افغان حکومت کو تنہا نہ چھوڑا جائے

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے طالبان کے ساتھ دنیا کے مضبوط تعلقات کی بحالی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان کے حکمرانوں کو دوبارہ عالمی تنہائی کا شکار کرنے کی صورت میں خطرناک نتائج سے خبردار کیا ہے۔ بلاول بھٹو نے امریکا کی جانب سے طالبان پر عدم اعتماد کے بعد افغانستان کے منجمد اثاثے سوئٹزرلینڈ کے پروفیشنل فنڈ میں منتقل کئے جانے کے بعد متوازی گورننس قائم کرنے کے خلاف خبردار کیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے ماضی سے سیکھا ہے کہ جب ہم اپنے ہاتھ جھاڑ دیتے ہیں اور پیٹھ پھیر لیتے ہیں تو ہم اپنے لیے غیر ارادی منفی نتائج اور مزید مسائل پیدا کرتے ہیں۔وزیر خارجہ نے دنیا کو جن امور کی طرف متوجہ کیا ہے اس کا تجربہ دنیا قبل ازیں کر چکی ہے جب افغانستان پر طالبان کی پہلی حکومت قائم ہوئی تھی اس وقت بھی دنیا نے ان کو نظر انداز کرنے کی اسی طرح کی غلطی کی تھی جس کے نتیجے میں انہوں نے یکسوئی کے ساتھ ایک ایسی راہ اختیار کی جوپوری دنیا کے لئے ناقبل قبول اور مشکلات کا باعث بنا بعدازاں دنیا کو نہ صرف افغانستان میں عسکری طور طریقے اختیار کرنے پڑے بلکہ اس کی ناکامی کے بعد بالاخر طالبان سے مذاکرات کی ضرورت پڑی دوحہ معاہدے کے بعد ہی غیر ملکی فوجیوں کا انخلاء ممکن ہوا اب ایک مرتبہ پھر اگر وہی غلطی دہرائی گئی تو لامحالہ اس کا نتیجہ پہلے سے مختلف نہیں نکل سکتا یہ درست ہے کہ طالبان کی موجودہ حکومت اور پہلی حکومت میں بہت فرق ہے اس مرتبہ طالبان کی حکومت پر شدت پسندی کا الزام لگانا آسان نہیں البتہ جن معاملات پروہ کسی قسم کی مصلحت کا شکار ہونے کے لئے تیار نہیں یہ ان کا حق اور ان کا نظریہ ہے اس میںمداخلت نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی وہ اس میں کسی کو مداخلت کی اجازت دیں گے بنا بریں ان پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی سعی کی بجائے ان کے معاملات کو سمجھا جائے بالکل اسی طرح جس طرح کوئی بھی ملک طالبان کے نظریات اور ان کے عوامل کو قبول کرنے کے لئے تیارنہیں اور نہ ہی ان کو مجبور کیا جا سکتا ہے اسی طرح ان کو بھی مجبورکرنے کی کوشش عبث اور بلاوجہ ہو گی جس کا تقاضا ہے کہ دنیا ان کو دیوار سے لگانے کی بجائے ان سے معاملت اور سفارتی تعلقات قائم کرکے ایک نئی ا بتداء کرے اس کے بعد ہی ان سے جن معاملات پر بات ہو گی اور ان کا جو موقف ہوگا وہ معقول صورت ہو گی دیکھا جائے تو جہاں افغان حکومت کو تسلیم نہ کرکے ان کو سال بھر سے تنہا رکھا گیا مگر انہوں نے کامیابی سے ایک سال مکمل کرکے اور خاص طورپر افغانستان میں مکمل طور پر امن واستحکام قائم کرکے ثابت کر دیا کہ افغانستان پر حکومت کرنے کا وہ پورا حق اور صلاحیت رکھتے ہیں اس کے بعد بھی ان سے دوری کا کوئی جواز نہیں یہی وجہ ہے کہ روس اور چین سے طالبان کی معاملت شروع ہوچکی ہے اور تجارتی وکاروباری تعلقات تمام ممالک کی ضرورت ہے اس میں پاکستان کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے طالبان حکومت پاکستان ‘ چین اور روس سے باہمی تجارت استوار کرکے بقاء کی جنگ میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ان تینوں ممالک کے ساتھ تعلقات ان کی بقاء کے لئے کافی ثابت ہو سکتے ہیں اس مرحلے پر ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھی افغانستان کے منجمد اثاثے طالبان حکومت کے حوالے کرکے ایک مثبت سمت سفر کا آغاز کرے اور یہی مناسب موقع ہے اگر اس میں تاخیر ہو گئی اور وہ ان وسائل کے بغیر ہی سنبھل گئے تو دنیاسے ان کے تعلقات کی نوعیت وہ نہیں ہو سکتی جس کی ضرورت ہے دنیا کی جانب سے متوازی قسم کا انتظام کرنے سے قبل اس امر کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا جانا چاہئے کہ افغانستان کے حوالے سے ایک مرتبہ پہلے ان کی پالیسیاں اندازے حکمت عملی او ر وسائل و عسکری مساعی سبھی ناکامی سے دو چار ہو چکے ہیں جس سے کہیں کم نوعیت کی ان کی تازہ سوچ سے افغان حکومت کس حد تک متاثر ہوسکے گی اور اس کا رد عمل کیا آئے گا اسے سمجھنا زیادہ مشکل نہیں اس کے باوجود افغان حکومت اور عوام کے وسائل و امانت کے حوالے سے اگر افغان حکومت کے لئے کوئی ناقابل قبول فیصلہ کیا گیا تو اس کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے ماضی کے برعکس اس مرتبہ طالبان حکومت کی پالیسیاں اور دنیا کے ممالک سے ان کے تعلقات کی نوعیت واضح طور پر ہم آہنگی اور مربوط ہے جس کا تقاضا ہے کہ دنیا بھی ان کو اس نظر سے دیکھے اور ان سے تعاون کا فیصلہ کرے بہتر ہو گا کہ اب دنیا افغانستان کے معاملات اور ان کے اثاثہ جات اور بطور ملک ان سے معاملت کے لئے معروف طریقے اختیار کرنے کا فیصلہ کرے اور افغانستان میں قائم حکومت کو تسلیم کرکے افغان عوام کی مشکلات دور کرنے کے ضمن میں مساعی میں حصہ لے افغانستان میں دنیا کی پالیسیوں کے باعث جو عدم استحکام اور نقصانات ہوئے ہیں اس کا بھی ازالہ کرنے کے لئے دنیا کو آگے آنا چاہئے وہاں مداخلت کے ضمن میں جس قدر وسائل صرف ہوے اگر اس کا نصف بھی تعمیر کے لئے خرچ ہو تو افغانستان ایک مستحکم ملک کے طور پر دنیا کی صفوں میں کھڑا ہوگا اور اس کے حوالے سے دنیا کی تشویش اور خاص طور پرخطے کے ممالک کی تشویش ومشکلات کا ازالہ ہو گا ایسا کرنا خطے کے ممالک ہی کی نہیں جملہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے تاکہ جوعدم استحکام ان کی وجہ سے افغانستان شکار ہوا اس کا ازالہ ہو افغانستان دوبارہ مستحکم ملک اور وہاں کی حکومت عوام کے مسائل کے حل کے قابل اور تعمیر و ترقی کے راستے پر گامزن ہو۔

مزید دیکھیں :   سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں