وزیر اعظم کا مدلل خطاب

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کیا جلاس سے وزیر اعظم شہباز شریف کا خطاب جامع اور مدلل تھا جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر اور سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال کا خاص طور پر ذکر کیا وزیراعظم نے اس امر کودہرایا کہ گلوبل وارمنگ میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہونے کے باوجود پاکستان اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہوا ہے ۔لیکن عالمی برادری اس ضمن میں تساہل کا شکار ہے ۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث نقصانات کا ازالہ کرنے میں ان ممالک کو بالخصوص اور عالمی برادری کو بالعموم اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جس کا تقاضا ہے کہ پاکستان کی بھر پور مدد کی جائے اور ان ممالک کوان نقصانات کے ازالے کے لئے پوری طرح کردار ادا کرنا چاہئے پاکستان کو جس المیے کا سامنا ہے اس کے اسباب کہیں اور ہیں پاکستان جو دنیا کی اڑھائی فیصد آبادی کا ملک ہے کاربن کے اخراج میںاس کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس کے مقابلے میں ترقی یافتہ ممالک کی صرف سو کمپنیاں عالمی کاربن کے اخراج کی اکہتر فیصد کی ذمہ دار ہیں۔حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان آکر صورتحال کا بچشم خود ملاحظہ فرما گئے ہیں بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر دوست ممالک متاثرین کی مدد میںاپنا حصہ ڈال رہے ہیں مگرجس بڑے پیمانے پرتباہی ہوئی ہے اور ملک کے ایک بڑے حصے کی آبادی سے لیکر زراعت و معیشت سب کچھ سیلاب کی زد میں آیا ہے اس مناسبت سے جتنا بھی تعاون ہو کم ہونا فطری امر ہے سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث ملکی تاریخ کے بدترین انسانی المیے سامنے آرہے ہیں اورمزید سامنے آنے اور آئندہ بھی اس کے منفی اثرات باقی رہنے کا پورا امکان ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ساڑھے تین کروڑ کے لگ بھگ آبادی براہ راست متاثر ہوئی ہے۔امر واقع یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان میں قدرتی آفات کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے دس ارب ڈالر سالانہ کے جن عطیات کا اعلان کیا تھا وہ وعدہ دس برس گزرنے کے باوجود ہنوز ایفا کا متقاضی ہے پاکستان کو ماحولیاتی بگاڑ کی جو قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے وہ بہت زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ ناقابل برداشت بھی ہے مگرعالمی برادری کو اس کا بالکل ادراک نہیں وزیر اعظم نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بجا طور پر یہ موقف ا ختیار کیا کہ پاکستان ان ماحولیاتی اثرات سے اکیلے نمٹنے کی پوزیشن میں نہیں جس کا تقاضا اور ضرورت ہے کہ عالمی سطح پر اس معاملے پر سنجیدہ اور ذمہ دارانہ اقدامات میں تاخیر نہ کی جائے ۔ متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرنے اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی عالمی نظام وضع کیا جانا چاہئے اور وہ وسائل کو مجتمع کرکے اس سے نمٹنے کی سعی کی جائے وگرنہ اس صورتحال سے دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے بغیر رہ نہیں سکیں گے ۔وزیراعظم نے جس امر پر توجہ دلائی ہے عالمی برادری کو اس پر غور کرنا چاہئے قبل اس کے کہ وہ خود بھی ان حالات کا شکار ہوجائیں پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال میں خصوصی امداد کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کے قرضوں پربھی نظر ثانی اور عالمی برادری کو پاکستان کی معاونت کرنے اور اپنا خاطر خواہ حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان میں سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال سے عالمی برادری کو آگاہ کرنے کی ذمہ داری وزیر اعظم شہباز شریف نے احسن طور پر ادا کیا ہے عالمی رہنمائوں اور سربراہان نے مدد کی یقین دہانیاں بھی کرائی ہے لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ تریاق از عراق آمدہ شود مار گریدہ مردہ شود جب تک عالمی برادری سے امداد نہیں آتی اور پوری طرح متاثرین سیلاب کو شفاف اور ایمانداری کے ساتھ امداد پہنچانے کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی اس وقت تک متاثرین کی حقیقی مدد نہیں ہو سکتی جس بڑے پیمانے پرتباہی ہوئی ہے اور ملک کے ایک بڑے حصے کی آبادی سے لیکر زراعت و معیشت سب کچھ سیلاب کی زد میں آیا ہے اس مناسبت سے جتنا بھی تعاون ہووہ پوری نہیں ہو سکے گی بلکہ مزید امداد کی ضرورت محسوس ہو گی تلخ حقیقت یہ ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث ملکی تاریخ کے بدترین انسانی المیے سامنے آرہے ہیں اورمزید سامنے آنے اور آئندہ بھی اس کے منفی اثرات باقی رہنے کا پورا امکان ہے متاثرہ علاقوں میں شہری آبادی ‘ دیہی آبادی کو درپیش مشکلات خاص طور پر صحت و خوراک اور رہائش جیسے بنیادی ضروریات اور مسائل کوئی پوشیدہ امر نہیں بدقسمتی سے بجائے اس کے کہ ان میں کمی آئے حالات قابو سے باہر ہوتے جارہے ہیں ان چیلنجز سے پاکستان اپنے وسائل سے نمٹ نہیں سکتا مشکل امر یہ ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں اس پرعملدرآمدکی ر فتار سست ہے جس بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اس کے جواب میں عالمی برادری کا ردعمل اور امداد کی صورت حال اب تک آٹے میں نمک کے برابر کے مصداق ہے ماحولیاتی تبدیلیوں میں پاکستان کے مقابلے میں دیگر صنعتی و معاشی قوتوں کا عمل دخل بہت زیادہ ہے ایسے میں اصولی طور پر عالمی برادری کو اور خاص طور پر محولہ ممالک کو اپنے اعمال کے نتائج کی ذمہ داری اٹھانے میں لیت و لعل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔

مزید دیکھیں :   نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے