شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھنے کے نتائج

پختون معاشرے میں ایک کہانی بہت مشہور ہے یعنی گائے کی دم پکڑ کر واپسی کی راہ اختیار کرنا ‘ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک خاتون کا اپنے شوہر کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور وہ ناراض ہوکر میکے جا پہنچی ‘ اس کا خیال تھا کہ اس کا سسرال والے اسے منانے آجائیں گے مگر سسرالیوں کا خیال تھا ‘ خود ہی ناراض ہو کر گئی ہے اس لئے وہ منانے کیوں جائیں ‘ جب صورتحال طول پکڑ گئی اور اسے منانے کوئی نہیں آیا تو اس نے ایک ترکیب سوچی اور اس کے گھر کے جانور جو روزانہ چرنے کے لئے صبح اس خاتون کے ماں باپ کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے شام کے قریب واپس ہوتے تھے ‘ خاتون نے ایک روز گھر کے دروازے میں کھڑے ہو کر واپس ہوتے ہوئے جانوروں کا انتظار کیا اور گائے کی دم پکڑ کر اس کے پیچھے ہو لی یہ کہتے ہوئے کہ میں نہیں جائوں گی ‘ میں نہیں جائوں گی ‘ یوں جب وہ سسرال پہنچی اور ساس ‘ نندوں نے پوچھا کہ تم تو نہیں آرہی تھی تو پھر کیا ہوا ‘ خاتون کہا میں تو اب بھی نہیں آرہی تھی لیکن گائے نے مجبور کر دیا اس روایتی کہانی کے تناظر میں چیف جسٹس صاحب کے اس مشورے کے بعد کہ تحریک انصاف کو پارلیمنٹ میں واپس آکر ملکی معاملات میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ‘ تحریک ہی کے ایک رہنما فیصل جاوید کے تازہ بیان کودیکھتے ہیں کہ اسمبلی میں واپس جانے کا مشورہ مناسب ہے تو اس خاتون کی حکمت عملی سامنے آجاتی ہے ‘ اب یہ تو ہم نہیں جانتے کہ چیف جسٹس صاحب نے جو مشورہ دیا ہے وہ درست ہے یا نہیں یعنی ا ن کے منصب کے تقاضوں کے مطابق ہے بھی یا نہیں ‘ تاہم وہ جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ یہ مت دیکھو کون کہتا ہے ‘ یہ دیکھو کیا کہتا ہے ‘ اس مشورے کو درست قرار دینے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہئے ‘ اور اگر دیکھا جائے تو گزشتہ دنوں تحریک ہی کے ایک ممبر اسمبلی نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اپنا”مبینہ”استعفیٰ واپس کروا کر اپنی اسمبلی رکنیت بچالی تھی توشاید انہوں نے درست فیصلہ کیا تھا ‘ اگرچہ اس کے بعد یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ جن 13 اراکین کو سپیکر قومی اسمبلی نے ڈی سیٹ کروانے کی الیکشن کمیشن سے درخواست کی تھی ‘ ایک شخص کی درخواست پر فیصلہ آنے کے بعد وہ تمام کے تمام اراکین بحال ہوگئے ہیں ‘ مگر بعد میں عدالت کی جانب سے وضاحت آنے کے بعد یہ خبریں دم توڑ گئی تھیں اور بقیہ کے اراکین کی امیدوں پر اوس پڑ گئی تھی ‘ تاہم اس دوران میں ایک طرف ان تمام خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات میں تحریک کے سربراہ کے ا کیلے ہی بطور امیدوار حصہ لینے کی خبریں گردش کرنے لگیں(جس کی وضاحت اب بھی عدالت کو ضرور کرنا چاہئے کہ ایک حاضر ممبر اسمبلی کسی ایک یا کئی نشستوں پر ضمنی انتخابات میں کیسے کس قانون اور آئین کی کس شق کے تحت حصہ لے سکتا ہے ) مگر سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے کسی بھی وقت ایک اور قسط آنے کے خدشات کے پیش نظر ‘مزید کتنے اراکین اپنی رکنیت سے ہاتھ دھو سکتے ہیں ‘ تحریک کی صفوں میں تشویش کا ابھرنا فطری امر ہے ‘ کیونکہ ایک جانب عدالت نے سپیکر کے اقدام کودرست قرار دیا ہے تو دوسری جانب تحریک کے بعض رہنمائوں کے یہ بیانات بھی سامنے آئے کہ ہم استعفیٰ دے چکے ہیں اس لئے واپس اسمبلی میں نہیں جائیں گے ‘ تاہم چیف جسٹس صاحب نے بالکل درست کہا کہ اتنے ضمنی انتخابات پر کتنی رقم خرچ ہو گی اس کا احساس کرنا چاہئے ‘ جبکہ سپیکر قومی اسمبلی کے اقدام کو درست قرار دیئے جانے کے بعد مزید کتنے افراد کی”لاٹری”نکل سکتی ہے یعنی ڈی سیٹ ہو سکتے ہیں ‘ یعنی خوف تحریک کے ان اراکین اسمبلی کو دامنگیر ہے جنہوں نے شوق گلبوسی میں کانٹوں پرزباں رکھتے ہوئے بہ امر مجبوری اپنی استعفوں پر دستخط تو کر دیئے تھے مگر اب ان کی تصدیق یا تردید کا حوصلہ نہیں رکھتے ‘ ادھر سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں ملکی معیشت جس زبوں حالی سے دو چار ہے اس کے پیش نظر چیف جسٹس کا مشورہ (آئینی تقاضوں کے مطابق ہے یا نہیں) صائب ضرور ہے کیونکہ ایک تو ملکی معیشت پہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتی ‘ دوسرا یہ کہ جب تک سیلاب زدگان کی بحالی نہیں ہو جاتی ‘ انتخابات ممکن ہی نہیں ہیں اور غالباً یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کی صفوں میں یہ تجاویز بھی گردش کر رہی ہیں کہ اس صورتحال میں اسمبلی کی مدت میں آئینی تقاضوں کے مطابق اضافہ کرکے سیلاب زدگان کی بحالی پر توجہ دی جائے ۔اگرایسا ہوتا ہے تو پھر تحریک انصاف کہاں جئے گی یعنی بقول شاعر
توکہاں جائے گی کچھ ا پنا ٹھکانہ کر لے
ہم توکل خواب عدم میں ‘ شب ہجراں ہونگے
اگرچہ تحریک کے رہنمائوں کا غصہ ان دنوں سر چڑھ کر بول رہا ہے اور واقفان حال اس کی وجہ ان کے مطالبات کا مسلسل رد بتاتے ہیں جس کے بعد تحریک کے سربراہ ایکس وائی زیڈ کی گردان کرتے ہوئے تڑیاں لگانے اور اپنے اراکین کو”نامعلوم” فون کالوں کا جواب اسی لہجے میں دینے کی تلقین کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ پارٹی کے اندر جس مبینہ ”توڑ پھوڑ اور جھگڑوں”کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں ان کا بھی یہی تقاضا ہے کہ انگریز دور کی میراثن کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے”صلح” کا ڈول ڈال دیا جائے کیونکہ صدر عارف علوی بھی اسی قسم کے مشورے دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ ”قومی ڈائیلاگ” کے لئے سہولت کاری پر تیار ہیں۔ اس لئے اب جبکہ اسمبلی میں واپسی کی سوچ ابھر رہی ہے تو یا تو اس”مشاوراتی گائے” کی دم پکڑ کر واپسی کا راستہ ڈھونڈا جائے یا پھر ”آر یا پار” کرتے ہوئے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کو بھی توڑ دیا جائے ‘ تاکہ ضمنی نہیں پورے ملک میں انتخابات کی راہ ہموار ہو جائے۔
تم کو انکار کی خومارگئی ہے واحد
ہر بھنور سے نہ الجھتے تو کنارے ہوتے

مزید دیکھیں :   حاجی غلام علی کونسلر تا گورنر