درست حکمت عملی کا فقدان

کورونا پر قابو پانے کیلئے اقدامات میں مشکل یہ پیش آرہی ہے کہ حکومت عوام کے مسائل اور مشکلات اور صورتحال سے نمٹنے کی ضروریات کو سمجھ نہیں پارہی ہے جبکہ عوام اور تاجر برادری حکومت کی سننے کو تیار ہی نہیں۔ صوبائی حکومت نے اچانک دکانیں چار بجے بند کرنے کا جو فیصلہ کیا اور جنرل سٹورز،دودھ دہی کی دکانوں سمیت یہاں تک کہ تندور بھی چار بجے بند کر کے عوام کو جس مشکل میں ڈال دیا حکومت کو اس بلا سوچے سمجھے فیصلے کا جزوی اور سطحی احساس ہونے پر دودھ دہی کی دکانیں رات آٹھ بجے تک کھولنے کی اجازت دیدی لیکن یہ کافی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیںکہ وزیراعلیٰ کا صوبائی وزیرزراعت وحیوانات کے مطالبے پر فیصلہ کرتے ہوئے اس امر پر غور کرنے کی ضرورت تھی کہ وہ کونسی دکانیں اور کاروبار ہیں جن سے عوام کی بنیادی ضروریات وابستہ ہیں، اگر وزیراعلیٰ کے فیصلے کا کاروباری طبقے کے نقصان کے علاوہ جائزہ لیا جائے تو دودھ اور دہی لوگ دن گیارہ بجے بھی خرید کر رکھ سکتے ہیں۔ پھر چاربجے کے بعد ان کو مزید چار گھنٹے دینے کی ضرورت کیا تھی، بہرحال ہمارا مقصد وزیراعلیٰ کے فیصلے کی مخالفت نہیں بلکہ حکومت کو اس امر کا احساس دلانا ہے کہ تندور کھولنے کی اجازت دینا اس سے زیادہ ضروری چیز ہے۔ روزے کی حالت میں جن لوگوں کو دو سے چار بجے کے درمیان لائن لگا کر روٹی خریدنے اور افطار کے وقت سوکھی روٹی حلق سے اُتارنے کی مشکل سے دوچار ہونا پڑا ہوگا اس کا انہیں کو علم ہوگا۔ صوبائی حکومت کو تندور افطار اورسحری کے وقت کھلے رکھنے کی اجازت دینی چاہئے تاکہ جن لوگوں کے گھروں میں روٹی پکانے کا بندوبست نہیں یا پھر جو لوگ اپنے گھروں سے دور مقیم ہیں ان کو سہولت ملے۔ مشاہدے کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو عام ضرورت کی اشیاء کی دکانیں یعنی جنرل سٹور، گوشت، دودھ دہی، تندور سبزی وغیرہ کی دکانوں کیلئے محدود وقت مقرر کرنا نہایت نقصان دہ ہے۔ دکانیں بند ہونے کے خوف سے دیر سے اُٹھنے والے شہری ظہر کی نماز کیلئے اُٹھ کر جس طرح بازاروں کو لپکتے ہیں اس سے اس قدر رش بڑھ جاتا ہے اور دکاندار کو ایک ایک گاہک کو نمٹانے میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے جسمانی دوری رکھنے اور فاصلہ رکھنے کے اصول کی پابندی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، لوگ قطاروں میں کھڑے ہونے کی بجائے ایک دوسرے کو دھکے دے کر آگے بڑھ جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اژدھام بن جاتا ہے جو کورونا کے پھیلائو کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ حکام اگر مختلف بازاروں کا سروے کر ے اور لوگوں کی سنیں تو انہیں خود اپنے فیصلے کی غلطی کا احساس ہوگا۔ جس مقصد کیلئے سارے جتن ہورہے ہیں اگر وہ مقصد ہی فوت ہو جائے اور عوام بھی ناخوش اور مشکلات کا شکار ہو جائیں اس فیصلے پر نظرثانی ہی بہتر ہوگی۔ اس ساری صورتحال میں جنرل سٹورز، دودھ دہی اور تندور کی دکانوں کو میڈیکل سٹورز کی طرح کھلے رکھنے کی اجازت دینا ناگزیر ہے،کورونا کی عالمگیر اور ناقابل علاج وباء سے بچاؤ وتحفظ کی واحد صورت فی الوقت احتیاط ہی مؤثر حکمت عملی ہے۔ ہمارے ہاں اس پر عملدرآمد کی جو صورتحال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، عوام کا عدم تعاون اور قصوروار ہونا اپنی جگہ صوبائی حکومت کے بعض فیصلے بھی انتظامیہ کیلئے ناقابل عمل ہیں جس سے لاک ڈائون میں توسیع لاحاصل ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومتی دلچسپی یا ناکامی کا یہ عالم ہے کہ جسمانی فاصلے اور بھیڑ نہ بنانے کی ہدایت پر عملدرآمد تو درکنار دن بدن سڑکوں پر ہجوم بڑھ رہا ہے، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے ہم اس وباء کے پھیلائو سے کیونکر چھٹکارا پاسکیں گے۔ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کی ذمہ داری پوری کرے، حکمران اورسرکاری عمال، بینکوں کے باہر،امدا لیتے ہوئے یہاں تک کہ سرکاری اور حکومتی اجلاسوں میں مناسب فاصلے اور ماسک پہننے کی پابندی کا عملی مظاہرہ نہیں کریں گے تو عوام کو کیسے ترغیب ملے گی۔ ہمیں چاہئے کہ نہ صرف خود احتیاطی تدابیر اختیار کریں بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو تدابیراختیار کرنے پر راغب کریں۔ اسی طرح حکومت کو بھی لاک ڈائون اور جسمانی فاصلہ رکھنے کی پابندی کرانے میں ناکامیوں کی وجوہات کا جائزہ لینے، حقیقت پسندانہ اور قابل عمل طرزعمل اختیار کرنے کے بعد اس پر عملدرآمد میں قانون کے مطابق سخت کارروائی یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ جتنا جلد ممکن ہو سکے اس وباء سے چھٹکارے کی راہ ہموار ہو۔