نیب اختیارات میں کمی کا معاملہ

حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس(دوسری ترمیم)کا اجراء دسمبر2019ء میں کیا تھا اس کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد نیب کے وہ اختیارات بحال ہوگئے ہیں جس سے تاجروں اور بیوروکریسی کو تحفظات تھے، حکومت اگر حزب اختلاف کو نیب قوانین میں ترمیم پر آمادہ نہ کر سکی تو ایک اور آرڈیننس کے ذریعے ختم شدہ آرڈیننس کودوبارہ لاگو کر نا پڑے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ وہ اس معاملے میںحزب اختلاف سے معاملات طے کرے۔ حکومت اور حزب اختلاف کے تعلقات کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ معاملات طے ہوجائیں گے بعض بڑی اور اوسط جماعتوں نے نیب قوانین میں ترمیم کی مخالفت شروع کردی ہے، حکومت پارلیمان کا اجلاس بلانے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے، ان حالات میں ایک مرتبہ پھر آرڈیننس کا ہی سہارا لینا پڑے گا، ملک میں پارلیمان کی موجودگی میں اجراء جمہوری نظام اور سیاستدانوں وحکومت سبھی کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ قانون سازی کی ضرورت محسوس ہونے کے باوجود اس کی نوبت کیوں نہیں آتی۔ نیب کے اختیارات کی بحالی کے بعد وہ تمام مقدمات جن میں اس آرڈیننس کا حوالہ دے کر عدالت سے رعایت کی درخواستیں کی گئی تھیں وہ اور اس کے علاوہ اس سے مستفید ہونے والے سب متاثر ہوں گے جس میں بڑی جماعتوں کے عمائدین خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ نیب کو آہنی پنجوں سے محروم کرنے کی ضرورت سے اتفاق کے باوجود سیاسی جماعتیں عملی طور پر قانون میں ترمیم پرشاید اسلئے تیار نہیں کہ بھگتنے والے حکمرانوں کی باری کے منتظر ہیں۔ نیب قوانین میں ترمیم نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہی شاید یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اس میں ترمیم میں سنجیدہ نہیں۔ اس مرتبہ چونکہ سیاسی جماعتوں کے چوٹی کے رہنما تک نیب کو بھگت رہے ہیں اور ان کا خیال ہوگا کہ اب اس ترمیم کا فائدہ دوسروں کو ہوگا۔اس میں عدم دلچسپی کی ان کی ایک بڑی وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ بیوروکریسی اور تاجربرادری دبائو کے باعث فیصلہ کرنے اور سرمایہ کاری سے گریزاں ہے، ملک میں بنے سیاسی ماحول میں بہتری لانے میں حکومت تیار نہیں، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان ایک سو بیس دنوں میں مفاہمت کی بات چیت ہو جاتی اور آرڈینس کے اختتام تک کسی مسودے پر اتفاق ہو جاتا، حکومت کی جانب سے آرڈینس کی مدت پوری ہونے کے بعد خواب غفلت سے بیدار ہونا یا پھر جان بوجھ کر ایسا کرنے سے یا تو حکومت کو نیا آرڈیننس لا کر تحفظات کا شکار عناصر کو وقتی ریلیف دینا ہوگا۔ اس سے وقتی طور پر تو فائدہ ضرور ہوگا لیکن تلوار لٹکی رہے گی، حکومت کو بہرحال سرکاری ملازمین اور سرکاری عہدیداروں میں اعتماد پیدا کرنا ہے، ایسے میں آرڈیننس سے سیاستدان خودبخود مستفید ہوں گے، ملک میںجب تک اعتماد کی فضاپیدا نہ ہوگی اور سیاستدانوں کے درمیان ضد وانا کی دیواریں موجود رہیں گی نہ صرف قانون سازی اور پارلیمان کی بالادستی متاثر رہے گی بلکہ ملکی معاملات بھی احسن طریقے سے آگے بڑھانا ممکن نہ ہوگا۔ نیب قوانین میں ترمیم کے درپیش امتحان کا نتیجہ ایک مرتبہ پھر وہی نکل آئے گا جس سے بچنے کی واحد صورت اعلیٰ سطح پر رابطہ ہی نظر آتا ہے۔ وزیراعظم نے گزشتہ مرتبہ بھی کمیٹی تشکیل دے کر حزب اختلاف سے بات کرنے کی جوکوشش کی تھی وہ ناکام رہی تھی، اس مرتبہ بھی اسی کا اعادہ ہو سکتا ہے۔ سیاستدانوں کو پارلیمان کی فعالیت اور قانون سازی کیلئے قومی ادارہ اور بالادست ثابت کرنے کیلئے مفاہمت اور کم ازکم نظام کو چلانے کی حد تک ہی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ جمہوری نظام پر حرف نہ آئے۔
عدم شفافیت کا سوال نہ اُٹھے
ہمارے نمائندے کے مطابق یو این ڈی پی کی جانب سے ستائس لاکھ دس ہزار سے زائد متاثرہونے والے ملازمین اور کاروباری طبقے کی مدد کیلئے ڈیٹا مرتب کر لیا گیا ہے جس میں ہول سیل،ریٹیل، ہوٹل انڈسٹری، مینو فیکچرنگ، ٹرانسپورٹیشن، مواصلات اور سماجی بہبود کے شعبے شامل ہیں، علاوہ ازیں بھی کئی شعبے ایسے ہیں جو صرف متاثر ہی نہیں ہوئے بلکہ شدید متاثر ہوئے ہیں اور ان کا کاروبار لاک ڈائون کے بعد بھی بحال نہ ہونے کا خطرہ ہے اور ان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے، ان میں سے ایک ٹریول ایجنٹس اور اورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کا شعبہ ہے جن کا نہ صرف کاروبار بند ہے بلکہ ان پر لوگوں کے بقایا جات کی رقم بھی بنتی ہے۔ امداد وبحالی کے عمل میں اس طرح کے شعبوںکو ترجیح ملنی چاہئے جو معدومیت اور دیوالیہ پن کے کنارے کھڑے ہیں، جہاں تک مجموعی صورتحال کا تعلق ہے سوائے سرکاری ملازمین کے کوئی دوسرا شعبہ ایسا نظر نہیں آتا جس کی آمدنی متاثر نہ ہوئی ہو، نجی اداروں سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو ملازمتوں سے برطرفی اور بیرون ملک سے لوگوں کی بڑے پیمانے پر واپسی بحران کا ایک اور بڑا سبب ہے، ایسے میں حکومت ہی کی طرف سب کا دیکھنا اپنی جگہ لیکن حکومت کے وسائل کی صورتحال بھی کوئی تسلی بخش نہیں۔ بدلتے معاشی حالات کے پیش نظر دنیا کورونا کیساتھ معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے، غذائی بحران کا بھی خدشہ ہے اس طرح کی صورتحال سے روزگار اور کاروبار مزید متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان حالات میں حکومت سے پوری طرح تو امداد کی توقع نہیں بہرحال یو این ڈی پی کی مرتب کردہ رپورٹ اوراعدادوشمار خاصے جامع ہیں جن کی مدد سے متاثرین کی نشاندہی اور تعداد دونوںسامنے آئی ہیں۔ کسی بھی سرکاری امداد کی تقسیم میں عدم شفافیت،اقربا پروری، بدنظمی، حقدار افراد کی جانب سے محرومی کی شکایات اور بااثر ورسوخ اور سیاسی بنیادوں پر امدادی رقم کا حصول اور تقسیم کاروں کی بد عنوانیاں وہ واضح شکایات مسائل اور معاملات ہیں جن کے اعادے کی ضرورت نہیں۔ صوبائی حکومت اعداد وشمار کا ایک بار دوبارہ جائزہ لینے کے بعد جو حتمی فہرست مرتب کرے اس میں محولہ امور کا پوری طرح خیال رکھا جائے اور ان امکانات کو کم سے کم کیا جائے۔ فی الوقت حکومت نے امداد وبحالی کے کسی طریقہ کار کا اعلان نہیں کیا حکومت جو بھی مناسب سمجھے طریقہ اختیار کرے لیکن شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور حقدار کو اس کے حق کی فراہمی بلا تخصیص یقینی بنائی جائے۔