انسداد منشیات کے ساتھ انسداد فحاشی کی بھی ضرورت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبہ بھر میں منشیات فروشوں کیخلاف بھر پور کریک ڈائون کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ سماج دُشمن عناصر اپنے ذاتی مفادات کے لئے نوجوان نسل کو نشے کی لت میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں جس کی فوری اور دیر پا بنیادوں پر بیخ کنی ناگزیر ہے ۔ اس مقصد کے لئے محکمہ ایکسائز ، پولیس ، انٹی نارکوٹکس فورس اور سول انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو مربوط اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے ۔ وزیراعلیٰ نے منشیات کا کاروبارکرنے والوں کے خلاف قوانین میں موجود سزائوں کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر
زور دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس سلسلے میں قانونی سفارشات اگلے کابینہ اجلاس میں منظوری کے لئے پیش کی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی میں تمام محکموں کو اپنے حصے کی ذمہ داری ایمانداری کے ساتھ پوری کرنا ہو گی ۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ اُن کے دفتر میں پہنچنی چاہئے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے ہر صورت منشیات فروشوں اور اس کے ڈیلرز کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے ، اس مقصد کے لئے نارکوٹکس کنٹرول ونگ کو کارکردگی دکھانا ہو گی ۔ ایک ماہ کے بعد دوبارہ صورتحال کا جائزہ لیں گے جس میں واضح پیشرفت یقینی ہونی چاہئے ۔ محمود خان نے کہاکہ معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرنے کے لئے ہم سب ذمہ دار اور جوابدہ ہیں ۔ صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی دیگر مصروفیات اپنی جگہ لیکن انہوں نے اس سنگین مسئلے کا کافی تاخیر سے نوٹس لیا ہے البتہ کچھ عرصے سے منشیات کے عادی افراد کے علاج وبحالی کا کام بہرحال احسن طریقے سے جاری ہے تاہم یہ پشاور تک محدودہے جس کو پورے صوبے تک وسعت دینے کی ضرورت ہے ۔ اس امر سے پوری طرح اتفاق میںکوئی دوسری بات نہیں کہ نشے کی لعنت اور منشیات فروش طاقتور مافیا کا خاتمہ ضروری ہے البتہ یہ کام اتنا آسان نہیں بلاشبہ ریاست و حکومت کی طاقت اور قوت نافذہ کا مقابلہ نہیں ہو سکتا لیکن نظام میں اسقام اور خاص طور پر ملی بھگت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صفوں میں کسی بھی منفعت یا وجہ سے ان عناصر کی مضبوط لابی کے باعث ان کا صفایا کرنے میں ہر دور میں مشکل پیش آتی رہی ہے اور اب بھی اس کے اعادے کا خطرہ ہے اس ضمن میں دبائو اور مصلحتوں کا بھی آڑے آنا بعید نہیں یہاں تک کہ ممکن ہے کہ اعلیٰ حکام کے اپنوں میں سے بھی کوئی نشے کا عادی ہو اور ان کے منشیات فروشوں سے تعلقات ہوں ان تمام مشکلات اور عوامل کے باوجود وزیر اعلیٰ نے جوواضح ہدایات جاری کی ہیں اور جس طرح وہ خود اس عمل کی نگرانی کا عندیہ دیا ہے توقع کی جانی چاہئے کہ قانون سازی سے لے کر اس کے نفاذ تک کے عمل میں اسے پوری طرح سے یقینی بنایا جائے گااور صوبائی دارالحکومت کو پہلے مرحلے میں مکمل طور پرنشے کے عادی افراد اور منشیات کے اڈوں سے پاک کیا جائے گا منشیات فروشی اور منشیات کی سپلائی میں شہر کے مختلف اور خاص طور پر پوش علاقوں میں واقع قحبہ خانے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اس لئے اس مہم میں ان کو بھی شامل کرکے اس لعنت کے خاتمے کی سعی کرکے ثواب دارین حاصل کی جائے ۔
یہ وقت قربانی کا ہے مراعات لینے کا نہیں
وفاقی کابینہ نے مسلح افواج کے تھری اور فور سٹار افسران کو ریٹائرمنٹ پر 6 ہزار سی سی تک کی ڈیوٹی فری بلٹ پروف گاڑیاں درآمد کرنے کی پالیسی کی منظوری دے دی ہے تاہم اس کی حتمی منظوری وزیر اعظم کی تائید سے مشروط ہوگی۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے کیا گیا ہے جس کے پاس کسی بھی چیز پر ڈیوٹی اور ٹیکس معاف کرنے کا اختیار ہے۔وفاقی کابینہ کے اس فیصلے پرافسوس کا اظہار ہی کیاجا سکتا ہے قبل ازیں ارکان پارلیمنٹ کی گاڑیوں کو ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیاتھا اور اس مشکل وقت میں جب ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے معیشت تباہی کا شکار ہے اراکین اسمبلی کو نوازنے اور ریٹائرڈ فوجیوں کو اس طرح کے مراعات سے نوازنا کابینہ کے فیصلوں اور اس کے کردار و عمل پر سوالیہ نشان ہے جس کی حتمی منظوری سے وزیر اعظم کو انکار کرکے احسن روایت قائم کرنی چاہئے ۔ اعلیٰ عہدوں سے ریٹائر ہونے والے جرنیلوں کو پرتعیش گاڑی ٹیکس ادا کرکے لینی چاہئے جبکہ اراکین پارلیمان اتنی رعایت کے مستحق نہیں کہ وہ دیگر مراعات کے ساتھ ساتھ ٹال ٹیکس بھی ادا نہ کر سکیں نہ صرف ان کو بلکہ ججوںاور فوجی گاڑیوں سے بھی ٹال ٹیکس کی وصولی ہونی چاہئے فوجیوں کی صرف وہ گاڑیاں ہی مستثنیٰ ہوں جو آن ڈیوٹی ہوں وقت اور حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ نہ صرف مراعات اور سہولیات کی قربانی دی جائے بلکہ کچھ ایثار وقربانی کا بھی مظاہرہ اب اس ملک و قوم کا قرض بن گیا ہے صرف محولہ طبقات ہی پر نہیں ہر پاکستانی پرلازم ہے کہ اگر وہ ٹیکس دے سکتا ہے تو ٹیکس ضرور دے اور قومی خزانے کو کسی طرح سے کوئی بچت اور آمدنی کاکوئی ذریعہ بن سکتا ہے تو دریغ نہ کیا جائے ۔ملک اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ امر نہیں اس کے باوجود بھی ہر طبقے کی ہوس گیری کے مظاہر کم نہیںہوتے بلکہ بڑھتے جارہے ہیں کم از کم اس ملک و قوم کا بھی سوچا جائے اور خود غرضانہ اقدامات سے اب ہاتھ کھینچ لیا جائے ۔

مزید دیکھیں :   نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے