کرے کوئی بھرے کوئی

ترقی یافتہ ممالک کی”کرنیوں”کا پھل ترقی پذیر ممالک کو ہی کھانا پڑتا ہے یہ فقط آج کی بات نہیں ہمیشہ ایسا ہی ہوا یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بار پھر زور دے کر کہا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثرہ پاکستان کی بھرپور مدد کریں نیز یہ کہ 80فیصد زہریلی گیسوں کے اخراج سے موسمیاتی تبدیلیوں کے ذمہ دار جی20ممالک ہیں۔ بدترین موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ترقی پذیر ممالک بھگت رہے ہیں امیر ملک کمپنیوں پر ٹیکس لگاکر اس تباہی کا ازالہ کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران سیلاب سے ہونے والی تباہی کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک میں موجود وزیراعظم شہباز شریف نے فرانس، ترکی، ایران اور دیگر ممالک کے سربراہوں سے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ پاکستان میں سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال سے بھی دوست ممالک کے سربراہوں کو آگاہ کیا۔ بتایا جارہا ہے کہ فرانس نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے عالمی کانفرنس کے انعقاد کے لئے میزبانی پر آمادی ظاہر کی ہے۔ ایران اور ترکی کے صدور نے سیلاب متاثرہ پاکستانی بہن بھائیوں کی ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ ہفتہ بھر قبل اپنے دورہ پاکستان کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان میں سیلاب سے30ارب ڈالر کے نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے عالمی برادری سے تعاون کی اپیل کی تھی۔ گزشتہ روز انہوں نے جن خیالات کااظہار کیا وہ درحقیقت ان کے اس موقف کا اعادہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ملکوں میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ دورہ پاکستان کے دوران بھی انہوں نے دوٹوک انداز میں موسمیاتی تبدیلیوں کا ذمہ دار امیر ملکوں کو ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ ان ممالک کا فرض بنتا ہے کہ وہ آگے بڑھکر سیلاب متاثرین کی مدد کریں۔ زہریلی گیس کے اخراج سے پیدا شدہ موسمیاتی صورتحال اور اس سے جنم لینے والے مسائل ہر دو کے حوالے سے اقوام متحدہ کے زیراہتمام عالمی امدادی کانفرنس کا انعقاد بہت ضروری ہے۔ عالمی فورم(یو این او) سے اس سارے معاملے کو دنیا کے سامنے رکھے جانے سے یہ امید بندھے گی کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی کمپنیوں کی لاپروائی کے نتائج کا سامنا کرتے پاکستان سمیت دوسرے ممالک کی مدد کریں گے۔ پاکستان میں سیلاب سے اب تک ہونے والے نقصان کا تخمینہ30ارب ڈالر لگایا جارہا ہے۔ حکومتی حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ نقصان بڑھ بھی سکتا ہے۔ غالبا اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے گزشتہ روز ترقی یافتہ ممالک سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے ذمے قرضے معاف کردیں۔ اصولی طور پر یہ اپیل اس لئے بھی درست اور بروقت ہے کہ خود اقوام متحدہ کے سربراہ اس امر کا اعتراف کررہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی ذمہ داری ترقی یافتہ ممالک پر ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے تحقیقاتی اداروں اور کمپنیوں کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے پیدا شدہ صورتحال پر نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ آپ کے تجربات ہوئے لوگوں کی جان گئی یہ امر ہر کس و ناکس پر دوچند ہے کہ سیلاب سے متاثرہ پاکستانی علاقوں میں متاثرین کی بحالی کے لئے خطیر سرمائے کی ضرورت ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی معیشت تعمیر نو کے اس پروگرام کو اس طور آگے نہیں بڑھاپائے گی جس کی ضرورت ہے۔ اس مرحلہ پر عالمی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کو پاکستان کی مدد کرناہوگی اور یہ مدد صرف مالیاتی طورپر ہی نہیں بلکہ بحالی اور تعمیرنو کے عمل کی دیگر ضرورتوں کے ضمن میں بھی ہونی چاہیے مثلا گزشتہ سے پیوستہ روزعالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھوٹنے اور ان امراض سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے پاس ضروری مطلوبہ سہولتیں نہ ہونے کی نشاندہی کی تھی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام کے لئے عالمی ادارہ صحت ان ترقی یافتہ ممالک کو ضروری ادویات کی فراہمی اور ماہرین کے دورہ پاکستان پر آمادہ کرسکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔ اندریں حالات یہ رائے بجا طور پر درست ہے کہ وزارت خارجہ کو اقوام متحدہ اور ڈبلیو ایچ او سے مسلسل رابطہ رکھتے ہوئے دونوں اداروں سے درخواست کرنی چاہیے کہ وہ عالمی برادری کو پاکستان کی مدد کے لئے آمادہ کریں۔ اسی اثنا میں یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا شدہ صورتحال اور پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیرنو میں حصہ ڈالنے کے لئے رواں سال کے اختتام سے قبل بین الاقوامی مالیاتی کانفرنس کے انعقاد کا اہتمام کیاجارہا ہے۔ اقوام متحدہ، ڈبلیو ایچ او اور دیگر اداروں کے ساتھ فرانس اور برطانیہ کی حکومتیں اس امر کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہیں کہ کانفرنس میں متعلقہ بین الاقوامی مالیاتی شراکت داروں کی سوفیصد شرکت ہو فرانسیسی صدر نے کانفرنس کی میزبانی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ خوش آئند امر ہے کہ بڑی طاقتوں کو اس بات کا احساس ہورہا ہے کہ صورتحال بہت گھمبیر ہے اور مستقبل کے حوالے سے منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عالمی برادری اقوام متحدہ اور ڈبلیو ایچ او کی اپیلوں پر انسانی ہمدردی کے تحت پاکستان کی مدد کے لئے آگے بڑھ کر کردار ادا کرے گی تاکہ پاکستان ان مشکل حالات سے نبردآزما ہوسکے اور ساڑھے تین سے چار کروڑ سیلاب متاثرین کی بحالی کا عمل باوقار انداز میں مکمل ہوپائے۔ یہاں یہ امر مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ این ڈی ایم اے ایک ناقابل اعتبار ادارے کی شہرت رکھتا مناسب یہی ہوگا کہ اسے تحلیل کرکے نیا ادارہ بنایا جائے اس میں ماہرین کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت کے حوالے سے نیک نام اداروں اور شخصیات کو شامل کیا جائے حرف آخر یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے ہفتہ24ستمبر سے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے ایک تہائی ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے لگ بھگ چار سوا چار کروڑ لوگ دربدر ہیں اور انوکھا لاڈلہ کھیلن کو مانگے چاند

مزید دیکھیں :   یکساںا نتخابی مواقع دینے کا احسن عندیہ