ہندو توا کی عالمی لہر

بھارت میں ہند وبالادستی اور ہندومت کے غلبے کی دیرینہ خواہش اب تکمیل کے مراحل طے کر چکی ہے اور اب ہندو توا کا یہ جن دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہندوئوں کو بھی پوری طرح اپنی گرفت میں لے چکا ہے ۔بھارت کی حکومت اور ریاست نے بیرونی دنیا میں بسنے والے ہندئووں کو بھی آر ایس ایس کا ہمنوا بنانے کا عمل تیز کیا ہے ۔اس کا ثبوت برطانیہ کے شہر لیسٹر میں ہونے والے ہندو مسلم تصادم سے ہوتا ہے ۔اس تصادم کا آغاز ایشیا کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں بھارتی ٹیم کی شکست سے ہوا۔اس شکست پر لیسٹر کے ہندوئوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا اور وہ مسلمانوں کی دکانوں کے آگے ”جے شری رام” کے نعرے لگاتے رہے۔بعد میں مسلمانوں کی طرف سے بھی ردعمل سامنے آیااور یوں اس شہر میں دونوں آبادیوں میں تصادم کے کچھ واقعات رونما ہوئے ۔جس میں برطانوی پولیس کے کئی اہلکار بھی زخمی ہوئے ۔برطانوی حکومت نے اس تصادم کو بڑھنے سے روک دیا اور دونوں کمونٹیز کے درمیان مفاہمت اور صلح کی کوششیں شروع کیں ۔ہندوتوا کا زہر ہند وآبادیوں کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور اب یہ بیرونی دنیا میں مقیم آبادیوں تک بھی سرایت کر گیا ہے ۔اس بات کا احساس اب عالمی سطح پر بھی ہونے لگا ہے ۔بھارت میں ہندو توا کی تاریخ پس منظر اور اس لہر کے بھارت سے باہر برآمد ہونے کے حوالے سے برطانیہ کے معروف اخبار دی گارڈین میں ”ہند و نیشنل ازم کیا ہے اور اس کا لیسٹرمیں پیدا ہونے والی صورت حال سے کیا تعلق ہے؟”کے عنوان سے ایک چونکا دینے والا مضمون شائع ہوا ہے ۔یہ مضمون ہناہ ایلس پیٹرسن نامی خاتون محقق نے لکھا ہے۔مضمون نگار کے مطابق ہندوتوا کا نظریہ بھارت میں پوری طرح غالب ہے اور یہ دائیں باز وکی شدت پسندی کے ساتھ جُڑ چکا ہے۔ہندو نیشنل ازم ایک سیاسی نظریہ ہے جس کا آغاز انیسویں صدی سے ہوا ۔اس کا مرکزی تصور یہ ہے کہ بھارت کی قومی شناخت اور ہندو مذہب لازم وملزوم ہیں۔اس نظریے کا حقیقی ظہور بیسویں صدی میں ہوا ۔1920میں ڈاما ڈور سروارکر نے پہلی بار ہندوتوا کی اصطلاح استعمال کی جس کا مطلب ہندو وئیت تھا۔یہ ہندو ازم کی بالادستی سے عبارت ہے اور اب یہ فاشزم اور دائیں بازو کی شدت پسندی اور اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت سے جڑ گیا ہے۔مضمون نگار کے مطابق آر ایس ایس تین بار پابندی کا سامنا کر چکی ہے ۔ان میں ایک بار تو اس وقت پابندی کا شکار ہوئی جب1948میں گاندھی کو قتل کیا گیا۔اب بھارت میں برسر اقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بھی یہی نظریہ اپنارہی ہے۔اس نظریہ کو اصل تقویت اس وقت ملی جب 2014میں نریندر مودی برسر اقتدار آئے ۔مودی کی حمایت کو سوشل میڈیا کے ذریعے مغربی ملکوں تک وسعت دی جانے لگی۔ان میں امریکہ ،برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک شامل تھے۔اوورسیز بھارتیوں کو گوکہ اپنے ملک میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں اس کے باوجود وہ اپنے کمونٹی سے وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔اس مہم کا نتیجہ امریکہ میں” ہاوڈی مودی”کے عنوان سے امریکی ریاست ٹیکساس میں منعقدہ تقریب سے ہواجس میں امریکی صدر ڈونلڈ اور پچاس ہزار بھارتی شہریوں نے شرکت کی تھی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی عالمگیر حمایت سے ہندوتوا گروپس اور خیراتی اداروں کو بڑھاو املا۔اسی طرح مغربی ملکوں کی جامعات میں ان لوگوں کو ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا گیا جو برصغیر میں اسلامی تاریخ پر تحقیقی کام کر رہے تھے۔2021میں امریکہ میں ہندوتوا پر ایک کانفرنس منعقد ہوئی اس کانفرنس کے منتظمین کو جن میں خواتین بھی شامل تھیں اغوا قتل اور آبروریزی کی دھمکیاں انہی گروپوں کی طرف سے دی گئیں۔اس سال اگست میں انڈیا ڈے پر ہونے والی پریڈ میں امریکہ میں مقیم بزنس کمونٹی بلڈوزر اور مودی اور یوگی ادتیہ ناتھ کے ماسک کے ساتھ شریک ہوئے ۔بلڈوزر اب بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اقدامات کی علامت بن چکا ہے ۔جو سماجی کارکن بھارت میں انتہا پسندی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے بھارتی حکومت ان مسلمانوں کا گھر یا دکان بلڈوزر کے ذریعے گرارہی ہے ۔اس حوالے سے یوگی ادتیہ ناتھ کو” بلڈوزر بابا ”بھی کہا جاتا ہے۔ایسے تمام شرکا ء کو شدید نفرت اور ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ یہ مودی حکومت کی مسلمان دشمنی کے خلاف انوکھے انداز میں احتجاج کر رہے تھے ۔ہند وتوا کی یہ لہر امریکہ سے برطانیہ تک پھیلتی چلی گئی اور برطانیہ میں 2019نومبر میں واٹس ایپ کے ذریعے ایسے پیغامات پھیلائے گئے جو مسلمانوں سے نفرت پر مبنی تھے ۔اس طرح ایک مغربی خاتون کے مضمون میں ہندوتوا سوچ کے بھارت کی حدود سے باہر پھیلنے کا بھرپور احاطہ کیا گیا ۔گویا کہ بین الاقوامی سطح پر ہندوئوں میں مودی کی مقبولیت اب مسلمانوں کے خلاف نفرت میں بدلتی جا رہی ہے ۔اس سے مغربی معاشرے کو بھی خطرے کا احساس ہونے لگاہے ۔

مزید دیکھیں :   بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے کیا فیصلے درکار؟