یہ بے زبان نسل

ایک سکول کے پرنسپل نے کہا”میں جب اردو میں بات کرتا ہوں مجھے لگتا ہے میں سچ بول رہا ہوں اور میں اس ایک جملے کی بے پناہ گہرائی میں ابھی تک غلطاں ہوں۔ یہ کیسی بات ہے ‘ یہ کیسا خیال ہے میں اور میرے جیسے کتنے ہی لوگ اسی جذبے کا ہاتھ تھامے آج بھی کھڑے ہیں۔ عکسی مفتی نے کہا کہ یہ زبان بڑی طاقتور شئے ہے بات بے بات آج کل ایک دوسرے کو I love you کہتے ہیں اور پتا بھی نہیں چلتا کہ اس سب کا کیا مطلب ہے ۔ کسی کو ایک بار اردو میں کہنے کی کوشش تو کریں کہ مجھے تم سے محبت ہے پسینے چھوٹ جاتے ہیں کیونکہ اپنی بات کا مطلب سمجھ آتا ہے کہ کیا کہا جارہا ہے اور کیوں سمجھ آرہا ہے ‘ پھر میں اپنے ارد گرد گھومتے پھرتے چتکبرے سے بچے دیکھتی ہوں۔ کون ہیں ‘ کیا ہیں ‘ کیا سوچتے ہیں کیا کہتے ہیں ہم اکثر ہی ان کے بارے میں ششدر رہتے ہیں۔ میری چھوٹی بیٹی چند دن پہلے مجھے میٹا ورث (meta verse) کے بارے میں کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ میں کیا سمجھتی کہ میری زبان میں تو ابھی تک میٹا ورث کے لئے کوئی لفظ ہی ایجاد نہیں ہوا۔ اور اس بچی کو یہ معلوم نہیں کہ پھولوں کی کنج کیا ہوتی ہے ۔ غلام گردش کسے کہا جاتا ہے ‘ اور اکثر شاموں میں مجھے اپنے والد کے قدموں کی چاپ کیوں یاد آتی ہے ۔ اس کا گیارہ سالہ دماغ جانتا ہے کہ اس کے نانا اس دنیا میں نہیں میں تو پھر ان کا انتظار اس کی ماں کیوں کرتی ہے وہ سمجھ نہیں سکتی ۔ اسے معلوم ہے کہ اللہ کے پاس جانے والے کبھی واپس نہیں آتے اور وہ کئی سال پہلے سے مجھے بھی تھپکیاں دلاسے دیتی ہے کہ آپ فکر نہ کریں ‘ آپ بھی فوت ہو جائینگی اور پاپا جانی سے مل لیںگی۔ میں اس کو سمجھا نہیں سکتی کیونکہ I-padکے سنگی ایسی باتیں نہیں سمجھتے ۔ انہیں معلوم نہیں کہ جس کے کان باپ کے قدموں کی آہٹ پر لگے ہوتے تھے ان کے لئے وہ آہٹ کبھی نہیں مرتی ۔ وہ جنہیں اپنے بچپن میں زمین کھود کر بونے تلاش کرنے کی عادت تھی ان کے لئے تو میٹاورث ‘ ملٹی ورث اور اومنی ورث (Metaverse ,Multiverse and Omniverse) میں کوئی فرق ہی نہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک ان کے لئے انجان ہے ۔ہم اپنے ہمسائیوں سے دوستی کیا کرتے تھے ‘ شام کو نکل کر اکٹھے کھیلنا ہوتا تھا ‘ سائیکل اکٹھے چلایا کرتے ‘ سکول میں اپنے ہم عصروں سے دوستی ہوتی تھی ‘ اور اب میرے گھر میں بیٹھا بچہ ‘ امریکہ میں بیٹے بچے کے ساتھ Robloxکھیلنے کے لئے رات دیر تک جاگتا ہے ۔ اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ ساتھ والے گھر میں کون رہتا ہے ۔ اسے شام کوگھر سے نکلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اسے لڈو کھیلنا بورنگ لگتا ہے ۔ اس کے لئے ان باتوں میں کوئی رس نہیں ۔ وہ چاہتا ہے کہ سکول سے واپس آنے کے بعد وہ اپنے امریکی دوست کے ساتھ کمپیوٹر پرکھیلے ۔ اس کی زندگی کسی اور ہی طرح سے گزرتی ہے ۔ ان بچوں کو کوئی کیا سمجھائے گا کہ اردو میں بات کرنے سے دل و دماغ پرکیااثر ہوتا ے ۔ بانو قدسیہ کا لکھا ایک جملہ کتنے گہرے معنی رکھتا ہے ۔شفیق الرحمان کے مزاح میں کیسی طرح ہے۔ فیض کی شاعری میں کیسا ربط ہے ‘ کیا استعارے میںاور قرة العین حیدر کی منظر کشی کیسی کمال کی ہے ۔ جنہیں بیلے کی کلیوں کا معلوم ہی نہیں جنہیں بارش میں نہانے سے کپڑے بھیگنے کا ڈر رہتا ہو ‘ اس مخلوق سے بات کرنے کے لئے ہمارے آپ کے پاس زباں بھی اور ہی ہونی چاہئے ۔ انہیں لبھانے کے طریقے بھی اور ہونگے ۔ ان بچوں کو املا کی غلطیوں والا”تعلیم و تربیت” بھلا اپنی جانب کیسے متوجہ کرے گا جو انہیں بیمار مچھرے کی کہانیاں سنانا چاہتا ہے ‘ ان بچوں کو اردو کی طرف راغب کرنے کے لئے کسی اور ہی سہارے کی ضرورت ہے ‘ اور انہیں اردو کی جانب متوجہ بھی کیسے کریں ‘ اس میں سب سے پہلی غلطی ہی ہماری ہے کہ گھروں میں مائیں انہیں بلی نہیں دکھاتیں بلکہ کیٹ(cat)کی جانب اشارہ کرتی ہیں ۔ کیٹ سے کیٹی اور کیٹو بلی سے مانو میں مماثلت سمجھ نہیں آتی اوران کا بچپن زناٹے سے آئی پیڈ کے نئے نئے ماڈل کی اوٹ چھپ جاتا ہے ۔ پاکستان میں رہتے ہوئے ان بچوں کو معلوم نہیں کہ کبھی گھروں کی چھتوں پر چارپائیاں ڈال کر مچھر دانیاں لگائے ‘ پنکھے چلائے دادا دادی اپنے پوتے پوتیوں کو رات سونے سے پہلے کہانیاں بھی سنایا کرتے تھے ۔ نبیوں کی کہانیاں ‘ اچھی باتوں کے قصے جن سے زندگی کے سبق حاصل ہوتے کئی بار سبق آموز کہانیاں جو زندگی گزارنے کا ڈھنگ بتاتی ہیں ۔ اب یہ بچے ہیں ‘ ایونجرز (Avengers) کی فلمیں ہیں۔ وہ معاشرہ جومعاف کر دینے کی خو رکھتا تھا اس میں انتقام نا لینے والوں کے قصے دیکھ کر بچے بڑے ہو رہے ہیں۔ ہتھیاروں سے لیس مافوق الفطرت طاقت کے مالک یہ لوگ جوبدلہ لینے میں ذرا بھی نہیں کتراتے ‘ اپنے ہتھیاروں سے سینکڑوں لوگوں کو موت کے گھات اتارنے میں انہیں کوئی پریشانی درپیش نہیں ہوتی۔ ان لوگوں کی کہانیاں دیکھتے دیکھتے بچوں کے لئے انسانی جان کی کیا اہمیت ہو گی۔ انہیں کیا معلوم ہوگا کہ ہر ایک جان اہم ہے اوایک انسان کا ناحق خون ساری انسانیت کا خون ہے ۔ جنہیں اردو کامطلب ہی معلوم نہیں انہیں اردو سے محبت کیا ہو گی۔ جو درخت کوٹری کہتے ہیں ‘ انہیں ان درختوں سے کیا نسبت ہوگی ہمارے بچپن کے ساتھی درخت جب اسلام آباد میں کاٹ ڈالے گئے تھے تولگتا تھا کہ اپنی جڑہی نکل گئی ہے ‘ اور یہ روبلاکس میں درخت کاٹ کر گھربناتے ہیں۔ اس نسل کے کتنے ہی دکھ ہیں او سب سے بڑا دکھ کوئی پہچان نہ ہونا ہے ۔ پہچان کیسے ہو’ نہ زباں اپنی ہے اور نہ کسی طور کی کوئی ثقافت ۔ الجھے ہوئے ذہن ہیں اور بگڑے ہوئے خیال ‘ نہ کوئی ہیرو ہے ‘ نہ ہی کوئی رہبر خیال ۔ ہم اس نسل کا ہاتھ تھامے اپنی اپنی خاموش قبروں کی جانب گامزن ہیں او ایک روزمستقبل ان کے دامنے میں انڈیل کر خاموش کتبوں کو اوڑھ کر سو رہی ہوں گے لیکن کسی کوکیا دے جائینگے ‘ اس کا حساب کون کرے کیونکہ بے عنوان ثقافت ہے جس کا ہمارے اصل سے کوئی تعلق ہی نہیں ۔ افسوس اس بات کا ہے نہ ہم نے انہیں ثقافت سونپی ‘ نہ زباں ‘ ہم بے نشاں رہے او رہینگے اور یہ بے زباں ہیں اور رہینگے۔

مزید دیکھیں :   غلطیاں اور صحافت کا زرد سورج