ہے، علاقائی تنازعات جاری ہیں اور ریکارڈ توڑ درجہ حرارت اور طوفان اس شدید دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں جس کا کرہ ارض کو سامنا ہے۔
” غیرآباد زندگیاں، غیریقینی کے لمحات” کے عنوان سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کی غیر یقینی صورتحال ماضی میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وبائی صورت حال سے پہلے ہی دنیا نے جمہوریت کے خاتمے، لوگوں کے عدم تحفظ میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی نظاموں سے بیزاری جیسی صورت حال کو دیکھا ہے۔ رپورٹ میں نئی غیر یقینی صورتحال سے متعلقہ خطرے کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے کہ بہت سے ممالک میں عدم تحفظ، لوگوں کو اکسانا اور تقسیم (پولرائزیشن) واضح ہے، نظام پر اعتماد میں کمی آ رہی ہے، زیادہ معلومات تقسیم کا بیج بو رہی ہیں اور سیاسی انتہاء پسندی بڑھ رہی ہے۔
حالیہ تباہ کن سیلاب کے باعث پاکستان میں معاشی اور سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، چنانچہ عالمی انسانی ترقی کے اشاریہ پر ملک کی درجہ بندی مزید گر سکتی ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان پہلے ہی191ممالک میں سے سات درجے گر کر 161 پر آ گیا ہے اور اب وہ دنیا کے 32 کم انسانی ترقی والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ 2020 ء میں پاکستان کی رینکنگ 189 ممالک میں سے 154 تھی۔ اس حوالے سے سری لنکا 73 ویں، بنگلہ دیش 129اور بھارت 132 ویں نمبر پر ہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس ایک ایسا پیمانہ ہے جو انسانی ترقی کے تین پہلوؤں میں طویل مدتی پیشرفت کا جائزہ لیتا ہے جن میں لمبی اور صحت مند زندگی، تعلیم تک رسائی اور مناسب معیار زندگی شامل ہیں۔ پاکستان کی کم درجہ بندی ہمیں یہ ذہن نشین کراتی ہے کہ ملک کو اس سلسلے میں کتنا طویل سفر طے کرنا ہے؟
رپورٹ میں ممالک کے اندر پولرائزیشن (تقسیم) میں اضافے کے عوامل اور اس کے نتائج کا بھی احاطہ کیا گیا، مختلف طرح کی غیر یقینی کی صورتحال، انسانی عدم تحفظ اور غیر متزلزل ماحول پولرائزیشن کو بڑھاتا ہے، عدم مساوات اور معلومات کے نظام میں خلل ڈالنے والی تبدیلیاں بھی پولرائزیشن کے عمل کو تیز کرتی ہیں، وسیع پیمانے پر عدم مساوات کے ساتھ انتہائی غیر یقینی جیسی صورتحال کا ایک نتیجہ آمرانہ طرزعمل کے حامل رہنماؤں کی حمایت میں اضافہ ہے۔
سیاسی اور سماجی پولرائزیشن یا تقسیم کو چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے،دراصل اس سے اجتماعی طور پر کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، یہاں تک کہ جب مسائل اور حل واضح بھی ہوں تو عملدرآمد میں ناکامی ہوتی ہے۔ رپورٹ میں یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ پولرائزیشن اس صورت میں خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے جب مختلف گروپ حقائق کے برعکس کام کر رہے ہیں، اشرافیہ کی سطح پر پولرائزیشن لوگوں میں منقسم خیالات کا باعث بنتی ہے، جو پھر غیر جمہوری رویوں کو بھی برداشت کرنے لگتے ہیں۔
درحقیقت انسانی ترقی کو بروئے کار لاناغیر یقینی حالات سے نمٹنے کا سب سے یقینی ذریعہ ہے کیونکہ اس سے عملی تبدیلی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لمحات میں لوگ تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، رپورٹ میں اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ عوام ہی کسی ملک کی اصل دولت ہیں، ایسی پالیسیوں پر زور دیا گیا ہے جن کے تحت سرمایہ کاری، بیمہ اور جدت پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ لوگوں کو غیر یقینی حالات سے نمٹنے میں مدد ملے،یقیناً یہ دانشمندانہ مشورہ ہے جس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
(بشکریہ، ڈان، ترجمہ: راشد عباسی)

مزید دیکھیں :   محسن غریب لوگ تو تنکوں کا ڈھیر ہیں