بیرونی قرضے معافی کی مہم

امریکی صدر جوبائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کی حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے میں مدد کرے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا، رواں سال میں خوراک کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے 2 ارب 90 کروڑ ڈالر کے فنڈ مختص کئے گئے ہیں۔ جوبائیڈن نے وسیع تر معاشی بحرانوں کو روکنے کیلئے کمزور ممالک کے قرضوں میں ریلیف دینے کی تجویز بھی دی۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی سطح پر پہلی بار کھل کر موسمیاتی تبدیلی پر بات کی گئی ہے اس سے پہلے امریکی صدور موسمیاتی تبدیلی پر منعقدہ کانفرنسوں میں شرکت اور بات بات چیت کیلئے تیار نہ تھے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے امریکی سائنسدانوں کا مؤقف مختلف ہے، امریکی سائنسدان گلوبل وارمنگ کی بجائے سمجھتے ہیں کہ برف کے گلیشیئر میں اضافہ ہو رہا ہے ان وجوہات کی بنا پر امریکہ موسمیاتی تبدیلی کی عالمی مہم میں شامل ہونے سے گریزاں رہا ہے، اب اگر امریکہ کی طرف سے موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم مسئلے کو تسلیم کیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کی عالمی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اسی طرح عالمی برادری یہ بھی سمجھتی ہے کہ زہریلی گیس پیدا کرنے والے ممالک میں امریکہ ٹاپ پر ہے، یوں پاکستان ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہا ہے جس کا اظہار سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے دورہ پاکستان کے موقع پر ان الفاظ میں کیا ہے کہ ”بڑے ممالک کا کیا دھرا پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک بھگت رہے ہیں” بہت سے لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان کو دوسرے ممالک کے کئے دھرے کی سزا کیسے مل رہی ہے، اسے ایک مثال کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک آبادی والے علاقے میں فیکٹری قائم ہوتی ہے جس میں زہریلے کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں، اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہئے کہ فیکٹری کے مالکان ان زہریلے کیمیکلز کی نکاسی کیلئے محفوظ بندوبست کریں مگر فیکٹری مالکان ایسا نہیں کرتے ہیں جس کے نتیجے میں زہریلے کیمیکلز فضا میں تحلیل ہو کر انسانی آبادی کا رخ کرتے ہیں وہاں تعفن پھیلاتے ہیں جس سے انسانی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں، بسا اوقات یہ فیکٹری کئی کلو میٹر دور واقع ہوتی ہے لیکن اس کے مہلک اثرات انسانوں پر پڑ رہے ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی صنعتیں بھی فضائی آلودگی پھیلا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند سال تک انرجی کیلئے تیل، گیس اور کوئلے جیسے ذرائع استعمال میں لائے جاتے رہیں گے۔
دنیا کو تشویش اس بات پر نہیں ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان میں تباہی آئی ہے اور پاکستان معاشی لحاظ سے کمزور ہو گیا ہے بلکہ انہیں خوف یہ ہے کہ پاکستان کی طرح کوئی بھی ملک موسمیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات سے متاثر ہو سکتا ہے، جس کے ممکنہ خطرات سے بچنے کیلئے کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کل دیگر ممالک محفوظ رہ سکیں، پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ٹاپ ٹین میں ہوتا ہے، بھارت بھی ان ممالک میں شامل ہے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا نے دانستہ طور پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ سیلاب سے پاکستان میں ہونے والا معاشی نقصان 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے، جس پر بلاشبہ خطیر لاگت آئے گی مگر دنیا کی طرف سے جو امداد فراہم کی جا رہی ہے وہ روزمرہ کے استعمال کی اشیاء پر مبنی ہے حالانکہ پاکستان کو نقد رقوم کی ضرورت ہے کیونکہ آباد کاری اور انفراسٹرکچر کیلئے نقد رقم کی ضرورت درکار ہو گی۔ اقوام متحدہ نے پاکستان کے لئے امداد کی جو اپیل کی ہے اس کا ایک تہائی بھی پاکستان کو نہیں مل سکا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک میں ہیں، خطاب سے پہلے انہوں نے سائیڈ لائن ملاقاتوں میں پاکستان کا بھرپور انداز میں مؤقف پیش کیا ہے تاہم دو امور کی طرف توجہ کی ضرورت ہے ایک نقد رقوم جبکہ دوسرا بیرونی قرضوں میں ریلیف۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے خطاب میں اس طرف اشارہ کیا ہے مگر صرف اشارہ کافی نہیں ہے امریکہ کو اس سے بڑھ کر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی مالیاتی اداروں پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔ اقوام متحدہ، امریکہ اور دیگر اہم ممالک سیلاب کی تباہ کاریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، میڈیا پر چلنے والی رپورٹس کے علاوہ سفیر خود مشاہدہ کر چکے ہیں، سو سیلاب کی تباہ کاریاں بیان کرنے پر فوکس کی بجائے عالمی برادری سے فنڈز کے حصول کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، امید ہے وزیراعظم اور ان کی ٹیم جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دورہ سے واپس لوٹیں گے تو یہ نہیں کہیں گے کہ انہوں نے پاکستان کا مقدمہ احسن انداز میں پیش کیا بلکہ وہ دورہ کے اصل مقاصد یعنی فنڈز کے حصول اور قرضوں کی معافی کے حوالے سے خوشخبری سنائیں گے۔

مزید دیکھیں :   بالاکوٹ شہیدوں کا شہر