مشرقیات

ہم مست ملنگ قوم ہیں اپنے زیادہ تر کا م خود نہیں کرتے اللہ میاں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ویسے بھی اللہ میاں ہر بگڑی سنوار سکتا ہیں تو پھر ہم ملنگوںکو کاہے کی فکر؟ایک زمانہ تھا جب ویلے بندے کو دیکھ کر لوگ طعنہ مارتے تھے کام کا نہ کاج کا،دشمن اناج کا۔تب ایسے طعنوں کا سخت برا منایا جاتا تھا اور زیادہ تر جوان غیرت میں آکر ستاروں پر کمند ڈالنے چل پڑتے تھے ایسے غیرت مند آج اپنی کامیابی کی داستانیں جوان پودکو سنانے کے لیے تڑپ رہی ہے تاہم ان کی جوان پود کو موبائل سے فرصت ملے تو وہ اپنے آبائو اجداد کے قصے سنے،اب تو مذکورہ بالا قسم کے طعنے بھی بے اثر ہو کر رہ گئے ہیں یا تو سنی ان سنی کر دئیے جاتے ہیں یا سرے سے کسی کے کانوں پر جون تک نہیں رینگتی ،جوں بھی کہاں رینگے جب کانوں میں ائیرفون لگا کر ہمارے جوان کسی ستارہ پر کمند ڈالنے کے چکر میں اس سے راز ونیاز میں مصروف ہوتے ہیں۔ہمارے ایک جاننے والے اس قسم کے جواں امنگوں کو دیکھ کر ہی کہتے ہیں کہ” کم جوان دی موت ہے ”انہیں شارٹ کٹ کی تلاش ہے اور مختلف سوشل میڈیا سائیٹس پر اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کر کے وہ قسمت آزما رہے ہیں۔راتوں رات اسٹار بننے کی دھن ان پر سوار ہے اور اس کے لیے وہ اپنے مستقبل ہی نہیں والدین کی تمنائوں کا بھی خون کر رہے ہیں ۔ مسئلہ صرف جوانوں کا نہیں ان بچوں کا بھی ہے جو سکول جانے کی عمر کے ہیں اور والدین نے انہیں لاڈ میں موبائل ،آئی پوڈ اور نہ جانے کیا کیا ٹیکنالوجی کے نام پر تھما کر ستارہ بنانے کی ٹھانی ہوئی ہے۔یوں دیکھا جائے تو بہت سے والدین خود بھی اپنی اولاد کا مستقبل اور اپنی دولت سے دستبردار ہو چکے ہیں۔ اس حال میں اس قدر ڈوپے ہوئے ہیں ہم کہ مستقبل بارے صاف پیشن گوئی کی جاسکتی ہے کہ تباہ دے لیکن باوجود اس کے بھی ہم سنبھلنے کی کوئی شعوری کوشش نہیں کر رہے ؟تو جناب کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے ہر کام کی طرح اپنی اولاد اور اس کا مستقبل بھی اللہ کے حوالے کر دیا ہے اس حوالے سے کوئی بھی ذمہ داری ہم اپنے سر لینے کو تیار نہیں ہیں۔ہمارے ایک جاننے والے سے کسی نے پوچھا ”بچے جوان ہیں کام کیا کرتے ہیں؟ جواب ملا” کچھ نہیں کرتے بس اللہ کا دیا کھاتے ہیں ”حالانکہ یہی صاحب جب دن کو کام پر نکلتے ہیں تو دن چڑھے تک سوئے اپنے جوان سپوتوں کو ہڈ حرام اور نہ جانے کون کون سے طعنے دیتے ہوئے گھر سے لڑ جھگڑ کر روانہ ہوتے ہیں۔کوئی پوچھے میاں گھر پر اتنا شور شرابا کیوں ہوتا ہے آئے روزِِتو جواب دیتے ہیں بس جی قسمت ہی خراب ہے اللہ نے ایسی نکمی اولاد دی ہے دیکھ لیا یہاں بھی اللہ پر ساری ذمہ داری ڈال کر ہم بری الذمہ ہوگئے۔تو جناب !کچھ اپنا کمال بھی دکھائیں اللہ نے آپ کو عقل سلیم دی ہے کم عقلی کا مظاہرہ آپ خود کر رہے ہیں۔

مزید دیکھیں :   ہندو توا کی عالمی لہر